بند کریں
صحت صحت کی خبریںتنہائی کا شکار عورتوں کے مقابلے میں اکیلے رہنے والے مردوں کی غذا زیادہ خراب ہوتی ہے،تازہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/11/2015 - 11:43:09 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 16:33:42 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 15:38:44 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 13:48:14 وقت اشاعت: 09/11/2015 - 12:56:13 وقت اشاعت: 08/11/2015 - 12:24:36 وقت اشاعت: 07/11/2015 - 16:45:02 وقت اشاعت: 07/11/2015 - 13:53:27 وقت اشاعت: 07/11/2015 - 12:29:32 وقت اشاعت: 06/11/2015 - 13:28:55 وقت اشاعت: 06/11/2015 - 12:39:35

تنہائی کا شکار عورتوں کے مقابلے میں اکیلے رہنے والے مردوں کی غذا زیادہ خراب ہوتی ہے،تازہ تحقیق

تعاون اور صحت مند غذا کے لیے حوصلہ افزائی کی کمی ایسے عوامل ہیں جن سے غیر صحت مند خوراک کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے،ڈاکٹر کیتھرین ہانا

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 نومبر۔2015ء)تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا کہ تنہائی کا شکار عورتوں کے مقابلے میں اکیلے رہنے والے مردوں کی غذا زیادہ خراب ہوتی ہے۔تنہا رہنے اور کھانے کی مقدار کے درمیان روابط کی تحقیقات کے لیے یہ پہلا جامع تحقیقی جائزہ ہے،جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکیلے رہنے والے لوگ غیر صحت مند اور کم غذائیت والی غذائیں کھانے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔

جریدہ 'نیوٹریشن ریویو ' میں شائع ہونے والے پیپر میں محققین نے لکھا کہ ناکافی کھانا پکانیکی مہارت، خریداری کے لیے کسی کا ساتھ نا ہونا اور خاص طور پر کھانے پکانے میں توجہ کا فقدان بعض ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے اکیلے رہنے والے لوگوں کی کھانے پینے کی عادات مختلف ہوتی ہیں۔ کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے تحقیق کاروں کی ٹیم نے اکیلے رہنے اور غذائیت کی انٹیک کیدرمیان تعلق پر تحقیقات کرنے کے لیے 41 مطالعوں کا تجزیہ کیا ہے۔

کوئنز یونیورسٹی میں ایکسرسائز اور نیوٹریشنز سائنس کے شعبے سے وابستہ تحقیق کار کیتھرین ہانا اور ڈاکٹر پیٹر کولنز نے کہا کہ ہمارے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اکیلے رہنے والے لوگوں کی غذا ئیں متنوع نہیں تھیں جبکہ ان کی خوراک میں کچھ بنیادی غذائی گروپوں مثال کے طور پر پھلوں، سبزیوں اور مچھلی کی کمی تھی۔


ڈاکٹر ہانا کہتی ہیں تنہائی کا شکار افراد عمر ،صنف ،تعلیم سماجی اور اقتصادی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن ان میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ سب خود اپنے لیے کھانا پکانے کے لیے تیار نہیں تھے اور ان سب کے پاس کھانا نا پکانے کے لیے مختلف وجوہات تھیں۔

مثال کے طور پر ایک شخص جو طلاق یافتہ یا شریک حیات کے دنیا سے گزر جانے کے بعد غمزدہ ہے، ممکن ہے اس سے پہلے شاید اپنی شریک حیات کے پکائے ہوئے کھانوں پر انحصار کرتا تھا اور کھانا پکانے کی ناکافی مہارت کی وجہ سے اپنے لیے صحت مند کھانا نہیں تیار کر سکتا ہے۔محققین نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ تنہائی صحت مند کھانوں کیلئے ایک رکاوٹ نظر آتی ہے مثال کے طور پر کھانے پکانے میں توجہ اور لطف اندوزی کی کمی کی وجہ سے اکیلے پن کا شکار افراد تیار شدہ کھانوں کو ترجیح دینا شروع کردیتے ہیں۔

انھوں نے مزیدکہا کہ تعاون کی کمی اور صحت مند غذا کیلیے حوصلہ افزائی کی کمی ایسے عوامل ہیں جن سے غیر صحت مند خوراک کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ڈاکٹر کیتھرین ہانا کے مطابق اقتصادی عوامل بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتے ہیں جو ان کے کھانوں میں مچھلی ،پھل اور سبزیوں کی کم کھپت کی وضاحت کرتے ہیں۔ اسی طرح اکیلے رہنے والے لوگوں کی نفسیاتی مشکلات کا بھی ان کی غذا پر اثر تھا جیسا کہ ایک پچھلی تحقیق میں پتا چلا تھا کہ تنہائی بزرگوں میں غذائی قلت کی ایک اہم پیشگوئی ہے۔

08/11/2015 - 12:24:36 :وقت اشاعت