بند کریں
صحت صحت کی خبریں موسم سرما کی آمد کے سا تھ ہی ناک ، کان اور گلے کی بیماریوں میں اضافہ ہونے لگا

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/10/2015 - 14:08:12 وقت اشاعت: 05/10/2015 - 14:03:57 وقت اشاعت: 05/10/2015 - 12:13:09 وقت اشاعت: 03/10/2015 - 17:20:43 وقت اشاعت: 03/10/2015 - 16:58:26 وقت اشاعت: 03/10/2015 - 16:08:42 وقت اشاعت: 03/10/2015 - 13:13:28 وقت اشاعت: 03/10/2015 - 11:55:00 وقت اشاعت: 02/10/2015 - 17:04:11 وقت اشاعت: 02/10/2015 - 12:53:53 وقت اشاعت: 01/10/2015 - 16:19:32

موسم سرما کی آمد کے سا تھ ہی ناک ، کان اور گلے کی بیماریوں میں اضافہ ہونے لگا

فیصل آباد۔3 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 03 اکتوبر۔2015ء)موسم گرما کی رخصتی اور موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی ناک ، کان، گلے کی بیماریوں میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 03 اکتوبر۔2015ء کے سروے کے دوران مختلف فزیشنز اور ای این ٹی سپیشلسٹس سمیت ماہرین امراض سینہ نے بتا یا کہ خشک موسم اور بے جا آلودگی سمیت ٹھنڈے پانی اور چٹ پٹی چیزوں کے استعمال سے ناک ، کان ، گلے کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتا یا کہ ان بیماریوں کا شکار چھوٹے بچے اور بوڑھے زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا والدین کو بچوں کے معاملے میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بچے ، بوڑھے ، جوان مرد و خواتین فوری طور پر ٹھنڈے پانی ، کولڈ ڈرنکس ، کھٹے مشروبات ، چٹ پٹی و تلی ہوئی اشیاء ، غیر معیاری بناسپتی گھی وغیرہ کے استعمال سے گریز کریں نیز ایئر کنڈیشن کا استعمال فوری طور پر بند کر دیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ نزلہ اور زکام کی صورت میں گرم پانی کے غرارے اور گرم مشروبات کاا ستعمال بھی مفید ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیم گرم پانی میں تھوڑا سا نمک یا ایک آدھ ڈسپرین کی ٹیبلٹ بھی ڈالی جائے تو اس کے مزید بہتر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بچوں ، بڑوں ، بوڑھوں میں سانس لینے کی تنگی محسوس ہو تو بھاپ بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین طب نے کہا کہ دن میں پانچ بار وضو کرنے سے بھی ان بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بچوں میں انفیکشن زیادہ ہو تو بچوں کو سکول نہ بھیجا جائے تاکہ ان کے ساتھی بچے بھی اس مرض میں مبتلا نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناک ، کان ، گلے ، کھانسی ، نزلہ ، زکام ، بخار کی صورت میں گھریلو ٹوٹکوں کی بجائے فوری طور پر اچھے و مستند معالج سے رابطہ کیا جائے تاکہ مرض کا بر وقت علاج ممکن ہو سکے۔

03/10/2015 - 16:08:42 :وقت اشاعت