ملکی معیشت صحت مندانہ اندازمیں پائیداربنیادوں پرآگے بڑھ رہی ہے، شرح نمو مستحکم ہے ، برآمدات، ترسیلات زر ، بڑی صنعتوں کی پیداوار اوربراہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، وزارت خزانہ

جمعرات 27 جنوری 2022 16:13

ملکی  معیشت صحت مندانہ اندازمیں پائیداربنیادوں پرآگے بڑھ رہی ہے، شرح نمو  مستحکم ہے  ،  برآمدات، ترسیلات زر ، بڑی صنعتوں کی پیداوار اوربراہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے،  وزارت خزانہ
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 27 جنوری 2022ء) وزارت خزانہ نے کہاہے کہ پاکستان کی معیشت صحت مندانہ اندازمیں پائیداربنیادوں پرآگے بڑھ رہی ہے اور پیداوار کی شرح نمو مستحکم ہے تاہم خطرے کے متعدد عوامل اب بھی موجود ہیں، پہلی ششماہی میں  معاشی اشارے بہترنمو کی عکاسی کررہے ہیں، برآمدات، ترسیلات زر اوربڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ ہورہاہے، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 20.7 فیصدکی شرح سے نموریکارڈکی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زرمیں 11.3 فیصداضافہ ہوا، جولائی سے لیکردسمبر2021تک کی مدت میں سمندرپارپاکستانیوں نے 15.8 ارب ڈالرکازرمبادلہ ملک ارسال کیا۔

(جاری ہے)

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت یہ حجم 14.2 ارب ڈالرتھا۔برآمدات کے فروغ کیلئے اقدامات کے نتیجہ میں ملکی برآمدات میں اضافہ ہورہاہے، پہلی ششماہی میں 15.2 ارب ڈالرکی برآمدات ریکارڈکی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 29 فیصدزیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات کا حجم 11.8 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

درآمدات میں اضافہ کی شرح 56.9 فیصد ریکارڈکی گئی ہے، پہلی ششماہی میں درآمدات پر36.4 ارب ڈالرکازرمبادلہ صرف ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 23.2 ارب ڈالرتھا۔وزارت خزانہ کے مطابق پہلی ششماہی میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 9.1 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں منفی 1.2 ارب ڈالرتھا۔ مجموعی قومی پیداوارکے تناسب سے حسابات جاریہ کا خسارہ پہلی ششماہی میں 5.7 فیصد ریکارڈکیاگیاہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں منفی 0.9 فیصدتھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کی پہلی ششماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 20.7 فیصدکی شرح سے نموریکارڈکی گئی ہے۔جولائی سے لیکردسمبر2021 تک کی مدت میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 1056.6 ملین ڈالرریکارڈکیاگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 879.7 ملین ڈالرتھا۔پورٹ فولیو اورمجموعی غیرملکی سرمایہ کاری میں پہلی ششماہی کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق پہلی ششماہی میں زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں اضافہ ہواہے،22 جنوری 2021 کوزرمبادلہ کے ذخائر کاحجم 20.108 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا جو24 جنوری 2022 کو بڑھ کر22.352 ارب ڈالرہوگیا ہے۔ اس میں سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 16.060 ارب ڈالراوربینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 6.292 ارب ڈالرہے۔22 جنوری 2021 کو ایکسچینج ریٹ 160.75 روپے تھا جو 24جون 2022 کو بڑھ کر 176.49 ارب ڈالرہوگیا۔

جاری مالی سال میں ایف بی آر کی محصولات میں 32.5 فیصدکی شرح سے نموریکارڈکی گئی ہے، جولائی سے لیکردسمبرتک کی مدت میں ایف بی آر کی محصولات کاحجم 2920 ارب روپے ریکارڈکیاگیا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ایف بی آر نے 2204 ارب روپے کی محصولات اکھٹاکیں۔نان ٹیکس محصولات میں جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں 22 فیصدکی شرح سے کمی ریکارڈکی گئی ہے، پہلی ششماہی میں نان ٹیکس ریونیوکی مدمیں 519 ارب روپے کی محصولات اکھٹا کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 666 ارب روپے تھی۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فنڈز کے اجرا میں 45 فیصد کی شرح سے نموریکارڈکی گئی ہے، پہلی ششماہی میں پی ایس ڈی پی کے تحت 434.6 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے گئے ۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں پی ایس ڈی پی کے تحت 299.7 ارب روپے کے فنڈز کا اجراکیاگیاتھا۔وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں مالیاتی خسارہ بڑھا ہے، جولائی سے نومبرتک مالیاتی خسارہ کاحجم 951 ارب روپے رہا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 822ارب روپے تھا۔

جولائی سے لیکرنومبرتک کی مدت میں پرائمری بیلنس منفی 26 ارب روپے رہاجو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 216 ارب روپے فاضل تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں زرعی شعبہ کو قرضوں کے اجراءمیں 3.9 فیصدکی نموریکارڈکی گئی ہے، جولائی سے لیکردسمبر2021 تک کی مدت میں زرعی قرضوں کاحجم 641ارب روپے ریکارڈکیاگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 617 ارب روپے تھا۔

یکم جولائی سے لیکر 7 جنوری 2022 تک کی مدت میں نجی شعبہ کوقرضوں کاحجم 772.8 ارب روپے رہا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 215.5 ارب روپے تھا۔پالیسی ریٹ میں جاری مالی سال کی پہلی ششماہی میں گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں معمولی اضافہ ہواہے، 24 جنوری 2022 کو پالیسی ریٹ 9.75 روپے ریکارڈکیاگیا جو 22 جنوری 2021 کو 7 فیصد تھا۔پہلی ششماہی میں صارفین کیلئے قیمتوں کا قومی اشاریہ 12.3 فیصد ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 8 فیصد تھا۔

جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں3.3 فیصدکی شرح سے نموریکارڈکی گئی ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ کی شرح 6.9 فیصدریکارڈکی گئی تھی۔ وزارت خزانہ کے مطابق جولائی سے لیکر24 جنوری 2022 تک کی مدت میں کے ایس ای 100 انڈکس میں 6.02 فیصد کی کمی ریکارڈکی گئی ہے۔یکم جولائی 2021 کو کے ایس ای 100 انڈکس 47801 پوائنٹس ریکارڈکیاگیاتھا جو 24 جنوری 2022 کو 44924 پوائنٹس تھا۔

پہلی ششماہی میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 8 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی ہے۔ یکم جولائی 2021 کو مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا حجم 8.38 ٹریلین روپے تھا جو 24 جنوری 2022 کو 7.71 ٹریلین روپے ہو گیا ۔ وزارت  خزانہ کے مطابق پہلی ششماہی میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 4.67 فیصدکی شرح سے نموریکارڈکی گئی ہے۔ جولائی سے لیکردسمبرتک کی مدت میں 12778نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی ، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 12208نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ریکارڈکی گئی تھی۔

وزارت خزانہ نے کہاہے کہ پاکستان کی معیشت صحت مندانہ اندازمیں پائیدار بنیادوں پرآگے بڑھ رہی ہے اور ممکنہ پیداوار کی شرح نمو مضبوط ہے تاہم خطرے کے متعدد عوامل اب بھی موجود ہیں۔ خطرے کا پہلا عنصر کوروناوائرس کی عالمگیروبا کی نئی قسم اومیکرون  ہے۔دوسرے ممالک کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قسم پہلے سے کہیں زیادہ متعدی ہے تاہم اس کی شدید بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت کمزور ہے۔

دوسرا خطرہ بیرونی توازن پر دبائو ہے۔ حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ زیادہ رہاہے تاہم بنیادی منظر نامہ یہ ہے کہ برآمدات کے مقابلے درآمدات زیادہ ہے ، آنے والے مہینوں میں آہستہ آہستہ صورتحال میں بہتری آئے گی۔برآمدات اور اعتدال پسند درآمدی طلب کو متحرک کرنے کے لیے کئے جانے والے اقدامات اور پالیسی فیصلے بھی اس ضمن میں معاون ثابت ہوں گے ۔تیسرا عامل افراط زرکی زیادہ شرح ہے جو آنے والے مہینوں میں ڈبل ڈیجٹ  میں رہے گی، اس وقت عالمی منڈیوں میں اشیا کی قیمتیں بلندترین سطح پرہے جس کی وجہ سے پاکستان میں درآمدی افراط زرکے اثرات ہیں۔عالمی منڈیوں میں بنیادی اشیا کی قیمتوں میں کمی سے ملک میں بھی بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments