بند کریں
صحت صحت کی خبریںماہرین نے سانپ کے کاٹے کی موثر دوا کے ناپید ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/09/2015 - 16:17:51 وقت اشاعت: 10/09/2015 - 13:47:12 وقت اشاعت: 10/09/2015 - 13:47:12 وقت اشاعت: 09/09/2015 - 13:19:34 وقت اشاعت: 09/09/2015 - 13:05:55 وقت اشاعت: 08/09/2015 - 16:45:13 وقت اشاعت: 08/09/2015 - 14:41:25 وقت اشاعت: 07/09/2015 - 16:51:15 وقت اشاعت: 07/09/2015 - 16:51:15 وقت اشاعت: 07/09/2015 - 16:39:41 وقت اشاعت: 07/09/2015 - 16:19:33

ماہرین نے سانپ کے کاٹے کی موثر دوا کے ناپید ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 08 ستمبر۔2015ء)ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں سانپ کے کاٹے کی سب سے موثر دواوں میں سے ایک ختم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔میڈیسن سینس فرنٹیئرز (ایم ایس ایف)کا کہنا ہے کہ فیو افریق نامی دوا کی جنوبی افریقی ممالک میں شدید کمی ہے۔ خیال رہے کہ اس دوا سے دس اقسام کے سانپوں کے کاٹے کا علاج کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس دوا کی آخری خوراک آئندہ سال جون 2016میں ختم ہو جائے گی جبکہ اس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹرز ود آٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ فیو افریق ہی زہر کے خلاف واحد تریاق ہے جو موثر اور محفوظ ہے۔تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس محفوظ اور موثر دوا کی عدم موجودگی کا مطلب بیشمار اموات ہوں گی۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سانپ کا کاٹنا ایک نظر انداز مسئلہ ہے اور اس جانب توجہ دینے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق ہر سال تقریبا 50 لاکھ افراد کو سانپ کاٹ لیتے ہیں جس میں سے ایک لاکھ مر جاتے ہیں جبکہ چار لاکھ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو جاتے ہیں۔صرف جنوبی افریقی ممالک میں 30 ہزار افراد سانپ کے کاٹنے سے ہر سال مرجاتے ہیں جبکہ تقریبا آٹھ ہزار کے اعضاکو کاٹنا پڑتا ہے۔

08/09/2015 - 16:45:13 :وقت اشاعت