بند کریں
صحت صحت کی خبریںجڑوا ں شہرو ں میں غیر معیاری اور مضر صحت دودھ کی فروخت

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/05/2016 - 11:40:40 وقت اشاعت: 11/05/2016 - 11:40:40 وقت اشاعت: 10/05/2016 - 19:26:39 وقت اشاعت: 10/05/2016 - 17:01:17 وقت اشاعت: 10/05/2016 - 16:17:47 وقت اشاعت: 10/05/2016 - 14:00:51 وقت اشاعت: 10/05/2016 - 13:35:58 وقت اشاعت: 09/05/2016 - 22:43:43 وقت اشاعت: 09/05/2016 - 15:18:38 وقت اشاعت: 09/05/2016 - 14:32:33 وقت اشاعت: 09/05/2016 - 13:17:12

جڑوا ں شہرو ں میں غیر معیاری اور مضر صحت دودھ کی فروخت

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 مئی۔2016ء) شہرو چھاؤنی کے گنجان علاقوں سمیت وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے پوش ترین علاقوں میں بھی انتہائی غیر معیاری اور مضر صحت دودھ کی فروخت میں دودھ کے ہول سیلروں اور پرچون فروشوں کے مکروہ کردارکا انکشاف ہوا ہے جڑواں شہروں میں دودھ کے کاروبارمیں 3اقسام زیادہ زیر استعمال ہیں جن میں ایک تو بھینسوں کا دودھ ،اس کے بعد سب سے زیادہ ٹینکروں کے ذریعے سرگودھا اور دیگر علاقوں سے آنے والا مضر صحت دودھ اور تیسری قسم انتہائی غیر معیاری خشک دودھ کی ہے ذرائع کے مطابق بھینسوں کے دودھ میں بھی حاملہ خواتین کی زچگی کے دوران لگایا جانے والا” اوکسی ٹوسن“(OXYTOCIN)انجکشن استعمال کیا جاتا ہے کسی بھی میڈیکل سٹور سے20روپے میں باآسانی دستیاب 50سی سی انجکشن کی2سی سی مقدار بھینس کو دے کر کسی بھی وقت بھینسوں سے مطلوبہ دودھ حاصل کیا جا سکتا ہے اسی طرح ٹینکروں اور پلاسٹک کے ڈرموں کے ذریعے سپلائی کئے جانے والے دودھ کو زیادہ دیرتک محفوظ بنانے کے لئے اس میں کافور اور کیمیکل ملا دیا جاتا ہے جبکہ ٹینکروں کے اندر صفائی پر بھی کوئی دھیان نہیں جاتا ٹینکروں میں موجود بدبو کو ختم کرنے کے لئے اس میں کافور ملایا جاتا ہے مقامی سطح پر اندرون شہردودھ کا دھندہ کرنے کے لئے ننکاری بازار اور راجہ بازار سے انتہائی سستے داموں غیر معیاری کھلاخشک دودھ خرید کر ایک کلو پاؤڈر میں 16سے18لٹر پانی ملا کر دودھ تیار کیا جاتا ہے اور پھر اس دودھ کو گاڑھا کرنے کے لئے بال صاف کرنے والا پاؤڈر (HAIR REMOVER POWDER )ملانے کے ساتھ ذائقہ برقرار رکھنے کے لئے ایک من دودھ میں 220گرام کھویا اور چینی ملاکر دودھ کی قدرتی مٹھاس برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ذرائع کے مطابق دودھ کی فروخت کے نام پرمکروہ دھندہ کرنے والے یہ عناصر کسی بھی گوالے سے 2من بھینسوں کا دودھ حاصل کر کے اس میں غیر معیاری ذرائع استعمال کر کے اسے10سے 12من دودھ میں تبدیل کرتے ہیں اورپھر یہ دودھ معروف ہو ٹلوں ،بڑی بیکریوں اور مٹھائی کی دکانوں کے علاوہ جڑواں شہروں کے پوش اور مہنگے رہائشی علاقوں میں بھی فروخت کیا جاتا ہے اس طرح خالص دودھ کی فروخت کے دعویداردودھ فروش بھینسوں کے30لٹر دودھ میں10لٹر پانی ملا تے ہیں جس کی قیمت 80روپے فی لٹر مقرر کی جاتی ہے جبکہ 5لٹر پانی ملانے والے یہ دودھ 90روپے لٹر کے حساب سے فروخت کرتے ہیں دودھ میں پانی کی ملاوٹ میں ایک خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ نالہ کورنگ کے کنارے آباد دودھ فروش کورنگ کا پانی ہی دودھ میں ملاتے ہیں راولپنڈی میں رات10بجے کے بعد صادق آباد، مسلم ٹاؤن ،چاہ سلطان،ڈھوک رتہ، رتہ امرال، پیرودھائی ،خیابان سرسیداورسٹلائیٹ ٹاؤن سمیت دیگر گنجان علاقوں میں کھلے عام ٹینکر دکانوں پر دودھ کی سپلائی دیتے ہیں جبکہ کیمیکل اور غیر معیاری خشک دودھ کے علاوہ انتہائی مضر صحت اجزا کی ملاوٹ سے شہر بھر میں مہلک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت شہرمیں مجموعی طور پر3ہزار سے زائد بھینسیں موجود ہیں جن سے یومیہ95ہزار لٹر دودھ حاصل ہوتا ہے جو صرف راولپنڈی کی موجودہ آبادی کی دودھ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے انتہائی ناکافی ہے یہی وجہ ہے کہ شہر بھر میں جعلی گوالوں اور دودھ کے نام پر زہر فروشی کا دھندہ زور پکڑ چکا ہے جبکہ شہر بھر میں تمام دودھ فروشوں نے من پسند ریٹ مقرر کر رکھے ہیں اس وقت شہر میں دودھ کی قیمت 60روپے سے 100روپے فی لٹر مقرر ہے جبکہ مضر صحت دودھ کی فروخت کے لئے بیشتر دودھ فروشوں نے پر کشش پیکجز لگا رکھے ہیں جس کے تحت شہریوں کو 2لٹر دودھ کے ساتھ 1لٹر دودھ مفت دینے کا جھانسہ دیا جاتا ہے ادھرضلعی انتظامیہ کا6سال قبل ”ماڈل گوالہ کالونی “کا مجوزہ منصوبہ بھی انتظامی سست روی کے باعث کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیاگوالہ کالونی کے منصوبے کے تحت گوالوں کی اندرون شہر سے بے دخلی کی آڑ میں ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن ،محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ نے گوالوں سے ریٹ مقرر کر لئے انتظامی ذرائع کے مطابق 2010میں روات میں چھنی پل کے قریب 5ہزار کنال پر جدید گوالہ کالونی کا منصوبہ تجویز کیا گیا تھا جس کے تحت اندرون شہر بالخصوص نالہ لئی اور برساتی نالوں کے کنارے آباد تمام گوالوں کو شہر سے بے دخل کر کے کالونی میں منتقل کیا جاناتھاجبکہ اس کالونی کا فرنٹ کمرشل استعمال کے لئے مختص ہونا تھا جس کے تحت اس کمرشل حصے میں جانوروں کی خوراک اور ادویات کے لئے دکانیں بنائی جانا تھیں لیکن اس منصوبے پر صرف2ہزار کنال اراضی مختص ہو سکی جبکہ اس کے بنیادی انفراسٹرکچر یا ترقیاتی حوالے سے بھی تاحال کوئی کام شروع نہیں ہو سکا جس سے بیشتر گوالے شہر میں ہی موجود ہیں جبکہ بے دخلی کی آڑ میں متعلقہ اداروں نے بھی اپنے ریٹ بڑھا رکھے ہیں اور متعلقہ اداروں کے اہلکار مفت دودھ کے علاوہ ماہانہ نذرانے بھی وصول کرتے ہیں جعلی گوالوں کی جانب سے مضر صحت دودھ کی فروخت کے گھناؤنے دھندے کے ساتھ اصل گوالے بھی شہر میں انجکشن اور ملاوٹ زدہ دودھ فروخت کرنے لگے جبکہ متعلقہ اداروں کے افسران اور عملے نے اپنی اپنی منتھلیاں مقرر کر کے آنکھیں بند کر لیں ۔

10/05/2016 - 14:00:51 :وقت اشاعت