فیصل آباد میں کورونا مریضوں کی پازیٹو شرح2فیصد پر آگئی،

گزشتہ 24گھنٹوں میں مزید24نئے کیس رپورٹ ہوئے،ترجمان ڈی ایچ اے

جمعرات 28 اکتوبر 2021 14:19

فیصل آباد میں کورونا مریضوں کی پازیٹو شرح2فیصد پر آگئی،
فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اکتوبر2021ء) فیصل آباد میں کورونامریضوں کی پازیٹو شرح2فیصد پر آ گئی اور حالیہ24گھنٹوں میں کوروناکے مزید24نئے پازیٹومریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ فیصل آباد میں اب تک کوویڈ۔19سے جاں بحق افراد کی کل تعداد1034اور ایکٹو کیسز کی تعداد258 ہو گئی ہے نیزالائیڈ ہسپتال میں اس وقت کوویڈ۔19کے57،ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 21اور گورنمنٹ جنرل ہسپتال غلام محمد آبادفیصل آبادمیں 8مریض داخل ہیں اسی طرح105کنفرم مریض گھروں پر آئسولیشن میں ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی فیصل آباد کے ڈی ایچ او ڈاکٹر بلال احمدنے جمعرات کو اے پی پی کو بتایا کہ فیصل آباد کی تمام سرکاری اور پرائیویٹ لیبارٹریز میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران1026افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے1002افرادکے ٹیسٹ نیگیٹواور24افراد کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایاکہ فیصل آباد میں اب تک کووڈ19سے جاں بحق ہونیوالے افراد کی کل تعداد1034 اور ایکٹو کیسز کی تعداد258 ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ابتک کووڈ19کے25507مریض صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت الائیڈ ہسپتال میں کووڈ19کے57، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں 21اور گورنمنٹ جنرل ہسپتال غلام محمد آبادفیصل آبادمیں 8مریض داخل ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اس وقت کوویڈ کے کنفرم105مریض گھروں پر آئسولیشن میں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد میں کووڈکے مریضوں کیلئے مخصوص کئے گئے تینوں ہسپتالوں میں کل 402 بیڈز مختص ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ الائیڈ ہسپتال فیصل آبادمیں 200، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 52اور گورنمنٹ جنرل ہسپتال غلام محمد آباد فیصل آباد میں 150بیڈزکووڈکے سلسلہ میں مخصوص ہیں۔انہوں نے بتا یا کہ الائیڈہسپتال میں 26 وینٹی لیٹرز سمیت شہر کے ڈی ایچ کیو اور غلام محمد آباد ہسپتالوں میں مجموعی طور پر47وینٹی لیٹرزموجود ہیں جنہیں بوقت ضرورت زیر استعمال لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ الائیڈ،ڈی ایچ کیو و جنرل ہسپتال غلام محمد آباد میں کووڈکے ممکنہ مریضوں کیلئے آکسیجن کی سہولت والے بیڈز وادویات وافرمقدار میں دستیاب ہیں تاہم پھر بھی احتیاطی تدابیرپرعمل درآمد ضروری ہے۔

فیصل آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments