پی این ایس یرموک: پاک بحریہ کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث

پاکستان کی سمندری سرحدوں کی بحری حفاظت کے مقدس فریضے پر معمور پاک بحریہ نے حال ہی میں 2300ٹن کی جدید ترین کورویٹ شپ پی این ایس یرموک کو اپنے بیڑے میں شامل کیا ہے۔ یہ کورویٹ نیدرلینڈ کی جہاز ساز کمپنی میسرز ڈیمن شپ یارڈ میں تیار ہونے والی دو کوریٹس میں سے پہلی ہے جو کہGalati، رومانیہ کے شپ یارڈ میں تیار ہوئی ہے۔

بدھ جولائی

Pakistan Navy inducts PNS Yarmook
ایس ایم حالی
پاکستان کی سمندری سرحدوں کی بحری حفاظت کے مقدس فریضے پر معمور پاک بحریہ نے حال ہی میں 2300ٹن کی  جدید ترین کورویٹ شپ پی این ایس یرموک کو اپنے بیڑے میں شامل کیا ہے۔ یہ کورویٹ نیدرلینڈ کی جہاز ساز کمپنی میسرز ڈیمن  شپ یارڈ میں تیار ہونے والی دو کوریٹس میں سے پہلی ہے جو کہGalati، رومانیہ کے شپ یارڈ میں تیار ہوئی ہے۔
میسرز ڈیمن نے پاکستان کی وزارت برائے دفاعی پیداوار سے30جون2017 کو دو کثیر جہتی آف شوز پٹرول و سیل (OPV) کی تیاری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس ادارے نے دفاعی اور سیکیورٹی اداروں کے لیے تقریباً 40 بحری جہاز تعمیر کیے ہیں جن میں سے آخری ۷ پیچیدہ بحری جہاز رائل نیدرلینڈز نیوی کے لیے اورStefan cel Mare آف شوز پٹرول ویسل رومانیہ کی بارڈر پولیس کے لیے تیارکی گئی ہیں۔

(جاری ہے)


پی این ایس یرموک ایک جدید ترین الیکٹرانک وار فئیر، اینٹی شپ اور اینٹی سب میرین وارفئیر پلیٹ فارم ہے جو کہ خود حفاظتی اور ٹرمنل دفاعی سسٹم سے لیس ہے۔

پی این ایس یرموک کثیر جہتی میری ٹائم آپریشنز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہیلی کاپٹر یا ڈرون طیارہ (UAV) لے جانے کی صلاحیت کا حامل بھی ہے۔ یہ جہاز بیک وقت دو ہائی اسپیڈs Rigid Hull Inflatble boatلانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اوراسپیشل آپریشنز کے لیے دو بیس فٹ لمبے کنٹینر رکھنے کی گنجائش بھی اس میں موجود ہے۔
پاک بحریہ کے بحری جہازوں کے نام تاریخی واقعات یا علاقوں کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔

پی این ایس یرموک کا نام خالد بن ولید کی قیادت میں مسلمان فوج اور تھیوڈور ٹری تھائیرس کی قیادت میں بائیزنٹائن فوج کے درمیان636ADسن عیسوی میں ہونے والی جنگِ یرموک کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مسلمانوں کی فتح نے شام میں بائیزنٹائن حکومت کا خاتمہ کیا۔
پاک بحریہ نے 14اگست 1947کو پاکستان کی آزادی کے بعد بہت کم وسائل سے کام کی شروعات کی اور اب جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار کثیر جہتی فوج بن چکی ہے جس کی پیشہ وارانہ طور پر ماہر اور متحرک افرادی قوت اللہ پر غیر متزلزل یقین اور قومی جذبے سے سر شار ہے۔

پاک بحریہ قومی سیکیورٹی ودفاع اور میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کے میری ٹائم مفادات کی حفاظت کرتی ہے اور خطے میں اپنی اثر انگیزی سے اپنی موجودگی یقینی بناتی ہے۔
کورویٹ چھوٹے جہاز ہوتے ہیں جس کے پیش رو سلوپ (sloop) ہوا کرتے تھے۔ شروعات میں کورویٹ کا کام ساحلی پٹرول، چھوٹی جنگوں میں لڑنا، بڑے بحری بیڑوں کی مدد کرنا یا دوسرے ممالک میں پرچم نمائی کے مشن میں شامل ہونا تھا۔

جدید کورویٹ سب سے پہلے دوسری جنگِ عظیم کے دوران آسانی سے تعمیر ہونے والی پٹرول اور کانوائے جہاز کے طور پر بنائی گئی۔ جدید بحری فوجوں نے 20 ویں صدی کے اختتام اور 21ویں صدی کے آغاز میں ایسے جہازوں کو بنانے پر زیادہ توجہ مرکوز کردی جو چھوٹے ہوں اور تنگ رہداریوں میں چلنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہوں۔کورویٹ کی عمومی طور پر 500 displacement ٹن سے 3000ٹن تک ہوتی ہے اور ان کی لمبائی180 سے420 فٹ تک ہوتی ہے۔

اِن پر درمیانے سے لے کر چھوٹے کیلبر کی بندوقیں، سطح سے سطح اور سطح سے آسمان میں مار کر نے والے میزائل اور سب میرین کے خلاف استعمال ہو نے والے ہتھیار موجود ہوتے ہیں۔ جدید کورویٹ پر سب میرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والا چھوٹے سے درمیانے حجم کا ہیلی کاپٹر بھی موجود ہو سکتا ہے۔ بھارتی بحریہ کے پاس اس وقت چار کامور تا کلاس کے کورویٹ موجودہیں۔


پاک بحریہ، پاکستان میں سب سے چھوٹی سروس ہونے کے باوجود پاکستان کے میری ٹائم مفادات کے تخفظ کی اہم ذمہ داری سنبھالتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سمندر کے راستے ہونے والی انتہا پسندی روکنے، قدرتی آفات میں مدد پہنچانے، ساحلی علاقوں کی آبادیوں کی ترقی اور سمندری راہداریوں کے تخفط کو بھی یقینی بناتی ہے۔
اس حقیقت کے بر عکس کہ پاکستان میں چندقوتیں بحری فوج کی اہمیت سے ناواقف تھیں اور اس کو مزید کم کرنا چاہتی تھیں پاک بحریہ نے 1965کی پاک بھارت جنگ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

پاک بحریہ کی اکلوتی سب میرین غازی نے بھارتی بحریہ کومقید رکھا اور دوسری طرف پاک بحریہ کے جہازوں نے بھارتی بیس دوارکا کو تباہ کردیا۔ ستم ظریفی دیکھیئے کہ بھارتی بحری اسٹریٹیجی کے ماہر کے ایم پانیکر نے1951میں ’بھارت اور بحرِہند؛ بھارتی تاریخ پر بحری قوت کے اثرات کے حوالے سے مضمون‘ میں لکھا کہ مستقبل میں پاکستان کی دو بحری قوتیں ہوں گی۔

ایک مشرقی پاکستان کے لیے اور ایک مغربی حصّہ کے لیے۔ اگر ہم دانائی کی اس بات کو اُس وقت سمجھ لیتے تو ہم 1971میں مشرقی پاکستان کی سمندری ناکہ بندی روک سکتے تھے، جس سے کہ ہمارے مشرقی حصّے کی قسمت کا فیصلہ ہوا۔
خوش قسمتی سے بعد میں طاقت کے ایوانوں میں پاک بحریہ کو پاکستان کی دفاعی افواج میں وہ ضروری اہمیت دی گئی جس کی وہ حقدار ہے۔ لہٰذا پاک بحریہ سمندری سطح، زیرِ سمندر اور ہوائی اثاثوں پر مشتمل ایک مناسب فوج بن سکی۔


قدرت نے پاکستان کو بیش بہا بحری وسائل سے نوازا ہے اور ان وسائل کی کھوج لگانے اور انھیں استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے خصوصی اکنامک زون (EEZ) میں 350ناٹیکل میل تک کا اضافہ ہونے کے بعدسے پاک بحریہ کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ سی پیک کی تعمیر اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل گوادر رپورٹ کی تعمیر اور بحری دہشت گردی کے آغاز کے بعد سے پاک بحریہ بحری سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری میں مزید متحرک ہوگئی ہے۔


یہ بات قابلِ ستائش ہے کہ پاکستان کی بحری سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ زمانہ امن کے مشن مثلاً ہائیڈروگرافی اور باتھومیٹری کے کام بھی سر انجام دے رہی ہے۔ پاک بحریہ نے حال ہی میں پاکستان نیوی سروے شپ بحرمساح کو بحری بیڑے میں شامل کیا ہے جس کا کام ہائیڈروگرافک، اوشینوگرافک اور جیو گرافیکل سروے کر کے زیرِ سمندر موجود بیش بہا ذخائر کی کھوج لگانا اور کم گہرائی سے زیادہ گہرائی تک سمندری سطح کی mapping کرنا ہے۔
امید کی جاتی ہے کہ پی این ایس یرموک اور بعدازاں تبوک کی پاک بحریہ میں شمولیت پاک بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے اسے ایک مزید متحرک قوت بنائے گی اور بحرِہند میں میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کو مزید اثرانگیز بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

کراچی کے مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments

Pakistan Navy inducts PNS Yarmook is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 July 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.