کانگو کیسز پر تشویش، حکومت سندھ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،خرم شیرزمان

رواں برس سندھ میں کانگو سے 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، لوگ مررہے ہیں اور حکومت ’’ابو بچائو‘‘ مہم میں مصروف عمل ہے،رکن سندھ اسمبلی کی کڑی تنقید

ہفتہ 24 اگست 2019 23:55

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 اگست2019ء) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے شہر میں بڑھتے ہوئے کانگو کے کے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگو ایک جان لیوا وائرس ہے، جو کہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ رواں برس سندھ میں کانگو سے 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ اب تک حکومت سندھ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

صوبے میں لوگ ایڈز،کانگو،ڈینگی و دیگر جان لیوا امراض سے مر رہے ہیں اور حکومت ابو بچاو مہم میں مصروف عمل ہے۔رہنما پی ٹی آئی خرم شیر زمان نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت سندھ اور محکمہ لائیو اسٹاک سندھ اس مرض کی روک تھام میں مکمل ناکام ہوگئے ہیں۔

(جاری ہے)

محکمہ لائیو اسٹاک سندھ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

حکومت سندھ کی نااہلی کی وجہ سے پہلے لاڑکانہ میں ایڈز اور اب کانگو،نگلیریا اور ڈینگی کا مرض زور پکڑ رہا ہے۔حکومت کی ناکامی کی وجہ سے آج لوگ موزی امراض میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلاول زرداری اپنے ابو کے بجائے سندھ کے باسیوں کو بچانے کی فکر کریں۔ پیپلز پارٹی نے پورے صوبے کے ہر محکمہ کو کرپشن اور لوٹ مار کر کے تباہ و برباد کردیا ہے۔

روٹی،کپڑا،مکان تو دور حکومت سندھ نے لوگوں سے جینے کاحق بھی چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کے جانے کا وقت قریب آ گیا ہے جانے سے قبل کچھ اچھا کام کرتے جائے۔وزیر صحت عزرا پیچوہو سندھ میں ہنگامی بنیادوں پر ان امراض کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کرے۔سندھ کے معصوم و غریب لوگوں کو احتیاطی تدابیر بتائی جائیں،جبکہ وزیر اعلی سندھ عالمی ادارہ صحت اور ماہرین صحت کی مدد سے ان امراض سے بچاو کے لیے صوبے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ #

کراچی میں شائع ہونے والی مزید خبریں