یوم قرارداد پاکستان اور سبز ہلالی پرچموں کی بہار

علیحدہ مملکت پاکستان کے قیام کی جد وجہد میں آج کا دن وہ تاریخ ساز دن ہے جب 23 مارچ 1940ء کولاہور کے تاریخی منٹو پارک(مینار پاکستان) کے مقام پر مسلمانوں کا عظیم اجتماع ہوا او ر ایک لاکھ مسلمان برصغیر کے کونے کونے سے بانی پاکسان کو سننے کیلئے لاہور میں جمع تھے

پیر مارچ

yom qarardad Pakistan aur sabz hilali parchmon ki bahhar

خالد یزدانی

علیحدہ مملکت پاکستان کے قیام کی جد وجہد میں آج کا دن وہ تاریخ ساز دن ہے جب 23 مارچ 1940ء کولاہور کے تاریخی منٹو پارک(مینار پاکستان) کے مقام پر مسلمانوں کا عظیم اجتماع ہوا او ر ایک لاکھ مسلمان برصغیر کے کونے کونے سے بانی پاکسان کو سننے کیلئے لاہور میں جمع تھے۔ اس موقع پر جو قرار داد لاہور منظور کی گئی،اسی کے نتیجے میں صرف سات سال بعد پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔ اس موقع پر مسلم لیگ کے اس اجلاس میں 18اکتوبر1939ء کے اعلان وائسرائے ہند ’’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1935ئ‘‘ کو مسلمانوں کیلئے ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ اجلاس میںقرار پایا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی یہ مسلمہ رائے ہے کہ کوئی آئینی منصوبہ اس ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں پر مشتمل ،مثلاً ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے کی تشکیل ایسی ’’آزاد ریاستوں‘‘ کی صورت میںنہ کی جائے جن کی مشمولہ وحدتیں خود مختار اور مقتدر ہوں۔

(جاری ہے)

یوں23 مارچ1940ء کو منٹو پارک لاہور کے مقام پر جس عظیم جدوجہد کی ابتداء ہوئی اس میں مسلمانوں کے لیے نئی مملکت کی ضرورت کا احساس برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں جا گزیں ہو کر رہ گیا۔ خطبہ استقبالیہ سرشاہ نواز خاں آف ممدوٹ نے پڑھا اس جلسہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان نے دو قومی نظریہ کی وضاحت میں فرمایا ! اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کریں مسلمان ہندوستان کی آزادی اس طرح چاہتے ہیں کہ وہ خود بھی اس میں آزاد ہوں اگر ہندو آزاد ہوں اور مسلمان ان کے غلام بن کر رہ جائیں تو ایسی آزادی مسلمانوں کے لیے بے کار ہے مسلمان ہندوستان میں ایک فرقے کی حیثیت نہیں رکھتے وہ ایک قوم کی صورت میں آباد ہیں اس لیے اس مسئلہ کو بین الاقوامی نقطہ نظر سے حل کیا جانا چاہیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کو جن کا مذہب تہذیب فلسفہ حیات معاشرت نظام زندگی اور ادب بالکل منفرد ہے کبھی آپس میں مل کر نہیں رہ سکتے اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ ہم مذہبی روحانی سیاسی اقتصادی اور سماجی اعتبار سے زیر کفالت کی سی زندگی بسر کریں ہماری خواہش ہے کہ ہم دو آزاد ہمسایوں کی طرح زندگی گزاریں اس لیے ہمیں ایسا دستور قطعی طور پر منظور نہیں ہوگا جس میں مسلمانوں کی آزادی کی ضمانت نہ دی گئی ہو۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے شیر بنگال مولوی فضل الحق نے ملک کے مختلف گوشوں سے آئے ہوئے مندوبین اور لاہور کے مسلمانوں کے سامنے وہ تاریخی قرار داد پیش کی جو بعد میں قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔23 مارچ کا دن پاکستانی قوم کے لیے تجدید عہد کا دن ہے اس روز ہم کو خلوص دل اور خلوص نیت کے ساتھ اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ ہم ملک پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر مضبوط کریں گے اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں گے اس کو حقیقی فلاحی مملکت بنانے کے لیے اپنی تمام توانائیوں کو بروئے کار لائیں گے اگر ضرورت پڑے تو ارض مقدس کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے اتحاد و اتفاق اور قومی آہنگی سے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے پاکستانی ہلالی پرچم کو بلند سے بلند تر کریں گے۔ آج وطن کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں دہشت گردی بھی شامل ہے، پاک فوج کے جوان آپریشن ضرب عضب کے ذریعے وطن دشمن عناصر کا صفایا کر رہے ہیں، یہ بات طے ہے کہ قومی اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ہی ہم سرخرو ہو سکتے ہیں اور صد شکر کہ آج ساری قوم ایک آواز ہے اور سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے دنیا کو پیغام دے رہی ہے کہ ہم امن پسند ہیں لیکن ہمارے امن کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہر مشکل گھڑی میں اس پاک سرزمین کی حفاظت کے لیے وطن کا بچہ بچہ اپنے خون کا قطرہ قطرہ بہانے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔

لاہور کے مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments

yom qarardad Pakistan aur sabz hilali parchmon ki bahhar is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 March 2019 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.