عراقی قصبے العبادیہ میں داعش کی سرکاری فورسز کے خلاف شدید مزاحمت

بدھ اگست 10:10

بغداد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اگست2017ء) عراق کے قصبے العبادیہ میں شدید داعش کی شدید مزاحمت کے باعث سرکاری فورسز کی پیش قدمی مشکل ہو گئی۔برطانوی میڈیا کے مطابق عراقی فورسز ایک چھوٹے سے قصبے العبادیہ پر قبضہ کرنے کے لیے جنگ کر رہی ہیں جہاں تلعفر سے فرار ہونے والے داعش کے جنگجو اکھٹے ہو رہے ہیں۔ قصبے کے اندرگھروں اور اونچی عمارتوں پر سینکڑوں جنگجو اور نشانچی اپنے مورچے بنائے بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری فورسز کے لیے ایک قدم بھی آگے بڑھنا مشکل ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

عراقی عہدے دار نے اس لڑائی کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ موصل کے قدیم حصے پر قبضے کی جنگ سے کئی گنا زیادہ سخت ہے۔ اس سے قبل عراقی فورسز نے جون میں داعش کو شکست دے کر ان سے موصل کا کنٹرول چھینا تھا، لیکن شہر کے گلی کوچوں میں ہونے والی اس لڑائی میں انہیں 8 ماہ لگ گئے تھے۔ دوسری جانب عراقی فوج کے ایک کرنل کریم الامی کا کہنا ہے کہ العبادیہ میں داعش کے پہلے دفاعی حصار کو توڑنا ایسے ہی ہے جیسے دوزخ کے دروازے کھولنا۔ العبادیہ میں دو ہزار کے لگ بھگ جنگجو موجود ہیں۔ جب کہ تقریباً 50 ہزار سرکاری فوجیوں نے انہیں محاصرے میں لے رکھا ہے۔

متعلقہ عنوان :

بغداد میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments