لطیف آباد نمبر 8 اکبری مسجد کے قریب نصب کیا گیا بجلی کا ٹرانسفارمر دھماکے سے پھٹنے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

پولیس نے سرکار کی مدعیت میں حیسکو کے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ، ایس ایس پی نے 6 رکنی اسپیشل کمیٹی قائم کردی حیسکو چیف ریحان حمید نے 4 اہلکاروں کو معطل کرکے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیدیا، رپورٹ طلب کرلی گئی متاثرہ خاند انوں کی طرف سے قتل کی ایف آئی آر کے اندراج کو روکنے کے لئے حیسکو اور پولیس کی پیش بندی کے لئے ایف آئی آر جلدبازی میں درج کرلی

جمعہ 23 جولائی 2021 19:55

لطیف آباد نمبر 8 اکبری مسجد کے قریب نصب کیا گیا بجلی کا ٹرانسفارمر ..
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جولائی2021ء) لطیف آباد نمبر 8 اکبری مسجد کے قریب نصب کیا گیا بجلی کا ٹرانسفارمر دھماکے سے پھٹنے کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہونے کے سانحے کے سلسلے میں اے سیکشن پولیس نے سرکار کی مدعیت میں حیسکو کے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے جبکہ اس ایف آئی آر کے سلسلے میں تحقیقات کے لئے ایس ایس پی حیدرآباد نے 6 رکنی اسپیشل کمیٹی قائم کر دی ہے، حیسکو چیف ریحان حمید نے بھی ایس دی او رضوی سب ڈویژن عرفان احمد سمیت 4 اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا ہے اور رپورٹ طلب کی ہے۔

شہری حلقوں میں عام تاثر یہ ہے کہ واپڈا اور حیسکو کے اعلیٰ حکام کے خلاف متاثرہ خاند انوں کی طرف سے قتل کی ایف آئی آر کے اندراج کو روکنے کے لئے حیسکو اور پولیس نے ملی بھگت کر کے پیش بندی کے لئے یہ ایف آئی آر جلدبازی میں درج کی ہے۔

(جاری ہے)

اکبری مسجد لطیف آباد نمبر 8 کے قریب جمعرات کو ٹرانسفارمر پھٹنے سے دو درجن کے قریب افراد کے کھولتے ہوئے تیل سے بری طرح جھلس جانے اور بعد میں 7 افراد کے دم توڑ جانے کے سلسلے میں لطیف آباد اے سیکشن تھانے میں ایف آئی آر نمبر 199/2021 زیردفعہ 322-427ppc اے ایس آئی ہاشم علی راجپوت کی مدعیت میں درج کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 22 جولائی کو وائرلیس پر اطلاع ملی کہ حیسکو رضوی سب ڈویژن یونٹ نمبر 8 میں اکبری مسجد کے قریب ٹرانسفارمر پھٹ گیا ہے جس سے آئل گر رہا ہے اور آگ کی وجہ سے لوگ جھلس گئے ہیں، 3:55 پر جائے وقوعہ کے لئے روانہ ہوئے جہاں پتہ چلا کہ زخمیوں کو سول ہسپتال لے جا چکے ہیں، فوری ہسپتال پہنچے جہاں زخمیوں کے لواحقین کا کافی ہجوم تھا، علم ہوا کہ اس واقعہ میں شاہ رخ، سجاد، نعمان، شجاعت، مدثر، عارفین، تابش، عبدالرحمن، سہیل، اسماعیل، صارم، فیصل، سلیم، عرفان، حنان، سمیع، وقاص جو کہ لطیف آباد نمبر 8 کے رہنے والے ہیں زخمی ہیں اور زیرعلاج ہیں، ان کے علاوہ حیسکو کے ملازمین میں سہیل رضوی، اسماعیل، فیصل، سلیم اور ابراہیم بھی زخمیوں میں شامل ہیں جو کہ ٹرانسفارمر کی مرمت کر رہے تھے اور ٹرانسفارمر میں لگنے والی آگ سے جھلس گئے، زخمیوں کے علاج کے لئے ایم ایل او کو لیٹر دیا گیا اور تمام زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے سبب ڈاکٹروں نے تمام کو علاج کے لئے کراچی ریفر کر دیا، کراچی ریفر کئے جانے والوںمیں تابش اور شجاعت جو شدید زخمی تھے وہ زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئے، حیسکو رضوی سب ڈویژ ن کے مذکورہ اہلکار جنہوں نے بجلی کے ٹرانسفارمر کی ناقص مرمت کی اور ٹرانسفارمر پھٹ جانے سے اس میں آگ بھڑک اٹھی جس سے تابش اور شجاعت کی موت واقع ہوئی لہذٰا یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اب تک زخمیوں میں سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 7 تک پہنچ گئی ہے اور مزید کی بھی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments