سندھ ہائیکورٹ کا غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے خلاف دخواست پر غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم

پورے شہر میں جگہ جگہ غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والے موجودہیں اورانہوںنے بدمعاش لوگ بیٹھائے ہوتے ہیں، اگر کسی کے پاس کے 20 روپے نہیں ہوتے تو یہ لوگ ان معزز شہری کو بے عزت کرتے ہیں، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو

پیر 17 جنوری 2022 14:18

سندھ ہائیکورٹ کا غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے خلاف دخواست پر غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جنوری2022ء) سندھ ہائیکورٹ نے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے خلاف دخواست پر غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا۔پیرکو سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس عبد المبین لاکھو پر مشتمل بینچ نے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے خلاف دخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جو لوگ غیر قانونی طور پر پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں انکے خلاف فوری کاروائی کریں۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پورے شہر میں جگہ جگہ غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔پارکنگ فیس وصول کرنے والوں نے بدمعاش لوگ بیٹھائے ہوتے ہیں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی کے پاس کے 20 روپے نہیں ہوتے تو یہ لوگ ان معزز شہری کو بے عزت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

لوگ اپنی فیملوں کے ساتھ جاتے ہیں تو یہ لوگ 20 روپے کیلئے تنگ کرتے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کرتا۔ پولیس والے کہتے ہیں ہمارا مسئلہ نہیں ٹریفک پولیس والے کہتے ہیں ہمارا مسئلہ نہیں۔ جسٹس عبدالمبین لاکھو نے استفسار کیا کہ پارکنگ فیس وصول کرنے کا کیا طریقہ کار ہے۔ اگر کسی کے گھرکے باہر گاڑی گھڑی ہو تو اس سے بھی فیس وصول کی جاتی ہے۔

ڈی ایم سی کیماڑی کے وکیل نے موقف دیا کہ اس قسم کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ کس جگہ کسی گاڑی سے کتنی فیس وصول کرنی ہے اس کا نوٹیفکیشن دیکھائے۔ فیس وصولی سے متعلق نوٹیفکیشن جمع نہ کرانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلا کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے اور غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 31 جنوری تک ملتوی کردی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments