عوام مہنگائی کا کڑوا گھونٹ برداشت اور حکومت صرف طفل تسلی سے کام چلائے ،سربراہ پاکستان سنی تحریک

حکمران عوام کو مہنگائی وبے روزگاری سے نجات ا ور ریلیف نہیں دے سکتے تو اخلاقی طور پرگھر چلے جائیں ،ثروت اعجاز قادری

منگل جون 21:26

عوام مہنگائی کا کڑوا گھونٹ برداشت اور حکومت صرف طفل تسلی سے کام چلائے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جون2019ء) سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ عوام مہنگائی کا کڑوا گھونٹ برداشت اور حکومت صرف طفل تسلی سے کام چلائے ،اقتدار عوامی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کیلئے ملتا ہے ،حکمران اگر عوام کو مہنگائی وبے روزگاری سے نجات ا ور ریلیف نہیں دے سکتے تو اخلاقی طور پرگھر چلے جائیں ،ملک کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں اور عوام کے مطالبے کے باوجود بجٹ میں عوام کو ریلیف کی بجائے حکومت کا منفی رویہ لمحہ فکریہ ہے ،عوام کو مہنگائی سے نجات دلانا اور آئین میں دیئے گئے حقوق فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت آئینی وجمہوری کردار اداکرنے کی بجائے بیرونی پالیسیوں گامزن ہے ،عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑینگے حکومت غریبوں کے مفاد میں اپنے رویئے تبدیل کرئے ،عوام کی خدمت کو شعار اور ان کے مسائل کو حل کرکے ہی ملک کو آگے کی طرف لیجایا جاسکتا ہے ،ملک معاشی طور پر اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتا جب تک غریبوں کو ریلیف اور حقوق نہیں ملیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومتی پالیسیوں اور معاشی بہتری کے حکومتی دعوئوں پر تنقید کرتے ہوئے کیا ،ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ ملک چلانے اور معاشی استحکام کیلئے تمام اکائیوں کو ساتھ لیکر چلنا نہایت ضروری ہوتا ہے ،حکومت معاشی عدم استحکام پر اپوزیشن یا اسٹریک ہولڈر جماعتوں کو اعتماد میں لے رہی ہے نہ کوئی مشاورت کررہی ہے ،حکومت آئی ایم ایف یا کسی بھی بیرونی پالیسی کو عوام پر مسلط نہ کرئے ،یہی صورتحال رہی ڈالڑ پرواز اور مہنگائی آسمانوں کو چھوتی رہی تو عوام کا صبر کا پیمانہ لبریرز ہوجائیگا ،عوام سڑکو پر نکل آئے تو انہیں روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگا ،حکومت مستقل مجازی اور عوام کی امنگوں کو مد نظررکھتے ہوئے پالیسیاں مرتب کرئے ،بیرونی قرضوں سے مہنگائی بڑھے گی اور روپیہ کی قدرکمزور ہوگی ،عوام طاقت کا سر چشمہ ہیں ان میں مایوسی ہونا معیشت کیلئے اچھا نہیں ہوگا ۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments