خصوصی افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں ،فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لئے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے، امجد حسین ایڈووکیٹ

سرکاری ملازمتوں میں خصوصی افراد کا کوٹہ آٹے میں نمک کے برابر ہے اس میں اضافہ اشد ضروری ہے، قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان

ہفتہ 4 دسمبر 2021 00:03

گلگت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 دسمبر2021ء) قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی صدر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ خصوصی افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں انکی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لئے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے، بدقسمتی سے خصوصی افراد کے لئے اسطرح کے اقدامات نہیں کئے گئے جن کے وہ حقدار ہیں، سرکاری ملازمتوں میں خصوصی افراد کا کوٹہ آٹے میں نمک کے برابر ہے اس میں اضافہ اشد ضروری ہے،جب تک ان افراد کو روزگار نہیں ملتا خصوصی وظیفہ دیا جانا چاہئے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے گزشتہ اجلاسوں میں پیپلزپارٹی نے خصوصی افراد کے لئے آواز بلند کی اور انشاء اللہ ہم سرکاری ملازمتوں میں انکا کوٹہ بڑھانے کے لئے بھی آواز اٹھائیں گے اسکے علاؤہ خصوصی افراد کو ہنر مند بنا کر بھی انکی مشکلات دور کی جاسکتی ہیں اس مقصد کے لئے حکومتی اور این جی اوز دونوں کی سطح پر عملی اقدامات نہایت ضروری ہیں،سرکاری ملازمتوں میں معذور افراد کا کوٹہ دو فی صد سے بڑھا کر پانچ فیصد کرنے کے لئے خصوصی آواز اٹھائیں گے۔

(جاری ہے)

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے کمر توڑ مہنگائی نے جس طرح عام افراد کو متاثر کیا ہے اسی طرح خصوصی افراد ان سے زیادہ مشکلات اور پریشانی کا شکار ہیں۔ تبدیلی سرکار عوام کو کسی بھی طرح کا ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ روز مرہ کی اشیاء غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں اور انکی قوتِ خرید تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے، فلاحی ریاست کے دعوے داروں نے ملک کو مہنگائی ریاست بنا کر رکھ دیا ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کو انتہائی ناقص آٹا کھلایا جا رہا ہے جس سے مختلف امراض پیدا ہو رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مینڈیٹ چور حکومت کے اب گندم کی چوری کے سکینڈل بھی سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے انتخابات سے قبل جو وعدے اور دعوے کئے تھے ایک سال گزرنے کے باوجود بھی کسی عملی اقدام کے بجائے وہی وعدے اور دعوے دہرائے جا رہے ہیں۔

گلگت شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments