مذہب کوتشدد اورنفرت پھیلانے کیلئے استعمال کرنے والے مذہب کا حقیقی چہرہ مسخ کرتے ہیں، دہشت گردی

اورعسکریت پسندی کے خلاف متفقہ فتویٰ کو قانون کی شکل دینا چاہیئے اوراعلیٰ تعلیمی کمیشن کواسے نصاب کاحصہ بنانا چاہئیے چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹرقبلہ آیاز کا نیکٹا کے زیراہتمام پینل مذاکرے سے خطاب

منگل اپریل 18:53

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین ڈاکٹرقبلہ آیازنے کہاہے کہ اسلام سمیت تمام الہامی مذاہب نے پرامن معاشروں کے قیام کاپرچارکیاہے، مذہب کوتشدد اورنفرت پھیلانے کیلئے استعمال کرنے والے مذہب کا حقیقی چہرہ مسخ کرتے ہیں، دہشت گردی اورعسکریت پسندی کے خلاف متفقہ فتویٰ کو قانون کی شکل دینا چاہیئے اوراعلیٰ تعلیمی کمیشن کواسے نصاب کاحصہ بنانا چاہئیے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے منگل کویہاں انسداددہشت گردی کی قومی مقتدرہ (نیکٹا) کے زیراہتمام ’’اسلام آباد انٹرنیشنل کاونٹرٹیررازم فورم‘‘ کے پہلے روز منعقدہ پینل مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرانہوں نے شرکاء کے مختلف سوالوں کے جواب بھی دئیے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹرقبلہ آیازنے کہاکہ پرامن معاشرے کا قیام اسلام کے بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں اس ضمن میں انہوں نے پیغمبراسلام ﷺ کے دورمیں مدینہ میں اوس اورخزرج قبائیل کے درمیان تصفیہ اوریہودیوں کے ساتھ میثاق مدینہ کی مثال دی، بعدازاں فتح مکہ کے موقع پردشمنوں کیلئے عفوودرگذرسے کام لیتے ہوئے پرامن معاشرے کے قیام کی منزل حاصل کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ اسلام سمیت تمام الہامی مذاہب نے پرامن معاشروں کے قیام کاپرچارکیاہے، مذہب کوتشدد اورنفرت پھیلانے کیلئے استعمال کرنے والے حقیقت میں اس کا حقیقی چہرہ مسخ کرتے ہیں، مذاہب اختلاف نہیں بلکہ اتحاد اورامن کی تعلیم دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 16جنوری کوپاکستان کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اورمشائخ عظام نے دہشت گردی اورعسکریت پسندی کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کیا، اسلامی نظریاتی کونسل نے اس فتویٰ کی توثیق کی اورحکومت سے اسے پارلیمان میں بھیجنے کیلئے کہاتاکہ اسے قانون کاحصہ بنایا جائے ، اسی طرح ہائیرایجوکیشن کمیشن سے کہا گیاہے کہ اس فتویٰ کو نصاب کاحصہ بنانے کیلئے اقدامات کئے جائے تاکہ عوام الناس میں اس حوالے سے شعوروآگہی کو فروغ دیاجاسکے۔

انہوں نے کہاکہ تاریخ میں مذہب کی بنیادپرجنگیں ہوئی ہیں لیکن اصل چیز مذہب کی بنیادی اقداراورتعلیمات کو سمجھنے کی ہے،انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی اورانتہاپسندی کے خلاف بیانیہ کو آگے بڑھایا جائے ، اگر ہم نے مناسب طریقے سے اقدامات کئے تو بطورقوم ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔پینل ڈسکشن میں بین الاقوامی تنظیم البانے ایسوسی ایٹس کے مندوب سائمن ہیزلاک نے دہشت گردی اورعسکریت پسندی کے خلاف سول سوسائٹی کی تنظیموں کے کردار پرروشنی ڈالی اورشرکاء سے دارفور، صومالیہ اوردنیاء کے دیگرخطوں میں اپنے تجربات میںشریک کیا۔

انہوں نے کہاکہ مقامی ثقافت اوراقدارکے احیاء نوسے دہشت گردی اورعسکریت پسندی کے بیانئے کو شکست دینے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ثقافت کو اس جنگ میں بطورہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔پینل ڈسکشن میں پولیس سروس آف پاکستان کے شہید افسرملک سعد کی بیوہ شاندانہ سعد نے کہاکہ دہشت گردی اورعسکریت پسندی سے دیگرطبقات کے علاوہ خواتین اوربچے سب سے زیادہ متاثرہوتے ہیں۔

انہوں نے اپنے شوہرکی شہادت کے بعدخود پربیتنے والے حالات وواقعات کا تفصیل سے ذکرکیا اورکہاکہ ضرورت اس امرکی ہے کہ پالیسی سازی سمیت تمام اہم امورمیں خواتین کی رائے اورمنشاء کو شامل کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ شوہرکی شہادت کے بعد انہوں نے اپنے بچوں کوسکھایا کہ ریڈیکلائزیشن سے کس طرح بچاجاسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی اورانہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے کیلئے اقدامات ضروری ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments