حنین ، صلاح الدین اور ہم ---ذمہ دار کون ؟‎

آج صبح خبر سنی کہ راوی روڈ پر اک نجی سکول میں استاد نے 9 ویں جماعت کے طالبعلم حنین کو مار مار کر مار دیا؟پہلے تو سماعتوں پر یقین ہی نہیں ہوا ،

دانیہ خان جمعہ ستمبر

Hanain Salahuddin or hum
آج صبح خبر سنی کہ راوی روڈ پر اک نجی سکول میں استاد نے 9 ویں جماعت کے طالبعلم حنین کو مار مار کر مار دیا؟
پہلے تو سماعتوں پر یقین ہی نہیں ہوا ، مار دیا مطلب؟ اتنا کیسے مار سکتے ہیں سکول میں کہ جان ہی چلی جائے؟
اک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ حنین  کہتا رہا میری سانس رک رہی ہے، مجھ سے برداشت نہیں ہورہا . پر ٹیچر کو رحم نہ آیا اسکو دیوار میں مارا ، نیچے گرنے پر لاتیں ماری اور دیوانہ وار مارتا ہی رہا.  مزید یہ کہ ادارے میں موجود باقی  اساتذہ یا انتظامیہ نے بھی کوئی مزحمت نہی کی، کچھ ہم جماعتوں نے کوشش کی تو انکو بھی دھمکا دیا گیا کہ تمہارا بھی یہی حال ہو گا اگر بیچ میں آے .

(جاری ہے)

خیر کوئی نہیں آیا، جب حالت مزید بگڑ گی تب بھی والدین کو نہیں بتایا بلکہ  ایمرجنسی لے گئے، جہاں پہنچتے پہنچتے ١٥ منٹ میں  معصوم نے دم توڑ دیا .
حنین کے والدین کس کو کوسیں گے؟ جتنا بھی کوس لیں کیا انکا جوان جہان بیٹا واپس آ جائیگا ؟
ابھی تو صلاح الدین کے صدمے سے ہم باہر نہیں آے تھے ، پولیس تفتیش کے دوران جان سے ہاتھ دھونے پر ہم  سب سوشل میڈیا پر صلاح الدین کی آواز بنے .

المیہ یہ ہے کہ یہ محض صلاح الدین یا حنین کی کہانی نہیں ہے، آے دن ایسے واقعات دیکھنے سننے کو ملتے ہیں کہ دل دہل جائے.  روٹی گول نہ بننے پر باپ نے بیٹی کو قتل کردیا ، لاہور میں اک  ایم -ان -اے کی بیٹی نے ملازمہ کو اتنا مارا کہ ہلاک ہوگیی ، بھائی  بہن کو، میاں بیوی کو، باپ اولاد کو، دوست دوست کو، اکثر معمولی باتوں پر قتل کرتے نظر اتے ہیں .
کتنی معمولی سی بات ہے، قتل کردینا، مار دینا؟ ٢-٤ دن بات فیسبک اور ٹویٹر کی زینت بنی رہیگی اور پھر ختم ہوجائیگی .

ضروری یہ ہے کہ وجہ ڈھونڈی جائے، آخر یہ سب ہو کیسے اور کیوں رہا ہے؟
اس کے 2 بنیادی پہلو ہیں
1- عدم برداشت
2- نہی عن المنکر
ہم مجموعی طور پر عدم برداشت کا شکار ہیں. اپنی معاشی، معاشرتی ، سیاسی اور مذھبی محرومیاں ہم  کسی طرح ظاہر نہیں کر سکتے . بنیادی طور پر ہم منافق قوم ہیں. اپنی نارسیوں کو کبھی مذہب اور کہیں ثقافت کے لبادوں میں چھپاتے پھرتے ہیں.

خود جو کام ہم کرنا چاہتے ہیں مگر ہماری پرورش، ماحول یا حالات اسکی اجازت نہیں دیتے تو ہم دوسروں کو اسی کام کے لئے واجب القتل قرار دینے پر اتر آتے ہیں. اگر معاشرے میں اک کمزور زی رو ہیں، اور اپنے حق یا طریقت کے لئے کسی کے آگے مطلبہ نہیں کر سکتے تو اپنے ماتحتوں پر اسکا غبار نکالنا شروع کر دیتے ہیں. خواہ وہ ہماری اولاد ہو، بیوی، بہن، سٹوڈنٹ، یا کوئی بھی.
اس عدم برداشت کا اتنا گھناونا روپ کوئی ہم صرف آج نہیں دیکھ رہے، یہ کیئ سالوں سے پنپتا چلا آ رہا ہے، بس سوشل میڈیا کی بدولت اب ذرا زیادہ نظرآنے لگا ہے.  کون مولوی ایسا ہے جو خوبصورت جوان  عورتوں کا ساتھ نہیں چاہتا مگر اسکے پاس ایسا کوئی موقع نہیں ہے، اتناپیسہ ، رتبہ، یا طاقت نہیں ہے، تو پھر وہ معاشرے میں ایسے لوگوں کو جنکو خوبصورت عورتوں کا ساتھ نصیب ہے، بڑی حسرت سے دیکھتا ہے، باوجود کوشش بھی وہ اسکی جگہ نہیں لے سکتا تو پھر وہ اسکو زانی ، کافر ، اور گمراہ کے فتوے لگانا شروع کر دیتا ہے.

حالانکہ موقع ملنے پر وہ خود بھی ان حسینوں کا ساتھ چاہے گا، خواہ وہ اس دنیا میں ہو یا پھر مرنے کے بعد جنت میں حوروں کی صورت .
کوئی مولوی میری تحریر کا ٹارگٹ نہیں ہیں، یہ اک عام فہم مثال دی ہے. مرد (تمام مردوں کی بات نہیں ہو رہی) عورت کو خود سے خوبصورت تو دیکھ سکتا ہے، اور اس پر فخر بھی کرتا ہے جسے ہم کوئی پیاری گاڑی، جوتا، کھلونا یا کتا  خرید کر کرتے ہیں کہ میری ملکیت میں فلاں چیز ایسی ہے جو بڑی خوبصورت ہے.

مگر مرد عورت .کو خود سے زہین نہیں  دیکھ سکتا اسکی انا کے لئے یہ قابل قبول نہیں ہے کہ عورت اس سے بہتر سوچ سکتی ہے، اسکی ملکیت سے باہر بھی وہ خود کفیل، سمجھدار اور محفوظ ہے. اسلیے اکثر زہین عورتیں سوجھی آنکھوں، پھولے منہ ، اور زخمی جسموں کو چھپاتی پھرتی ہیں کیوں کہ مجازی خدا کی بدنامی بھی تو نہیں کر سکتیں.
 (مثال نارسائی اور محرومی کی دے رہی ہوں، اس میں مرد ، عورت، مولوی، ڈاکٹر ، ٹیچر ، کی کوئی قید نہیں ہے.

اسکو ذاتی مت لیں بس بات کا مقصد سمجھنا ضروری ہے.)
تو محرومیاں عدم برداشت کو ہوا دیتی ہیں، جو خود سے کمزور پر نکالی جاتی ہیں، اک بات -
دوسری بات ہے غلط کو غلط نہ کہنا، برائی کو روکیں گے ہم تب نہ جب ہم برائی کو برا سمجھیں گے.
اگر غلط کو غلط سمجھتے ہوتے تو ٹیچر کو حیوانیت سے روک لیتے ، حنین آج زندہ ہوتا. کوئی نویں جماعت کے طالبعلموں کو قصوروار نہیں ٹھہرا رہی مگر اسکول کی انتظامیہ ، حنین کہ ہم جماعت ان سب لوگوں کو یہ ظلم ظلم نہیں محسوس ہوا، ہم غلط اور صحیح کی تمیز بھول چکے ہیں ، انکے لئے یہ اک معمولی اور قابل قبول حرکت تھی .  ہمارے ضمیروں کو اتنی آگہی ضرور ہونی چاہیے کہ غلط ہوتا دیکھ کر اسے غلط کہ سکیں.

قدرت نے ہم سب کو ضمیر دیا ضرور ہے، جو کہ وقتا فوقتا ہمیں ٹوکتا، جھنجوڑتا بھی ہے، مگر ہم اسکی سننے سے قاصر ہیں. ہم اسے جھوٹی تھپکیاں دی کر سلا دیتے ہیں اور غلط کو بڑھنے دیتے ہیں، بغیر یہ سمجھے کہ یہی غلط اک دن ہم تک لوٹ کر اے گا کیوں کہ یہ اک مجموعی رویہ ہے جو ہم معاشرے میں پلنے دے رہے ہیں.
جب خاوند بیوی کی تعریف کردے تو سب کہتے ہیں کہ جی نیچے لگ گیا ہے، یا  اگر محبت سے پیش آ رہا ہے تو کیا چھچھوڑا پن ہے.

مگر وہی شوہر جب بیوی کو کتوں کی طرح پیٹ رہا ہو، تو ہم کہتے ہیں اسکا ذاتی معاملہ ہے. اسکو بالوں سے گھسیٹ رہا، دیواروں میں مار رہا ہو تو اچھا ہے نہ اسکو کنٹرول کر رہا ہے.  پھر ایسے ہی بچے جو اپنی ماں کو یوں کنٹرول ہوتا دیکھ رہے ہیں کل کو معاشرے میں جا کر صلاح الدین کو، حنین  کو کنٹرول کرنے لگ جاتے ہیں.  ڈرامے میں لڑکی پر شوہر ہاتھ اٹھاتا ہے تو بڑا دکھ ہوتا ہے، لڑکی کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں، باقاعدہ با آواز بلند مکالمہ کیا جاتا ہے کہ چھوڑ کیوں نہیں دیتی اسکو،  پولیس کو کیوں نہیں بتاتی اس حرامی کو ٹھکانے لگائیں ، مگر جب یہی سلوک اپنا داماد اپنی بیٹی سے کرتا ہے تو صبر کے مشورے کیوں  دیے جاتے ہیں؟ تب کیوں نہیں کہتے کہ ہم اس جھوٹی عزت
یا کھوٹی انا سے زیادہ اپنی بیٹی کی جان پیاری ہے؟ تب کیوں پولیس کو بتانا جرم ہوجاتا ہے؟
معذرت کہ ساتھ پر جو لوگ جنسی یا جسمانی تشدد سے مر جاتے ہیں، وہ پھر بھی بہتر ہوتے ہیں، انھیں کوئی انصاف کہ قابل تو سمجھتا ہے.

انکے لئے آواز تو اٹھایی جاتی ہے. جو مرتے نہیں پر ہر روز سسک سسک کر جیتے ہیں، انکی زندگی عذاب رہتی ہے، صبر کی تلقین سنتے ہیں، ظالم کو پھر بھی پوجتے رہتے ہیں، کیا کریں کہ عزت کا معاملہ ہے.  اک معقول کزن ہیں، کہنے لگے، حقوق نسواں بل نے فیملی اسٹرکچر تباہ کردیا ہے ، لعنت ہے ایسے اسٹرکچر پر جہاں مار کھانا، ظلم سہنا نارمل ہو، ور آواز اٹھانا غلط..

.
مرنے والے کی جان تو چھٹ جاتی ہے، بچنے والا تا عمر ناسور کے ابلتے لاوے میں گلتا رہتا ہے .کوئی خدا نخواستہ یہ نہیں کہ رہی کہ مرنے والے کا دکھ کم ہے یا اسکے خاندان پر قیمت نہی ٹوٹی . بات کا مقصد یہ ہے کہ جو ہمیں نظر آتی یا ہم تک پہنچ جاتی وو محض اک یا ٢ فیصد ہیں، ورنہ یہ ظلم و ستم ہر گھر، ہر گلی ، ہر محلے ، ہر گاؤں، ہر شہر میں ہورہا ہے اور ہوتا ہی چلا جا رہا ہے.


جب تک ہم غلط کو غلط سمجھیں گے نہیں ، اپنے اندر برداشت پیدا نہیں  کرینگے،خود کو خدا کہ درجے سے اتار کر انسان نہی سمجھیں گے تب تک یہ سب بڑھتا ہی جایگا ، آج حنین ہے، کل اپ، آپکی اولاد یا آپکے احباب ہونگے. کسی انسان کو یہ اختیار ہے ہی نہیں اور ہونا بھی نہیں چاہے کسی بھی لحاظ سے کہ وہ دوسرے انسان پر ہاتھ اٹھا سکے  تو پھر یہ کیوں اک معمول بنتا جا رہا ہے کہ جہاں جب جیسے دل کیا کسی کو بے اختیار مارنا شروع کردیا؟
اتنا ہی شوق ہے اتنی ہی طاقت ہے تو ظالم کہ سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو، بارڈر پر جا کر لڑیں، کمزوروں کو مار کر کونسا تمغہ اور کہاں کی دلی تسکین ہوتی ہے؟
چاہے آپ ظالم  ہیں، مظلوم، یا خاموش تماشائی اس بات کو سمجھیں، ظلم کو روکیں ورنہ بچا کچا معاشرہ بھی برباد ہوجائیگا.

لاہور کے مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments

Hanain Salahuddin or hum is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 06 September 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.