محبت کی دھرتی؛ جھنگ

ہیر سیال کا ضِلع جھنگ، مشرق میں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، مغرب میں خوشاب، بھکر اور لیہ، شمال میں چنیوٹ اور سرگودھا جبکہ جنوب میں خانیوال اور مُظفرگڑھ کے اضلاع سے گِھرا ہوا ہے

Dr Syed Muhammad Azeem Shah Bukhari ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری جمعرات اپریل

Mohabbat Ki Dharti Jhang
صوبہ پنجاب   کے عین وسط میں واقع  محبت کی سر زمین ضِلع جھنگ، بِلحاظ رقبہ فیصل آباد ڈویژن کا سب سے بڑا ضِلع ہے جو  6،353   مربع کلومیٹر پر مُحیط ہے۔   جھنگ، ساندل بار کا اہم ضِلع ہے جسکی آبادی  قریباً 28 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔      جھنگ صوبہ پنجاب کا وہ  واحد ضِلع ہے جس میں تینوں دوآب یعنی  رچنا دوآب، چج دوآب اور سندھ ساگر دوآب شامل ہیں۔

2009 میں چنیوٹ (جو جھنگ کی تحصیل تھی) کے ضِلع بننے سے پہلے ''کِرانہ ہِلز''   کا کُچھ حِصہ بھی ضلع جھنگ میں شامل تھا۔
ہیر سیال کا ضِلع جھنگ، مشرق میں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، مغرب میں خوشاب، بھکر اور لیہ، شمال میں چنیوٹ اور سرگودھا  جبکہ جنوب میں خانیوال اور مُظفرگڑھ کے اضلاع سے گِھرا ہوا ہے۔ 9        ضِلعوں سے مُتصل یہ ضِلع،  شور کوٹ کینٹ  سمیت  اٹھارہ ہزاری، شور کوٹ، احمد پور سیال اور جھنگ کی  چار تحصیلو اور بے شمار مشہور قصبوں  پر مُشتمل ہے۔

(جاری ہے)


جھنگ پاکستان کے قدیم ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس ضلع کا علاقہ ساندل بار کہلاتا تھا ۔ بار، مقامی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی گھنے جنگلات کے ہیں جہاں  نہری نظام دستیاب نہیں ہوتا۔ یہ بار ساندل کے نام کی وجہ سے "ساندل بار" کہلانے لگا۔ ساندل پنجابی رہنما ''دُلا بھٹی'' کے دادا کا نام تھا۔ لوگ دریا کنارے چھوٹی چھوٹی بستیوں میں رہتے تھے جنہیں ''جھوک'' کہتے ہیں۔

   1974 میں محکمہ آثارِ قدیمہ کی شائع کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق  جھنگ شہر اس وقت سے آباد ہے جب یہاں ''چندر گُپت موریا'' کی حکومت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ سکندرِ اعظم سمندر کی طرف جاتے ہوئےاس علاقے کے کسی حِصے سے گزرا تھا ۔  اسی طرح  جھنگ کی تحصیل شور کوٹ کے آثارِ قدیمہ سے ملنے والے قدیم سِکوں  پر ایک طرف گوتم بدھ اور دوسری طرف اشوک کی تصویر  بنی ہے۔

یعنی جھنگ شہر اشوک سے بھی پہلے آباد تھا جو چندر گپت موریا کا پوتا تھا۔  
اس علاقے کا  پہلا  مُفصل ذِکر 1526 میں لکھی گئی شہنشاہ بابر کی کتاب ''    تُزکِ بابری'' میں ملتا ہے۔جس کے مطابق  بھیرہ ، خوشاب اور چناب کے آس پاس علاقوں کی حکومت سید علی خان کے پاس تھی۔   بابر نے اپنی کتاب میں  خوشاب، بھیرہ اور چناب کی  جن ریاستوں کا ذِکر کیا ہے، تاریخ دانوں کے لیئے اس زمانے میں ان ریاستوں کا حدود اربع اور محلِ وقوع  وغیرہ پتہ لگانا  ایک معمہ ہے۔

    بابر کے حملے سے لے کر  محمد شاہ کے دور تک  تقریباً دو صدیاں، یہ علاقے  غیر معروف اورگمنامی  کی گرد میں دبے رہے۔ مغلوں سے پہلے اس علاقے پر   الگ الگ مہاجر قومیں اور آباد کار حکمرانی کرتے رہے جن میں  سیال، لالی، ہرل، بھٹی اور داب شامل ہیں۔
ایک اور روایت کے مطابق جھنگ شہر کو 1288 میں رائے سیال نے اپنے مرشد  حضرت جلال  شاہ بُخاری سُرخ پوش    ؒ   کے کہنے پر آباد کیا تھا۔

1334 میں مشہور سیاح ابنِ بطوطہ کا یہاں سے گُزر ہوا تھا۔جھنگ کا پہلا باقاعدہ سیال حکمران "مل خان'' تھا جس نے 1460 میں حکمرانی قائم کی۔ اسکے بعد 360 سال تک  مُختلف سیال حکمران آتے جاتے رہے۔ ان حکمرانوں نے جھنگ کے ساتھ  دیگر نزدیکی علاقوں کا شامل  کر کے  اسے  بہت وسعت دی یہاں تک کہ سرگودھا، فیصل آباد اور ٹوبے تک کا علاقہ جھنگ میں شامل ہو گیا۔

جھنگ کے آخری سیال حکمران احمد خان تھے جنہوں نے 1812 سے 1822تک یہاں  حکومت کی۔ احمد خان کے بعد حکومت سکھوں کے قبضے میں چلی گئی۔ جنہوں نے ملتان پر قبضہ کر کے اس علاقے کو بھی فتح کر لیا  ۔ 1848 میں سکھوں کو شکست ہوئی اور جھنگ کا علاقہ انگریز سرکار کے زیرِ اثر چلا گیا اور 1849 میں جھنگ کو ضلع بنا دیا گیا جو اپنے دور کا بہت بڑا ضلع تھا۔ اس سے آگےجھنگ کے بٹوارے شروع ہوئے۔

1851 میں بڑے پیمانے پر کافی دیہات  ضلع ملتان میں شامل کیئے گئے۔  پھر 1854 میں جھنگ تحصیل کا تالوکا''فروکہ'' تب کے ضلع شاہ پور (اب  سرگودھا) میں شامل کر دیا گیا۔1861 کے ابتدائی ایام میں  اس علاقے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیئے   ضلع شاہ پور سے ''کلووال'' اور  ضلع مُظفرگڑھ سے ''گڑھ مہاراجہ'' اور آس پاس کے دیہات   کاٹ کرجھنگ میں شامل کر دیئے گئے اور اسی سال شور کوٹ کو تحصیل کا درجہ ملا۔

  پھر 1890 میں ضلع جھنگ کی حدود کا از سرِ نو تعین کیا گیا جس میں لیہ کو جھنگ سے علیحدہ کر کے ضلع مظفر گڑھ  اور حیدر آباد ( آج کے ضلع بھکر کا ایک علاقہ)کو ضلع میانوالی میں شامل کیا گیا ۔ پنڈی بھٹیاں کا علاقہ ضلع گجرانوالہ کا حِصہ بنا دیا گیا۔ 1886 میں لائل پور تحصیل کو ضلع جھنگ کا حصہ بنا دیا گیا۔ 1900 میں سمندری اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کو تحصیل کا درجہ دیا گیا  اور  1904 میں لائل پور کو علیحدہ ضلع بنا دیا گیا۔

اسی سال میں کِرانہ بار کا  تقریباً   تمام حصہ تحصیل چنیوٹ سے ضلع شاہ پور کو منتقل کر دیا گیا۔1913 میں تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے32 بڑے دیہات  جھنگ کی تحصیل شورکوٹ میں شامل کر دیئے گئے۔ 1947 میں آزادی کے بعد ضلع جھنگ کو چنیوٹ، احمد پور سیال اور شور کوٹ تحصیلوں کے ساتھ اسی طرح رکھا گیا ۔
 1948 میں ایک بہت بڑے فتنے نے اس سر زمین کارُخ کیا  جب  بھارت کے علاقے قادیان سے نقل مکانی کر کے آنے والے قادیانیوں/احمدیوں نے  دریائے چناب کے کنارے  '' چناب نگر'' نامی شہر بسایا اور اسے  ''ربوہ ''کا نام دیا۔

جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ المسیح، مرزا بشیر الدین محمود احمد، نے 1947ء میں ہندوستان سے نقل مکانی کے بعد اس شہر کی بنیاد رکھی تھی۔ قریبا 50,000 آبادی والے شہر کی آبادی کا 95 فیصد حصہ احمدیہ جماعت کے پیروکاروں سے تعلق رکھتا ہے۔  2009 میں جب تحصیل چنیوٹ کو کاٹ کر پنجاب کا 36     ضلع بنایا گیا تو یہ علاقہ بھی  جھنگ سے علیحدہ ہو گیا۔  چنیوٹ کی جگہ  اٹھارہ ہزاری کو جھنگ کی چوتھی تحصیل بنایا گیا۔

یہ ضلع پہلے ملتان پھر سرگودھا اور اب فیصل آباد ڈویژن کا حِصہ ہے۔
طبعی خدوخال کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ضلع جھنگ کا  تقریبا تمام علاقہ میدانی ہے، ماسوائے مغرب  کے جہاں  تھل کا صحرائی علاقہ  واقع  ہے جو دریائے جہلم کے کنارے سے شروع ہوتا ہوا خوشاب ، لیہ اور بھکر کے اضلاع تک جاتا ہے۔ اس علاقہ میں ماضی میں جنگلات تھے اور یہ علاقہ کسی بھی قسم کی کاشت کے لیے موزوں نہیں تھا۔

انگریزی دور حکومت میں یہاں نہری نظام بنا کر پورے علاقے کو قابلِ کاشت بنایا گیا۔
ضلع جھنگ ہی وہ جگہ ہے جہاں  اٹھارہ ہزاری کے قریب پاکستان کے دو بڑے دریاؤں چناب اور جہلم کا ملاپ ہوتا ہے ۔ جھنگ شہر سے 25 کلومیٹر دور 1939 میں   دریائےچناب پرتریموں بیراج بنا کر ''رنگ پور کینال'' اور ''تریموں سدھنائی لنک کینال'' نکالی گئیں ۔  رنگ پور جھنگ سمیت ضلع مظفر گڑھ کو بھی سیراب کرتی ہے۔

جھنگ کے غیر زرعی رقبے پر نایاب جنگلات اور جھاڑیوں  پائی جاتی ہیں ان میں  بوہڑ، ہرمل،کیکر، جھنڈ اور وان  شامل ہیں۔
اس ضلع کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 28 سے 43 جبکہ سردیوں میں 6 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ  کے درمیان رہتا ہے۔  اوسطاً سالانہ بارش 288 ملی  میٹر ہے۔  آندھیاںاور طوفان بھی شدت سے آتے ہیں۔نہری پانی کے بہترین نظام اور بارشوں کی بدولت  یہاں کئی اقسام کی  زرعی اجناس اگائی جاتی ہیں جن میں گندم،  کپاس، گنا، چاول، چنے، جوار، تُرش پھل،  آم،سرسوں اور تمباکو شامل ہیں۔

   یہاں موجود اہم صنعتوں میں   روئی بیلنے، اونی کپڑا بنانے، چینی کے کارخانے، برتن بنانے، کمبل بنانے اور کھیس و دریاں بنانے کی صنعت  شامل ہے۔ حویلی بہادر شاہ کے مقام پر ایک پاور پلانٹ لگایا گیا ہے جہاں  گیس سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
بُودو باش   کے حوالے سے یہ علاقہ بہت رنگین ہے۔   ثقافتی میلے، شادی کی دلچسپ رسومات،  مختلف  روایتی  کھیل اور عرس   وغیرہ  جھنگ کی پہچان ہیں۔

اسی علاقے سے ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں جیسی  رومانوی داستانوں نے جنم لیا۔ پنجاب کی چار لازوال محبت کی داستانوں میں سے دو نے اس دھرتی پر جنم لیا      اور  جھنگ کو  محبت اور پیار کی دھرتی کے روپ میں امر کر دیا۔
ضلع جھنگ کے مشہور  علاقوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:
1۔ گڑھ مہاراجہ :
تحصیل احمد پور سیال کا علاقہ جسے شہاب الدین محمد غوری کی پہلی چھاؤنی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

پہلے ''راج گڑھ'' کے نام سے جانا جاتا تھا۔صوفی بزرگ حضرت سلطان باہو ؒ کا مزار اسی قصبے میں ہے۔
2۔ شاہ جیونہ:
جھنگ سے 34 کلو میٹر  دور واقع یہ شہر  حسینی قلندری سلسلے کے مشہور صوفی بزرگ، سید محبوب عالم شاہ ؒ    کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ مخدوم فیصل صالح حیات یہاں کے گدی نشین ہیں۔
3۔ ماچھی وال :
اس جگہ کا پرانا نام ''لوہ کوٹ'' تھا۔

   اروڑہ ہنس کے مطابق جہلم کے کنارے  پر واقع اس شہر کی بنیاد   بھی لاہور کی طرح  رام چندر جی کے بیٹے نے رکھی تھی۔
4۔ کھیوا:
مشہور  رومانوی داستان مرزا صاحباں کی صاحباں کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔
5۔ اٹھارہ ہزاری:
اٹھارہ ہزاری  ایک لقب ہوا کرتا تھا جو ایسے سپہ سالار کو دیا جاتا تھا  جو اٹھارہ ہزار  کی فوج رکھتا ہو اور اس کا خرچ اٹھاتا ہو۔

  مخدوم تاج الدین سیال یہاں کے اٹھارہ ہزاری سردار تھے۔یہ شہر دریائے چناب پر واقع ہیڈ تریموں  ،اور مزار پیر تاج دین کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ یہاں چناب  و جہلم کے شیریں پانیوں میں پائی جانے والی رہو مچھلی بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔
جھنگ کی اکثریتی آبادی کی مادری زبان پنجابی ہےلیکن کئی  علاقوں میں سرائیکی بھی بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اردو بھی عام بولی جاتی ہے۔

یہاں کی پنجابی کا خاص لہجہ جھنگوی کہلاتا ہے۔  اس علاقے کا رہن سہن بہت سادہ ہے۔ دیہاتی  خواتین زیادہ تر گھریلو دستکاریاں  بنانے  کا کام کرتی ہیں  جن میں کھیس ، دریاں، لنگیاں اور چٹائیاں شامل ہیں۔ یہاں   لنگیوں پرسونے کی تاروں سے کیا جانے والا انتہائی نفیس آر کا کام  بہت مشہور ہے جو کافی مہنگا بھی ہے۔ جھنگ وہ  واحد علاقہ ہے جہاں دیہاتی مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی  اپنے پہناووں میں  لنگی/ لاچے  کا استعمال کرتی ہیں۔

اس علاقے کے لوگ آج بھی اپنی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔یہاں آج بھی پرانے علاقائی کھیل شوق سے کھیلے جاتے ہیں۔ گھڑ سواری، نیزہ بازی، کبڈی اور کشتی کے مقابلے متواتر منعقد کرائے جاتے ہیں ۔یہ کھیل پنجاب کی لوک ثقافت کا اہم حصہ ہیں جنہیں اہلیانِ جھنگ نے مرنے نہیں دیا۔  
یہ ضلع صوفیاء اور مشاہیر کے حوالے سے بھی  جانا جاتا ہے۔   عرس اور میلے اس علاقے کی پہچان ہیں۔

جھنگ کی دھرتی پر سینکڑوں علماء اور صوفیاء کرام ابدی نیند سو رہے ہیں جن میں حضرت سلطان باہو ؒ،  حضرت سید جیون شاہ ؒ آف شاہ جیونہ،  حضرت پیر تاج دین ؒ،   حضرت روڈو سُلطان ؒ،  حاجی احمد درویش بغدادی ؒ، حضرت شاہ صادق ناہنگ ؒ،  پیر آف سیال شریفؒ،  حضرت حافظ فیض سلطان ؒ، پیر نور احمد ہاشمیؒ،  پیر گوہر شاہؒ، پیر ہتھے وانؒ، پیر آف اٹھارہ ہزاری اور پیر آف ماہنی شریف  شامل ہیں۔

  انکے علاوہ  بھی کئی مشاہیر کی درباریں یہاں واقع ہیں۔ ہر سال ہزاروں لوگ ان صوفیاء کے عرس میں شرکت کرنے کے لیئے جھنگ کا رُخ کرتے ہیں۔
اولیاء کرام کے دربار کے بعد  یہاں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل جگہ ''مائی ہیر'' کا دربار ہے جو جھنگ شہر میں واقع ہے ۔ مائی ہیر ،جو ہیر رانجھا کی لازوال داستان کا ایک کردار ہے،  اس علاقے میں محبت  کی نشانی ہے۔

علاقے کے لوگوں نےاسی  عقیدت  کے تحت یہاں موجود اسٹیڈیم کو بھی  ''مائی ہیر اسٹیڈیم''  کا نام دے رکھاہے۔
ضلع جھنگ کی اہم اور معروف شخصیات میں    مشہور صوفی بزرگ حضرت سلطان باہو ؒ ،   وزیر خان (سردار جن کے نام سے مسجد وزیر خان منسوب ہے)علامہ ڈاکٹرطاہر القادری  (سکالر، سیاست دان)،   مجید امجد (شاعر)، علیم ڈار (کرکٹ امپائر)،   محترمہ عابدہ حسین (سیاست دان)، عبد السلام (نوبل انعامِ یافتہ سائنسدان)،  نذیر ناجی (صحافی و کالم نگار)،  فیصل صالح حیات (سیاستدان)،   اللہ دِتہ لونے والا (گلوکار)محمود شام ( صحافی)،  سید ضمیر جعفری (شاعر)، شیخ وقاص اکرم ( سیاستدان)،  منصور ملنگی (گلوکار) ، غلام بی بی بھروانہ ( سیاستدان)اور پیر حمید الدین سیالوی (گدی نشین دربار سیال شریف) شامل ہیں۔


 اگرچہ  جھنگ؛    فیصل آباد، سرگودھا ، ٹوبہ اور چنیوٹ سے بھی پہلے ضلع بنا دیا گیا تھا لیکن اس علاقے کی حالت آج بھی ویسی ہے۔ جھنگ ہی وہ علاقہ تھا  جہاں انگریز سرکار کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ، اس دھرتی کے سپوت رائے احمد  خان کھرل نے ایک انگریز لیفٹیننٹ سمیت کئی انگریزوں کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ انگریز اس جسارت پر بپھر گیا اور بغاوت کو کچلنے کے ساتھ ساتھ  اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا۔

مشہورِ زمانہ ڈاکوؤں اور غداروں  کو جاگیریں الاٹ کی گئیں اور جھنگ کی  پسماندگی پر مہر تصدیق ثبت کر دی گئی۔  یہاں کے محبت کرنے والے لوگوں کو انگریز سرکار نے  سرکاری اصطلاح میں ''جانگلی''   کا نام دیا۔  انگریز دور سے ہی اس علاقے کو  ترقی سے دور رکھا گیا ہے اور آج بھی    بد قسمتی سے جھنگ کا شمار پنجاب کے پسماندہ اضلاع میں ہوتا ہے۔
 اس علاقے سے کئی معروف سیاستدان منتخب ہو کر  وفاقی وزیر اور وزیرِ مملکت  کے عہدوں تک پہنچے لیکن اس علاقے کی حالت نہ بدلی۔

نہ کوئی بڑی سرکاری یونیورسٹی ، میڈیکل اور انجینئرنگ کالج اور نہ ہی کوئی بڑا سرکاری اسپتال۔ ہر سال چناب میں آنے والا سیلابی ریلا اس علاقے کو نقصان پہنچاتا ہے ، کھڑی فصلیں اور کئی دیہات زیرِ آب آ جاتے ہیں لیکن  حکمرانوں کے کانوں پر جوں  تک نہیں رینگتی۔  
جھنگ شہر آج بھی کسی قدیم شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔    مائی ہیر اور صاحباں کا جھنگ آج بھی کسی مسیحا کا منتظِر ہے۔

Your Thoughts and Comments

Mohabbat Ki Dharti Jhang is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 18 April 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.