بند کریں
صحت صحت کی خبریںبجٹ میں سگریٹوں پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 10فیصد اضافے کا فیصلہ

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/06/2009 - 18:03:44 وقت اشاعت: 12/06/2009 - 17:27:27 وقت اشاعت: 12/06/2009 - 16:55:36 وقت اشاعت: 12/06/2009 - 12:34:43 وقت اشاعت: 11/06/2009 - 20:37:19 وقت اشاعت: 10/06/2009 - 22:05:43 وقت اشاعت: 09/06/2009 - 15:31:04 وقت اشاعت: 08/06/2009 - 20:35:40 وقت اشاعت: 03/06/2009 - 15:20:05 وقت اشاعت: 01/06/2009 - 13:11:40 وقت اشاعت: 31/05/2009 - 15:51:34

بجٹ میں سگریٹوں پرفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 10فیصد اضافے کا فیصلہ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10جون۔2009ء) حکومت نے آمدہ بجٹ میں سگریٹوں پر 10فیصد ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کر لیاتا کہ ٹیکس وصولی میں اضافہ کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق حکومت سگریٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح قیمت فروخت کا 63فیصد ہے جبکہ 16فیصد سیلز ٹیکس کے علاوہ ایک فیصد سپیشل ایکسائز ڈیوٹی بھی لاگو ہے تاہم حکومت پاکستان نے آمدہ بجٹ میں سگریٹوں پر 10فیصد ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق اس سے ٹیکس چوری اور غیر قانونی خریدوفروخت میں اضافہ ہو گاکیونکہ ماضی میں ایکسائز سیلز ٹیکس میں اضافے سے ٹیکس چوری میں بے تحاشا اضافہ ہوااورگزشتہ چار سالوں میں ٹیکس چوری سے قومی خزانے کو 28ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ایک طرف حکومت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کر رہی ہے اور دوسری طرف ٹیکس چوری میں اضافے کو روکنے سے قاصر ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں 20سے 25جعلی اور غیر قانونی سگریٹ ساز کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

یہ کمپنیاں اوکاڑہ‘ سرگودھا‘ بہاولنگر‘ چکوال‘ آزاد کشمیر اور صوبہ سرحدتک پھیلی ہوئی ہیں اور ٹیکس چوری سے لے کر جعلی اور ناقص تمباکو استعمال کر رہی ہیں۔ سگریٹ کے ایک پیکٹ پر حکومت قریباً 8 روپے ایکسائز ڈیوٹی وصول کرتی ہے جبکہ مارکیٹ میں ایسے کئی برانڈز بھی دستیاب ہیں جن کی قیمت 6 روپے ہے۔ایف بی آرنے جعلی سگریٹ ساز اداروں‘ اسمگلروں اور غیر قانونی سگریٹ بیچنے والوں کے خلاف چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم ابھی تک حکومت اس پر عملدرآمد نہیں کرا سکی۔

آمدہ بجٹ میں سگریٹوں پر بے تحاشا ایکسائز ڈیوٹی بڑھنے سے ٹیکس چوری میں اضافہ ہو گالہٰذا حکومت کو چاہئے وہ جہاں ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کر رہی ہے وہیں جعلی اور غیر قانونی سگریٹ ساز اداروں‘ ٹیکس چوروں اور اسمگلروں کے خلاف فوری ایکشن لے اور قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچانے والوں کا محاسبہ کرے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے ۔
10/06/2009 - 22:05:43 :وقت اشاعت