نواز شریف نے بیرون ملک جانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

نواز شریف کا علاج اسی ڈاکٹر سے ممکن ہے جس نے برطانیہ میں ان کاعلاج کیا تھا، نواز شریف پاکستان میں علاج کرانے کی پابندی پر نظر ثانی کی جائے۔ درخواست میں استدعا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات اپریل 15:06

نواز شریف نے بیرون ملک جانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24 اپریل 2019ء) : سابق وزیراعظم نواز شریف نے بیرون ملک جانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ن لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف نے بیرون ملک جانے کی اجازت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔15 صفحات پر مشتمل نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔عدالت عظمیٰ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 26مارچ کو 6 ہفتوں کے لیے مشروط ضمانت دی تھی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ضمانت طبی بنیادوں پر دی گئی۔26 مارچ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف چھ ہفتے کے دوران ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔نواز شریف پاکستان میں علاج کرانے کی پابندی پر نظر ثانی کی جائے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف کا علاج اسی ڈاکٹر سے ممکن ہے جس نے برطانیہ میں ان کاعلاج کیا تھا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ نے لکھوائے حکم نامے میں کہا کہ نواز شریف ضمانت میں توسیع کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

تحریری حکم نامے میں ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حصہ شامل نہیں ہے۔یہ ٹائپنگ کی غلطی ہو سکتی ہے۔نواز شریف کی مکمل صحتیابی چھ ہفتوں میں نا ممکن ہے۔پاکستان ، یو کے، یو ایس اے اور سئٹرزلینڈ کے طبی ماہرین کے مطابق نواز شریف کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔نواز شریف کو دل اور گردے کے امراض لاحق ہیں۔نواز شریف ہائی بلڈ پریشر ،شوگر اور گردوں کے تیسرے درجے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

درخواست میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نواز شریف ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔صرف پاکستان کے اندر نواز شریف کو علاج کے لیے پابند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔سپریم کورٹ 26مارچ کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔واضح رہے سابق وزیراعظم نواز شریف کو چھ ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments