شارع فیصل پر سرعام فائرنگ کرنے والا شخص گرفتا ر نہ ہو سکا

ملزم کے قریبی دوستوں سمیت کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا

اتوار فروری 19:30

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 فروری2018ء) وزیرداخلہ کے حکم کے باوجود پولیس کراچی کی مصروف ترین شارع فیصل پر سرعام فائرنگ کرنے والے شہری عدنان شاہ کو گرفتار نہیں کرسکی ہے ۔ پولیس نے شہری عدنان شاہ کی گرفتاری کیلئے معتدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں تاہم اب تک ملزم پولیس کے ہاتھ نہیں لگ سکا ہے،جبکہ اس دوران ملزم کے قریبی دوستوں سمیت کئی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدنان پاشا اپنی بیوی اوربہن سمیت رپوش ہوگیا ہے ،جبکہ اس کے گھر پر بھی تالالگا ہوا۔پولیس نے ملزم کی گرفتاری کیلئے گلستان جوہربلاک 11میں واقع ملزم کے سسر کے گھر بھی چھاپا مارا ہے ،جہاں سے ملزم کے سالے سمیت متعدد سسرالی رشتہ داروں کو پوچھ گچھ کیلئے حراست لیا گیا،پولیس حکام فی الحال اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کررہے ہیں اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے پوری کوشش کررہے ہیں اور جلد ہی ملزم کو گرفتار کرلیں گے تاہم اس وقت میڈیا کو گرفتاریوں اور اب تک کی پیشرفت سے آگاہ نہیں کرسکتے لیکن جلد ہی میڈیا کوتمام صورتحال سے آگاہ کردیا جائے گا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ کراچی کی مصروف ترین شاہراہ پر جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب نشے میں دھت عدنان پاشا نامی شخص نے سرعام ہوائی فائرنگ کی تھی اورفائرنگ کرتے ہوئے اس نے اپنی ویڈیو بھی بنائی تھی ،ویڈیو میں عدنان پاشا نے نازیباکلمات بھی استعمال کئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج بھی کیا تھا، بعدازاں مذکورہ شخص نے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی ۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو اپلوڈ ہونے کے بعد وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے واقعے کانوٹس لیتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا اور ایس ایس پی ایسٹ سے واقعے کی رپورٹ طلب کی تھی ۔جبکہ ہفتے کے روز عدنان پاشا نامی نوجوان نے سوشل میڈیا پر دوسری ویڈیو بھی جاری کی تھی ،جس میں اس کا کہنا تھا کہ ذیشان سعید عرف شانی نامی شخص کو اس کے والد نے بیٹوں کی طرح پالا تھا مگر شانی نے اس کے والد کو قتل کیا ہے ۔اور عدنان پاشا کا ویڈیو میں یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے شارع فیصل پر جو فائرنگ کی ہے اس کی وجہ کسی کو معلوم نہیں مگر اس نے یہ سب غصے میں کیا تھا۔

متعلقہ عنوان :

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments