صحت کے شعبے پر ستر سال میں توجہ نہیں دی گئی ، عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے اس شعبہ کا بجٹ بڑھانا ضروری ہے

وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی کا قومی ہیلتھ ریسرچ کانفرنس سے خطاب

پیر ستمبر 17:18

صحت کے شعبے پر ستر سال میں توجہ نہیں دی گئی ، عوام کو صحت کی معیاری سہولیات ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی نے کہا ہے کہ حکومت صحت کے شعبے میں تحقیق کو اہمیت دیتی ہے،اس شعبے پر ستر سال میں توجہ نہیں دی گئی ، عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کے لئے اس شعبہ کا بجٹ بڑھانا ضروری ہے۔وہ پیر کو پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کے زیر اہتمام پہلی قومی ہیلتھ ریسرچ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کے مہمان خصوصی صدر مملکت عارف علوی تھے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ حکومت صحت کے شعبے میں تحقیق کو اہمیت دیتی ہے اور اس کے فروغ کے لیے پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں ایک خصوصی فنڈ کا اجراء کیا جائے گا کیونکہ صحت کا شعبہ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

(جاری ہے)

وزیر صحت نے مزید کہا کہ محدود ملکی وسائل اور لاتعداد مسائل کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں ایسی تحقیق کو فروغ دیا جائے جس سے صحت کے بنیادی مسائل حل ہوں۔

وزیر صحت نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ہمارے ملک میں تحقیق کے رجحان کا شدید فقدان ہے موجودہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔ صحت کے شعبے میں پچھلے ستر سالوں میں کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ صحت کے لیے بجٹ کو بڑھانا بے حد ضروری ہے تاکہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ اس کانفرنس سے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے اور اپنے اہداف تک پہنچنے میں بہت مدد ملے گی۔

عام آدمی کی صحت میں بہتری کے لیے حکمت عملی کی تیاری اور پالیسی سازی کے لیے آپ کی تحقیقات سے استفادہ ہماری اولین ترجیح ہے ۔ وفاقی سیکرٹری ہیلتھ کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید نے اس موقع پر کہا کہ ہیلتھ ریسرچ کانفرنس میں ملک بھر سے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی بڑی تعداد میں شمولیت حوصلہ افزا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملک میں تحقیق کے رجحان کو اگر فروغ دیا جائے صحت کے بنیادی مسائل پر قابو پانا قدرے آسان ہو گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments