پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس ، کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے بعد ملک میں کوویڈ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

نئی قسم نے پوری دنیا میں خوفناک صورتحال پیدا کر دی ہے، کیونکہ اسکے پھیلائو کی شرح ، ہلکی علامات اور تیز رفتار نبض کے ساتھ بہت زیادہ ہے حکومت تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرے اور فوری طور پر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرے، ڈاکٹرز کا اجلاس میں مطالبہ پی ایم اے لوگوں سے ویکسین لگوانے کی درخواست کرتی ہے۔ جن لوگوں نے ویکسین نہیں کروائی وہ بیماری کی پیچیدگی کا سامنا کر سکتے ہیں

بدھ 1 دسمبر 2021 23:56

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2021ء) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم ای) کا ایک ہنگامی اجلاس آج پی ایم اے ہاؤس، کراچی میں منعقد ہوا جس میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے منظر عام آنے کے بعد ملک میں کوویڈ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پی ایم اے سینٹر کی صدر ڈاکٹر سلمیٰ اسلم کنڈی نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔

اجلاس میں پی ایم اے سینٹر کے اعزازی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد، پی ایم اے سینٹر کے خزانچی ڈاکٹر قاضی واثق، ڈاکٹر سید ٹیپو سلطان، سابق صدر پی ایم اے سینٹر، ڈاکٹر مرزا علی اظہر، صدر پی ایم اے سندھ، ڈاکٹر عبدالغفور شورو، جنرل سیکرٹری پی ایم اے کراچی، ڈاکٹر حامد منظوراور پی ایم اے کے دیگر سینئر ممبران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں جنوبی افریقہ میں کوویڈ 19 کی نئی قسم یعنی اومیکرون کی نشاندہی پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جس نے پوری دنیا میں خوفناک صورتحال پیدا کر دی ہے، کیونکہ اسکے پھیلائو کی شرح ، ہلکی علامات اور تیز رفتار نبض کے ساتھ بہت زیادہ ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے کورونا وائرس ، اومیکرون سے نبرد آزما ہونے کے لئے عملی اقدامات کریں۔ اب تک کم از کم 19 ممالک میں یہ پھیل چکا ہے ۔ جن ممالک میں Omicron کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان میں آسٹریلیا، آسٹریا، بیلجیئم، بوٹسوانا، کینیڈا، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، جرمنی، ہانگ کانگ، اسرائیل، اٹلی، جاپان، نیدرلینڈز، پرتگال، ری یونین، جنوبی افریقہ، سپین، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔

ساؤتھ افریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر اینجلیک کوئٹزی کے مطابق صورتحال بہت زیادہ تشویشناک نہیں ہے۔ ڈاکٹر اینجلیک کوئٹزی ایک سنیئر فیملی فیزیشن ہیں جو گزشتہ 33سال سے پریٹوریہ شہر میں پریکٹس کر رہی ہیں ۔ شروع میں انہوں نے جو درجن بھر مریض دیکھے ان میں زیادہ تر آدمی اور ایک چھ سالہ بچہ شامل تھا جن میں تیز رفتار نبض کے ساتھ ساتھ تھکاوٹ ، سردرد اور بخار کی ہلکی علامات پائی گئیں۔

اس کی منتقلی کم و بیش یو کے ڈیلٹا ویریئنٹ جیسی ہے۔ وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ انفکشن کی شدت کم رہے گی۔ ڈاکٹر کوٹزی وہ ڈاکٹر ہے جس نے اومیکرون کے پہلے مریض کی اطلاع دی۔ تاہم وہ بیماری کی سنگینی کو مسترد نہیں کرتیں کیونکہ ان کے بقول مزید مشاہدے کی بنیاد پر نتائج حاصل کرنے میں چھ سے سات دن مزید لگیں گے۔ان حالات میں پی ایم اے ایک بار پھر حکومت کو خبردار کرتی ہے کہ وہ تیار اور چوکس رہے او ر کرونا کی نئی قسم کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرے۔

ہم حکومت کو پرزور مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ہوائی اڈوں، بندر گاہوں اور ملک کے دیگر داخلی راستوں پر مسافروں کی ا سکیننگ اور نگرانی کے لیے سہولیات کو بہتر بنائے اور ایئر پورٹس پر اینٹیجن کوویڈ 19 ٹیسٹ دوبارہ شروع کرے، خاص طور پر ہائی رسک ممالک سے آنے والے مسافروں کی سخت نگرانی کرے۔ اگر کسی میں کوویڈ 19 کی علامات پائی جاتی ہیں تو اسے قرنطینہ میں رکھا جائے۔

کورونا وائرس کے مثبت آنے والے مریضوں کو الگ تھلگ سہولیات میں رکھا جائے۔حکومت تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرے اور فوری طور پر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرے۔ ہمیں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے بہت محتاط رہنا چاہیے جو ملک میں کووِڈ کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بنے۔ پی ایم اے کو خدشہ ہے کہ لوگوں کی اس سوچ سے کہ ملک میں کورونا نہیں ہے ہم خدا نہ کرے کورونا کی پانچویں لہر کی طرف جا سکتے ہیں۔

پی ایم اے لوگوں سے ویکسین لگوانے کی درخواست کرتی ہے۔ جن لوگوں نے ویکسین نہیں کروائی وہ بیماری کی پیچیدگی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ جن لوگوں کو چھ ماہ پہلے ویکسین لگائی گئی تھی انہیں ویکسین کی بوسٹر خورا ک لگوانی چاہیے۔ پی ایم اے بوسٹر خوراک مفت فراہم کرنے پر وفاقی حکومت اور خاص طور پر سندھ حکومت کو سراہتی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جب تک دنیا کی 80 فیصد آبادی کو ویکسین نہیں لگائی جاتی ہم مسلسل کورونا کی مختلف اقسام کا سامنا کرتے رہے گے۔

ہم عوام سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر اپنائیں، جب بھی باہر نکلیں ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ رکھیں، مناسب وقفوں سے اپنے ہاتھ دھوئیں یا سینیٹائز کریں، ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریز کریں۔ مزید برآں Covid-19 کو روک کر ہم اپنی تجارت اور کاروبار کو جاری رکھ سکتے ہیں ورنہ حکومت دوبارہ کورونا سے متعلق پابندیاں لگانے پر مجبور ہو گی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>