خواتین کو ہراساں کرنے والے یوٹیوبر نے معافی مانگ لی

میں نے فالورز بڑھانے کے لیے خواتین پر ویڈیو بنائی جس کے لیے معذرت خواہ ہوں،آئندہ ایسی کوئی ویڈیو نہیں بناؤں گا۔ یوٹیوبر کا بیان

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات جون 15:31

خواتین کو ہراساں کرنے والے یوٹیوبر نے معافی مانگ لی
گجرانوالہ ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 جون 2021ء ) خواتین کو ہراساں کرنے والے یوٹیوبر نے معافی مانگ لی۔تفصیلات کے مطابق پرینک کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والے یوٹیوبر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد مذکورہ یوٹیوبر کا کہنا ہے کہ میں نے گذشتہ دنوں خواتین کے حوالے سے ایک ویڈیو بنائی تھی،ویڈیو میں خواتین کی تذلیل بھی کی گئی جس پر میں معذرت خواہ ہوں۔

میں اس وجہ سے معافی مانگ رہا ہوں کیونکہ میں نے فالورز بڑھانے کے لیے خواتین پر ویڈیو بنائی۔گجرانوالہ پولیس نے مجھے حراست میں لے لیا ہے۔میں معافی چاہتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسی ویڈیو نہیں بناؤں گا۔
۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک یوٹیوبر کو پرینک کے نام پر راہ چلتی خواتین کو ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا،نوجوان ویڈیو میں خواتین کو دوپٹہ لینے کا کہتے ہوئے انہیں زدوکوب بھی کرتا ہے،اور ہزار روپے دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان پیسوں سے دوپٹہ خریدیں۔

(جاری ہے)

خواتین کو کہتا ہے کہ جب ماں دوپٹہ نہیں کرے گی تو بیٹی نے کیا کرنا ہے،خواتین مذکورہ شخص کے رویے پر گھبرا گئیں اور کہا کہ اپنے پیسے پاس رکھو۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے سوشل میڈیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یوٹیوبر کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔خواتین کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ یوٹیوبر کی اور ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں اسے فیملیز کو تنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

صارف نے کہا کہ کبھی یہ شخص سکول کالج کی بچیوں کے بازو پکڑ لیتا ہے، کبھی بچیوں کے سر سے ڈوپٹہ کھینچ لیتا ہے، اس ویڈیو میں کسی کی بیوی کو کندھے سے پکڑ ہراساں کر رہا ہے ، کوئی قانون ہے پاکستان میں ؟ یہ مذاق ہے ؟
۔مذکورہ یوٹیوبر کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔پولیس کی جانب سے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس نے ملزم کی تصویر شئیر کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ملزم کی گرفتاری کو سوشل میڈیا پر سراہا جا رہا ہے۔جبکہ اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
۔

گجرانوالہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments