بند کریں
صحت صحت کی خبریںتھلیسیمیاکے خاتمہ کیلئے سرکاری سطح پراقدامات ناگزیرہیں،صاحبزادہ حلیم

صحت خبریں

وقت اشاعت: 24/08/2016 - 16:11:18 وقت اشاعت: 24/08/2016 - 14:33:22 وقت اشاعت: 24/08/2016 - 13:51:02 وقت اشاعت: 24/08/2016 - 12:04:21 وقت اشاعت: 24/08/2016 - 12:04:21 وقت اشاعت: 23/08/2016 - 14:33:29 وقت اشاعت: 22/08/2016 - 15:23:33 وقت اشاعت: 22/08/2016 - 14:17:59 وقت اشاعت: 22/08/2016 - 14:16:56 وقت اشاعت: 22/08/2016 - 14:09:18 وقت اشاعت: 20/08/2016 - 16:45:03

تھلیسیمیاکے خاتمہ کیلئے سرکاری سطح پراقدامات ناگزیرہیں،صاحبزادہ حلیم

پشاور۔23 اگست (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 اگست۔2016ء)فرنٹیئرفاؤنڈیشن کے چیئرمین صاحبزادہ محمد حلیم نے کہا ہے کہ تھلی سیمیا، ہیموفیلیا ودیگرامراض خون میں مبتلا بچوں کوبلامعاوضہ خون اور اجزائے خون فراہم کیاجارہاہے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام میں عطیات خون کے حوالے سے شعور اجاگرکئے بغیرامراض خون میں مبتلا بچوں اور دیگرمریضوں کوانتقال خون میں مشکلات حائل رہیں گی،ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امراض خون میں مبتلا بچوں کیلئے بلڈ کیمپ تولگائے جاتے ہیں تاہم جس شرح سے خون کے عطیات جمع ہوپاتے ہیں وہ ناکافی ہیں ،انہوں نے کہا کہ کزن میرج تھیلی سیمیا کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے جس کے خاتمے کیلئے سرکاری سطح پراقدامات کاہونا بہت ضروری ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ خون عطیہ کرنے سے انسانی سحت پرکوئی فرق پڑتا ہے نہ جسم میں کوئی کمزوری پیدا ہوتی ہے ایک صحت مندانسان تین ماہ میں ایک بار خون عطیہ کرسکتا ہے تاہم انہوں نے بلڈ ڈونر ٹیموں پرزور دیا کہ وہ بلڈ کیمپوں کے دوران خون عطیہ کرنے والے افراد کاایچ بی لیول ضرورچیک کیاکریں، انہوں نے کہا کہ بچوں کوانتقال خون سے قبل عطیات خون کی مکمل سکریننگ ہوتی ہے جس کامقصد انہیں دیگر خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔


23/08/2016 - 14:33:29 :وقت اشاعت