متحدہ عرب امارات میں منشیات کی اسمگلنگ کے انوکھے طریقے سامنے آنے لگے

ایک خاتون نے منشیات اسمگلنگ کے لیے اخروٹوں کا استعمال کیا جبکہ ایک شخص نے اپنے موبائل فون کی بیٹری میں ہیروئن چھُپا ئی

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جولائی 10:22

متحدہ عرب امارات میں منشیات کی اسمگلنگ کے انوکھے طریقے سامنے آنے لگے
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین- 2 جُولائی 2019ء) متحدہ عرب امارات میں منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف بھرپور انداز سے کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایئرپورٹس پر بھی چیکنگ بڑھا دی گئی ہے اور منشیات کا پتا چلانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم اسمگلر حضرات نے بھی پکڑے جانے سے بچنے کے لیے انوکھے انوکھے طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔

چند روز قبل ایک خاتون دُبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل نمبر 3 پر دھر لی گئی جس کے پاس موجود اخروٹوں میں سے چند سو گرام نہیں بلکہ پُورے تین کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔ اسی طرح ایک اور شخص نے اپنے موبائل فون کی بیٹری میں ہیروئن چھُپا رکھی تھی، مگر اس کمال ہوشیاری کے باوجود ایئرپور ٹ پر موجود کسٹمز حکام کو جُل دینے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

(جاری ہے)

دُبئی کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل احمد محبوب مُصابیح نے کہا کہ اسمگلروں نے انتہائی غیر متوقع اور منفرد طریقے اپنا لیے ہیں۔ تاہم پھر بھی ان میں زیادہ تر ایئرپورٹ پر پکڑے جاتے ہیں۔رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ایئرپورٹ حکام نے مجموعی طور پر 14 کلو گرام منشیات پکڑی۔ منشیات کے اسمگلر اپنے مقصد کی خاطر دالوں، کھلونوں، موٹر سپیئر پارٹس، سیل فون بیٹریز، اخروٹ، مونگ پھلی، سامان کے خفیہ خانوں، جوتوں، ہینڈ بیگز، کپڑوں، کیلوں، چاکلیٹس، ڈیزل ٹینکس، ٹائروں اور گاڑی کے خفیہ خانوں کا استعمال کرتے ہیں۔

جبکہ کچھ لوگ اپنے پیٹ میں بھی منشیات چھُپا لیتے ہیں۔ یکم جنوری 2019ء سے 31 مارچ 2019ء تک دُبئی ایئرپورٹ پر منشیات اور دیگر ممنوعہ سامان پکڑے جانے کی 973 کارروائیاں ہوئیں۔ کسٹم انسپکٹرز کو منشیات کا پتا چلانے کے لیے خصوصی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ بہت حساس قِسم کی سکیننگ ڈیوائسز بھی دی گئی ہیں۔ احمد مصابیح نے کہا کہ ہمارے ہوشیار انسپکٹرز ہزاروں مسافروں کے درمیان میں سے منشیات کے اسمگلروں کا اُن کی جسمانی حرکات و سکنات سے بخوبی پتا چلا لیتے ہیں۔ دُبئی ایئر پورٹ پر پکڑی جانے والی ممنوعہ اشیاء میں منشیات، ہتھیار، خطرناک جانور اور پودے، جعلی کرنسی، تیز دھار آلات، منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے آلات، جعلی مصنوعات اور جعلی زیورات بھی شامل ہیں۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments