Bilaunwan Inaami Kahani

بلاعنوان انعامی کہانی

ایک غریب چکی والا اپنے تین بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔جب وہ مرگیا تو اس کی ملکیت میں چکی،ایک گدھاگاڑی اور بلی تھی۔

پیر مئی

Bilaunwan Inaami Kahani

ایک غریب چکی والا اپنے تین بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔جب وہ مرگیا تو اس کی ملکیت میں چکی،ایک گدھاگاڑی اور بلی تھی۔
بڑے بیٹے کو چکی ،منجھلے کو گدھا گاڑی اور سب سے چھوٹے بیٹے کو بلی ملی ۔وہ ایک کالے رنگ کی بلی تھی۔بلی کا نام سوزی تھا۔

چھوٹا بیٹا بلی کو پا کر بہت خوش تھا ،مگر اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کے کس کام آسکے گی۔وہ بہت حسین اور صحت مند نوجوان تھا۔وہ بلی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگا۔بلی بھی اپنے مالک کی پریشانی بھانپ گئی اور کہنے لگی:”میرے آقا!فکر مت کریں،اگر آپ ویسا کریں گے ،جیسا میں کہوں گی تو آپ دیکھ لیجیے گا کہ میں آپ کے لیے کیا کر سکتی ہوں ۔
سب سے پہلے مجھے ایک بڑا تھیلا اور جوتوں کی ایک جوڑی لادیں۔“
چھوٹے بیٹے کے پاس تھوڑے ہی پیسے بچے تھے۔

(جاری ہے)

ان پیسوں سے وہ بلی کے لیے تھیلا اور پیلے رنگ کے جوتوں کی جوڑی خریدلایا۔
بلی نے وہ نئے جوتے پہنے اور ایک باغ میں چلی گئی۔

اس نے کچھ سلاد کے پتے توڑے اور تھیلے میں ڈال لیے۔پھر وہ ایک کھیت میں گئی اور خرگوش کے ایک بل کو تلاش کرکے تھیلے کا منھ کھول کر اسے بل کے قریب رکھ دیا،تاکہ تازہ سلاد کے پتے نظر آسکیں۔اس کے بعد وہ جھاڑیوں میں چھپ گئی ۔تھوڑی ہی دیرگزری تھی کہ ایک سر مئی بالوں والے موٹے خرگوش نے بل کے سوراخ میں سے سر باہر نکالا۔
وہ تازہ سلاد کے پتوں کی خوشبو سونگھ چکا تھا۔فوراً ہی تھیلے میں گھس کر سلاد کے پتے کھانے لگا۔
سوزی جوتے پہنے ہوئے تھی ۔جلدی سے جھاڑیوں سے نکلی اور چپکے سے آکر اس نے تھیلے کی ڈوریوں کو آپس میں کس دیا۔یوں اس نے ایک موٹا تازہ خرگوش پکڑ لیا۔

سوزی نے تھیلے کو اپنے کاندھے پر لٹکایا اور پیلے جوتے پہنے ہوئے اپنے سفر کا آغاز کیا۔یہاں تک کہ وہ بادشاہ کے محل میں پہنچ گئی۔
بادشاہ کو دیکھ کر اس نے احتراماً اپنا سر جھکایا اور مود بانہ انداز میں بولی:”عالی جاہ!میں آپ کے لیے ایک موٹا خرگوش لائی ہوں،جو میرے آقا ،کیر یبس کے شہزادے مارکیوس نے آپ کے لیے تحفتاً بھیجا ہے۔

بادشاہ اس کا لی بلی کو پیلے رنگ کے جوتے پہنا دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اس نے سوزی کے تحفے کو قبول کر لیا۔
دوسرے دن سوزی نے مٹھی بھر گندم تھیلے میں ڈالی اور دوبارہ کھیت میں چلی گئی۔اس نے تھیلے کو زمین پر رکھا اور خود برابر میں ہی لیٹ گئی،تاکہ بظاہروہ مردہ دکھائی دے۔

اسی وقت خوب صورت پروں اور لمبی دُم والے پرندوں کا ایک جوڑا آیا اورگندم کے دانے چگتے چگتے تھیلے کے اندر چلا گیا۔سوزی بھی مناسب موقع کا انتظار کررہی تھی۔اس نے جلدی سے تھیلے کی ڈوری کو کس لیا۔اس طرح دونوں پرندے تھیلے میں پھنس گئے۔

وہ ایک دفعہ پھر محل پہنچی اور بادشاہ کے سامنے حاضر ہوئی:”عالی جاہ!کیر یبس کے شہزادے مارکیوس نے التجا کی ہے کہ آپ اس کے بھیجے گئے خوب صورت پرندوں کے جوڑے کو قبول فرمائیں۔“سوزی نے سرخم کرتے ہوئے مودبانہ انداز میں کہا۔

بادشاہ نے سوزی سے کہا:”اپنے آقا سے کہنا کہ میں تمھارے تحفوں سے بہت خوش ہو اہوں۔وہ واقعی ایک اچھا شہزادہ ہے۔“
”جی ضرور․․․․․․“اور سوزی سرخم کرتے ہوئے دربار سے رخصت ہوگئی۔
بڑے ہال کمرے سے گزرتے ہوئے اس نے سنا کہ بادشاہ اور اس کی بیٹی دوپہر کے بعد دریا کے پاس سے گزریں گے۔

سوزی تیزی سے دوڑتی ہوئی اپنے آقا کے پاس پہنچی اور اسے بتایا کہ وہ ابھی محل میں بادشاہ سے مل کر آرہی ہے ۔اس نے اپنے آقا سے کہا:”میں چاہتی ہوں کہ آپ دریا پر چل کر نہالیں ۔اگر کوئی بھی آپ سے پوچھے تو آپ کہیے گا کہ میں ریاست کیریبس کا شہزادہ مارکیوس ہوں۔

چھوٹے بیٹے نے اپنے کپڑے اُتار کر سوزی کو حفاظت کی غرض سے دے دیے اور خود لنگوٹ پہن کر دریا میں نہانے لگا۔سوزی نے کپڑوں کو پتھروں کے ایک ڈھیر کے پیچھے اس طرح چھپا دیا کہ کوئی انھیں دیکھ نہ سکے۔پھر شاہی سواری کا انتظار کرنے لگی۔
جیسے ہی سواری دریا کے قریب آئی،سوزی بھاگتی ہوئی آئی اور چیخنے لگی:”بچاؤ ،کیریبس کا شہزادہ مارکیوس ڈوب رہا ہے۔“
بادشاہ نے اپنے کو چوان کورکنے کا حکم دیا اور شاہی نوکروں کو مارکیوس کو دریا میں سے نکالنے کاحکم دیا ۔
تب سوزی شاہی سواری پر چڑھی اور اپنی ٹوپی اُتار کر سرخم کیا ،پھر بادشاہ اور شہزادی جولیا سے کہنے لگی:”مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ اس جگہ سے گزر رہے ہیں ،مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک چورنے میرے آقا کے کپڑے چُرالیے ہیں،ورنہ میرے آقا سے آپ کی ملاقات ہو جاتی۔

یہ سن کر بادشاہ نے اپنے شاہی نوکر کو محل میں بھیج کر ایک خوب صورت شاہی لباس منگوالیا۔جب چکی والے کا بیٹا اسے پہن کر بادشاہ کے سامنے آیا تو بالکل ایک شہزادے کی طرح نظر آتا تھا۔
”یہ ہیں میرے آقا!کیریبس کے شہزادے مارکیوس۔
“سوزی نے بادشاہ اور شہزادی سے خوشی خوشی اس کا تعارف کرتے ہوئے بتانے لگی:”مجھے اُمید ہے کہ آپ مارکیوس کو اپنے ساتھ سواری کرنے اور کھانا کھانے کے شرف سے ضرور نوازیں گے۔“
”مجھے بھی بہت خوشی ہو گی۔“بادشاہ نے جواب دیا اورمارکیوس کو اپنی بگھی میں بٹھالیا۔

سوزی بھی شاہی سواری سے آگے آگے بھاگ رہی تھی۔پھر اس نے کھیتوں میں جانے کے لیے ایک مختصر راستہ چنا۔
سڑک کے پیچھے کھیتوں میں کسان فصل کی بوائی کررہے تھے۔جب انھوں نے ایک کالے رنگ کی بلی کو پیلے جوتے پہنے دیکھا تو انھیں بڑی حیرت ہوئی ،مگر سوزی درشتی سے بولی:”جب بادشاہ سلامت یہاں سے گزریں اور یہ پوچھیں کہ یہ کھیت کس کے ہیں تو انھیں بتانا کہ کیریبس کے شہزادے مارکیوس کے ہیں۔
اگر تم نے یہ نہیں کہا تو تمھارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔“
پھر وہ وہاں سے تیزی سے بھاگی،یہاں تک کہ وہ ایک خوب صورت باغ میں پہنچ گئی۔جہاں مختلف قسم کے پھلوں کے درخت تھے۔سوزی نے باغ کے رکھوالے سے کہا:”جب بادشاہ سلامت یہاں سے گزریں اور پوچھیں کہ یہ باغ کس کا ہے تو ان سے کہنا کہ یہ باغ کیریبس کے شہزادے مارکیوس کا ہے ۔
اگر تم نے یہ نہیں کہا تو تمھارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔“
درحقیقت یہ تمام کھیت اور باغات ایک خوف ناک دیو کے تھے ۔اب سوزی تیزی سے بھاگی۔ یہاں تک کہ وہ دیو کے بڑے اور شان دار محل تک پہنچ گئی۔کوئی بھی اس کے محل نہیں جاتا تھا ،کیوں کہ وہ بہت غصے والا تھا ،مگر جب اس نے دروازہ کھولا تو سوزی آرام سے اندر آگئی اور اس کے غصے کی پرواکیے بغیر اپنے خوب صورت جوتے دکھانے لگی۔

آدم خور دیو نے سوزی کو تعجب سے دیکھا۔اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتا،سوزی بارعب آواز میں بولی:”میں نے سنا ہے کہ تم ہر طرح کا روپ دھار سکتے ہو،کیا یہ درست ہے؟“
”یہ میرے لیے بہت آسان ہے ۔“آدم خوردیوتکبر سے بولا اور پھر تیزی سے روشنی چمکی اور وہ ایک شیربن کردھاڑنے لگا۔
سوزی ڈر کے مارے بھاگ کر روشن دان کی چمنی میں چھپ گئی۔
آدم خور دیوواپس اپنی شکل میں ظاہر ہو گیا اور سوزی کی حالت دیکھ کر ہنسنے لگا۔
سوزی تھوڑی ہمت کرکے بولی:”چلیں مانا ،یہ تو سچ ہے کہ ایک آدم خوردیو ایک بڑے شہر میں تبدیل ہو جائے ،مگر مجھے شبہ ہے کہ کیا تم اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے جانور جیسے چوہے میں بدل سکتے ہو؟“
”اوہ․․․․میرے لیے یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
“آدم خوردیوچٹکی بجا کر بولا اور فوراً ہی ایک روشنی چمکی اور وہ چھوٹے سے چوہے میں تبدیل ہو گیا۔
سوزی نے فوراً اسے دبوچا اور کھاگئی۔
اسی وقت بادشاہ کی شاہی سواری محل کے باہر پہنچ گئی۔
”تم واقعی میں ایک بڑی اور شان دار ریاست کے مالک ہو۔
“بادشاہ نے چکی والے کے چھوٹے بیٹے سے کہا۔
کیوں کہ اسے کسانوں اور باغ کے رکھوالوں نے بتادیا تھا کہ یہ زمین ،ریاست کیریبس کے شہزادے مارکیوس کی ہے۔
پھر وہ سب اس شان دارمحل کے اندر گئے ،جہاں ایک بڑی میز پران کے لیے نہایت لذیذ اور عمدہ کھانا رکھا ہوا تھا۔

بادشاہ نے سوچا :یہ حسین نوجوان میری بیٹی کے لیے ایک بہترین شوہر ثابت ہو گا۔
”مارکیوس!تم بہت اچھے نوجوان ہو۔کیا تم میری بیٹی شہزادی جولیا سے شادی کروگے؟“بادشاہ نے مارکیوس سے اس کی رائے پوچھی۔
جواب میں مارکیوس نے سرجھکادیا۔

کچھ دن بعد مارکیوس اور شہزادی جولیا کی شادی دھوم دھام سے ہوئی اور وہ دونوں آدم خوردیو کے گھر میں رہنے لگے۔
سوزی بھی اپنی زندگی کے اختتام تک اسی محل میں آرام اور سکون سے رہی اور پھر اس نے کبھی کسی جانور کا شکار نہیں کیا۔

Your Thoughts and Comments