بند کریں
صحت صحت کی خبریںملک بھر کے 55 ہزار حکماء طبیہ کالجوں اساتذہ اور طبی حلقوں میں شدیدبے چینی ‘نگران دورحکومت ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/07/2008 - 15:44:10 وقت اشاعت: 11/07/2008 - 12:49:17 وقت اشاعت: 10/07/2008 - 14:18:23 وقت اشاعت: 09/07/2008 - 20:10:29 وقت اشاعت: 08/07/2008 - 14:50:35 وقت اشاعت: 07/07/2008 - 12:41:27 وقت اشاعت: 06/07/2008 - 12:02:10 وقت اشاعت: 05/07/2008 - 22:22:31 وقت اشاعت: 05/07/2008 - 18:00:34 وقت اشاعت: 03/07/2008 - 20:14:43 وقت اشاعت: 02/07/2008 - 17:27:53

ملک بھر کے 55 ہزار حکماء طبیہ کالجوں اساتذہ اور طبی حلقوں میں شدیدبے چینی ‘نگران دورحکومت کے فیصلوں پر نظرثانی کا مطالبہ

ہارون آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 7جولائی 2008ء)نگران حکومت کی جانب سے پنجاب بھر کی سرکاری طبی ڈسپنسریوں ،تحصیل و ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں شعبہ طب و ہومیو میں ہربل میڈیکل آفیسر(حکماء)اور ہومیو ڈاکٹروں کے علاوہ دواسازوں (ہربل ڈسپنسرز)کی خالی ہونے والی اسمیوں پر مزید تقرریوں کی مخالفت کے حکم نامہ کے بعد ملک بھر کے 55 ہزار حکماء طبیہ کالجوں اساتذہ اور طبی حلقوں میں شدید احتجاجی بے چینی پیدا ہو گئی ہے ۔

پاکستان میں شعبہ طب پہلے ہے حکومتی عدم توجہی اور بے اعتنائی کا شکار ہے ۔اس پر نگران حکومت کے اس ظالمانہ حکم نامہ کو پاکستان بھر کے اطباء نے مسترد کر دیا ہے ۔پاکستان طبی کانفرنس کے مرکزی قائدین سنیئر صدر ڈاکٹر زاہد اشرف ، نائب صدر پروفیسر منصور العزیز ، سیکریٹری جنرل وید محمد جمیل خان ،پروفیسر حافظ خورشید ،پرنسپل حافظ محمد یونس ، پروفیسر حکیم محمد ظفراقبال نے اپنے ایک مراسلہ میں موجودہ حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس ظالمانہ فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے ۔

ملک بھر کی تمام طبی تنظیموں نے سیکریٹری ہیلتھ کو بھی خطوط لکھے ہیں جن میں اس فیصلہ کو واپس لینے کی گزارش کی گئی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہات میں رہائش پزیر ہے ۔جہاں دور دراز علاقوں میں ڈاکٹرز جانا پسند نہیں کرتے ۔اس علاقہ کہ آبادی کا زیادہ تر علاج ہربل طریقہ ہائے علاج پر مشتمل ہے ۔ان علاقوں میں بڑے شہروں کی طرح بڑے ہسپتال بنانا ممکن نہیں ہے ۔

مجبوراًان علاقوں میں عوامی حلقوں کو عطائیوں ،مداریوں اور نام نہاد حکیموں سے علاج کرانا پڑتا ہے ۔اگر حکومت ان دور دراز رورل ہیلتھ سنٹروں ،بنیادی ہیلتھ یونٹوں میں کوالیفائیڈ حکماء جو کہ جدید ترین علو م کے ماہر اور طبی علاج کے ماہرین کو تعینات کیا جائے تاکہ ان علاقوں میں قدرتی ،محفوظ ،مکمل ترین سائنٹیفک علم ،ما بعد اثرات سے مبرا،اور وفاقی وزارت صحت سے کوالیفائیڈ اطباء سے معیاری علاج کرا سکیں۔

ادھر ہمسایہ ملک بھارت ،چائینا ،سری لنکا ،نے علم طب کی پوری طرح سرپرستی کر کے مسئلہ صحت پر قابو پالیا ہے اور ہم گزشتہ ساٹھ سالوں میں ابھی تک تعصب ،اور تنگ نظری کا شکار ہو کر دنیا بھر کے طریقہ ہائے علاجوں کی ماں فطری قدرتی علاج طب سے جان بوجھ کر ظالمانہ سلوک کر کے بے شمار صحت کے مسائل سے دوچار ہیں ۔حضرت آدم  کی تخلیق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے علم کی بنیاد ہزاروں سالوں پر محیط ہے ۔

دنیا کے سارے طریقہ ہائے علاج اس سے نکلے ہیں ۔اب تو یورپ سمیت دنیا کے دیگر درجنوں ممالک جنہوں نے ایلوپیتھک کو ایجاد کیا ہے تسلیم کیا ہے کہ اس کے مابعد اثرات ،کیمیکل کے قدرت مخالف اثرات سے بے شمار تباہ کن امراض جنم لے رہی ہیں ۔ اور امراض محض جراثیمی ہی نہیں ہوتی روحانی اور دیگر اسباب کے باعث بھی ہوتی ہیں ۔اور انہوں نے ہر میڈیکل یونیورسٹی میں اس موثر فن کی کلاس شروع کر دی ہے ۔عالمی ادارہ صحت نے اس طریقہ علاج کو متبادل طریقہ علاج کے بطور تسلیم کیا ہے ۔دنیا بھر میں اربوں روپے اس علاج کی میڈیسن کا کاروبار ہو رہا ہے ،یورپ میں فوڈ سپلیمنٹ کے نام سے یہ ادویات دھڑا دھڑ استعمال ہو رہی ہیں ۔
07/07/2008 - 12:41:27 :وقت اشاعت