سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس

فیوچر مارکیٹ بل 2016 سرکلرڈیٹ کی کلیئرنس کے حوالے سے سپیشل آڈ ٹ رپورٹ ، نئی مردم شماری کے معاملات اور سابقہ اجلاس میں شماریات ڈویژن کو دی گئی سفارشات پر عملد رآمداور دیگر اہم معاملات زیر بحث لائے گئے

بدھ جنوری 20:26

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 جنوری۔2016ء ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس ہا ل میں بدھ کو منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فیوچر مارکیٹ بل 2016 سرکلرڈیٹ کی کلیئرنس کے حوالے سے سپیشل آڈ ٹ رپورٹ ، نئی مردم شماری کے معاملات اور سابقہ اجلاس میں شماریات ڈویژن کو دی گئی سفارشات پر عملد رآمداور دیگر اہم معاملات زیر بحث لائے گئے ۔

جعلی پینشنرکے معاملے کے حوالے سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان رانا اسد امین نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ سینیٹ کے اس فورم میں جعلی پینشروں کے مسئلے کی نشاندہی کی تھی اور اس حوالے سے تین ایکشن لئے گئے ہیں ۔سپیشل آڈٹ مارچ سے جون تک کیا جاتا ہے اور ادارے نے سپیشل آڈٹ کی رپورٹ صدر پاکستان کو بھیجنی ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ جو جعلی پینشروں کی تعداد بتائی گئی تھی وہ حقیقت پر مبنی نہیں تھی لوگ این بی پی کے علاوہ باقی بینکوں سے بھی پنشن لے رہے ہیں ہم نے صرف این بی پی کو فوکس کیا تھااور این بی پی کی رپورٹ آئندہ کمیٹی اجلاس میں پیش کر دی جائے گی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جعلی پینشن حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے بہت سی جگہوں سے تصدیق کروانا پڑتی ہے البتہ ملازم کے مرنے کے بعد یہ پینشن فیملی پینشن میں تبدیل کی جاتی ہے اور بہت سے ادارے ایسا نہیں کرتے لوگوں کو بھی علم نہیں ہوتا ۔ بیوہ کو 100 فیصد کی بجائے 75 فیصدفیملی پینشن ملتی ہے اور بیوہ کی وفات کے بعد غیر شادی شدہ بچی کو پینشن ملتی ہے ۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کا مقصد تھا کہ اصل حقداروں کو ان کا جائز حق ملے نہ کہ فراڈ لوگ مستفید ہو سکیں ۔

آڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ نیشنل بنک نے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے وہ ہم سے آڈٹ نہیں کرتا اگر ہم سے آڈ ٹ کرائی جاتی تو یہ مسائل سامنے نہ آتے ۔جس پر رکن کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ اس مسئلے کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان دوبارہ دیکھیں اور منٹس میں بہت سی چیزیں سامنے آئی تھیں اس کے مطابق اقدامات لے جائیں۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اگر جعلی پینشنر ثابت ہوتے ہیں تو مستقبل میں ان کو روکنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سرکلر ڈیٹ کی کلیئرنس پر سپیشل آڈٹ رپورٹ کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کہا کہ ہم نے رپورٹ پیش کر دی ہے فیصلہ کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے اور باقی معلومات اسٹیٹ بنک آف پاکستان یا وزارت خزانہ سے حاصل کی جاسکتی ہیں ۔وزارت خزانہ کے پاس د وقسم کے بجٹ ہوتے ہیں ایک اپنا اور دوسرا کچھ اداروں کے کیلئے پر رکھتا ہے ۔

وزارت خزانہ کسی منصوبے کیلئے بجٹ کا اجراء اکیلئے جی پی آر کو بھیجتا ہے وہ اسے منظور کرتے ہیں اور آڈٹ کرتے ہیں جبکہ دوسری وزارت یا ادارے کے بے ہاف کے بجٹ کے اجراء کیلئے اے جی پی آر آڈٹ نہیں کرتا صرف مہر لگاتا ہے ۔اس کیس میں وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بنک کو ڈریکٹ بھیج کر کاپی اے جی پی آر کو بھیجی ہے اسٹیٹ بنک بنکر ہے اور پیمنٹ کرنا اس کا کام ہے ۔

جس پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایسی کیا ایمرجنسی تھی کہ قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔اور بہت سے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے ۔کمیٹی کو وجہ بتائی جائے ۔جس پر وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ کچھ ٹرانزکشن ایسی ہوتی ہیں جن کو آڈٹ میں نہیں ڈال سکتے اور آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے جو رپورٹ پیش کی ہے وہ ہمیں نہیں بھیجی گئی اس کے جوابات ہم فراہم کردیں گے ۔

جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ کام غلط کیا گیا ہے ۔کمیٹی کو اصل حقیقت کے آگاہ کیا جائے ۔وزارت خزانہ آگاہ کرے کہ کیا ایمرجنسی تھی ۔ آئندہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ ، سیکرٹری پانی و بجلی قائمہ کمیٹی کو ان معاملات پر بریفنگ دیں ۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ اے جی پی سے جو 15 پوائنٹ اٹھائے گئے ہیں انتہائی اہم ہیں بہت سی ادائیگی معاف بھی ہو سکتی تھی ۔

ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ آئندہ ایسی ادائیگیاں نہ کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ غریب لوگ کھانے کو ترس رہے ہیں بیورکریسی اپنے مفاد کی خاطر کیا سے کیا کر رہی ہے ۔اے جی پی نے اچھا کام کیا ہے ان کی کاوش کو سراہا جائے ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فیوچر مارکیٹ کے بل کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کے فیوچر مارکیٹ کو سیکورٹیز ایکسچینج آرڈنینس کے تحت ریگولیٹ کیا گیا ۔

بعد میں اس میں بہت سی ترامیم کی گئی اب فیوچر مارکیٹ قوانین میں متعلقہ اسٹیک ہولڈر جن میں اسٹاک ایکسچینج کی باہمی مشاورت سے ڈرافٹ تیار کیا ہے جن میں متعد د ترامیم کی سفارش کی گئی ہے ۔اس سے کسانوں کو بھی بہت سا فائدہ ہوگا۔قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس بل کی کاپی حاصل کر کے تفصیلی جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں معاملات پر بحث کی جائے گی ۔

سیکرٹری شمارت ڈویژن شاہد حسن اسد نے قائمہ کمیٹی کو نئی مردم شماری کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سی سی آئی نے مارچ2015 میں فیصلہ کیا کہ نئی مردم شماری فوج کی نگرانی میں مارچ 2016 سے شروع کی جائے گی ۔انہوں نے کہا اس سے بنیادی معلومات پر ڈیٹا اکھٹا ہوگا ۔ 1981 کے بعد ہر دس سال بعد مردم شماری ہوتی تھی پاکستان کو آزادی ملنے کے بعد پانچ مرتبہ مردم شماری کی گئی ہے 1998 میں آخری دفعہ کی گئی تھی اور اب چھٹی مردم شماری مارچ2016 میں کی جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ نومی نیٹرز معلومات اکھٹی کریں گے ۔ تین دنوں میں ہاؤ س لسٹنگ کی جائے گی ۔اور 15 دنوں میں باقی معلومات اکھٹی کی جائے گی اور پھر ایک دن بے گھر افراد کی معلومات اکھٹی کی جائیں گی۔اراکین کے سوال کے جواب میں قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جھوٹی معلومات دینے والے کو چھ ماہ تک کی سزا دی جاسکتی ہے ۔سیکرٹری شماریات نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ معلومات قانون کے تحت ہم کسی بھی ادارے کو فراہم نہیں کر سکتے ۔

جس پر رکن کمیٹی سردار فتح محمد محمد حسنی نے کہاکہ ادارے کو یہ معلومات بھی حاصل کرنی چاہیے کہ ملک میں کتنے لوگ غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں اس ادارے کا فائدہ اٹھانا چاہیے ۔جس پر قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کہ شماریات ڈویژن کو جب بلایا جائے گا تو ان کے ساتھ وزارت داخلہ الیکشن کمیشن اور وزارت سیفران کو بھی کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا جائے تاکہ کوئی بہتر حل نکالا جا سکے ۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سابقہ اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملد رآمد کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سٹیل بلٹس کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔عباس اکبر علی وائس چیئرمین پاکستان سٹیل میلٹرز ایسوسی ایشن نے قائمہ کمیٹی معاملے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر کامل علی آغا کے پی وی سی مسئلے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ پی وی سی کیبل ہیزٹ آٹم نہیں ہے مسئلے کو خراب کرنے کیلئے یہ ماحولیات کو بھیجا گیا اصل حقیقت یہ ہے کہ ایک ٹریڈز کو سریٹفکیٹ دیا گیا ہے جو درحقیقت مینوفیکچر بھی نہیں ہے صرف اسی کو نوازنے کیلئے یہ سارا پلان ترتیب دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک جن میں انڈیا ، سعودی عرب اور چین شامل ہیں بھی حاصل کر رہے ہیں مگر پاکستان میں روک دی گئی ہے ۔

کامرس کے حکام نے کہا کہ جب پی وی سی کی ریسئکلنگ کی جاتی ہے تو اس سے مضر صحت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔یہ پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے بنی ہے اور وزارت موسمی تغیرات کو ایک ماہ میں سریٹیفکٹ دینے کا بھی پابند بنایا ہے اور پری شپنگ انسپکشن بھی کرائی جاتی ہے یہ پی وی سی مختلف اشیاء میں استعمال ہوتی ہے کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز محمد محسن خان لغاری، کامل علی آغا، عائشہ رضا فاروق ، سردار فتح محمد محمد حسنی ، محسن عزیز کے علاوہ آڈیٹرجنرل آف پاکستان ، وزارت خزانہ کے حکام ، وزارت قانون ، وزارت سائنس اینڈٹیکنالوجی اور شماریات ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments