فیاض الحسن چوہان کے گھر کو سجانے کے لیے لاکھوں روپے جاری

وزراء کے گھروں کی تزئین و آرائش کے لیے 72 لاکھ روپے کی منظوری دے دی گئی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل نومبر 16:26

فیاض الحسن چوہان کے گھر کو سجانے کے لیے لاکھوں روپے جاری
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20 نومبر 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالتے ہی کفایت شعاری مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مہم وزیراعظم عمران خانکی کفایت شعاری پالیسی کے تحت شروع کی گئی جس کے تحت حکومتی نمائندوں نے عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کرنے اور اپنے اخراجات کم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو حکومتی نمائندوں کی عیش و عشرت پر خرچ نہیں کیا جائے گا۔

تاہم پنجاب حکومت نے کفیات شعاری کے دعوں کو ہوا میں اڑا دیا۔وزراء کے گھروں کی تزئین و آرائش کے لیے 72 لاکھ روپے کی منظوری دے دی گئی۔عمار یاسر کی رہائش گاہ کے لیے 8لاکھ منظور کیے گئے۔راجہ بشارت،فیاض الحسن چوہان،حافظ ممتاز،ظہرین الدین سمیت اہم رہنماؤں کے گھروں کی تزئین و آرائش کے لیے لاکھوں روپے کی منظور کر لیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوائی گئی سمری میں وزراء کے گھروں کی تزئین و آرئش کے لیے ایک کروڑ سے زائد رقم کے لیے کہا گیا تھا تاہم وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اسے کم کر کے 70 لاکھ روپے کی منظوری دی۔

جب کہ یہ رقم وہ ہے جو مختص کیے گئے بجٹ سے الگ ہے۔وزراء کی ان رہائش گاہوں پر ماضی میں بہت پیسہ خرچ کیا گیا تھا اور یہ بہت اچھی حالت میں تھیں تاہم اس کے باوجود بھی گھروں کو مزید سجانے کے لیے لاکھوں روپے کی منظوری دے دی گئی ہے۔فیاض الحسن چوہان کی رہائش گاہ کے لیے 6لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں۔پنجاب کابینہ نے وزیر اعلی پنجاب کو سمری بھجوائی تھی جس کے بعد عثمان بزدار نے 72 لاکھ روپے کی منظوری دے دی۔

واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی کفایت شعاری پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا تھا اور عوام سے وعدہ کیا تھا کہ حکومتی نمائندے اپنے اپنے اخراجات کم کر کے قوم کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کریں گے۔ اسی کفایت شعاری مہم کے تحت عمران خان نےوزیراعظم ہاؤس کی بجائے ملٹری سیکرٹری کے گھر میں قیام کا فیصلہ کیا تھا تاکہ وزیراعظم ہاؤس کے اربوں روپے کے اخراجات سے گریز کیا جا سکے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments