آئی جی پنجاب سے اوور سیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے چار رکنی وفد کی ملاقات،مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ

منگل نومبر 20:51

آئی جی پنجاب سے اوور سیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے چار رکنی وفد کی ملاقات،مسائل ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) اوورسیز پاکستانیوں کی پولیس سے متعلق تمام شکایات کے بروقت ازالے کے لیے موصول ہونے والی کمپلینٹس کو ایک سافٹ ویئر کے ذریعے آئی جی کمپلینٹ سیل 8787کے ساتھ مربوط کر دیا جائے گا اور اس کے علاوہ تمام ایمبیسیز جہاں پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے کو بھی اس سسٹم کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ تارکین وطن کو پولیس سے متعلقہ شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔

اس بات کا فیصلہ سنٹرل پولیس آفس لاہور میں آئی جی پنجاب، امجد جاوید سلیمی کی سربراہی میں ایک میٹنگ میں کیا گیا ۔ جس میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل، عثمان انور، وائس چیئرپرسن، چوہدری وسیم اختر، اور چوہدری وسیم ظفر نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب،ایس ایس پی عمران محمود ، اے آئی جی آپریشنزاور اویس ملک بھی موجود تھے۔

وفد نے آئی جی پنجاب کو تفصیلی طور پر زیر التواء کیسز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اب کمیشن کو 2092شکایات موصول ہوئیں جن میں سے پنجاب پولیس نے 1659کو حل کر لیا اور 433تا حال زیر التواء ہیں جس پر آئی جی پنجاب نے اے آئی جی آپریشنز اویس ملک کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ 30دن کے اندر ان زیر التواء شکایات کے ازالے کو ممکن بنائیں اور اگلی میٹنگ میں اس کے بارے میں آگاہ کریں۔

امجد جاوید سلیمی نے یہ بھی ہدایات جاری کیں کہ تمام ڈی پی اوز کے دفاتر میں قائم کیے گئے اوورسیز کمیشن کے کائونٹرز پر انسپکٹر رینک کے افسر کی تعیناتی کو ممکن بنائیں اور فوری طور پر جونیئر افسران کو وہاں سے تبدیل کیا جائے۔ اس کے علاوہ وہ تمام ممالک جن میں پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے ان کی کمپلینٹس کو بھی اس سسٹم کے ساتھ مربوط کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

خصوصی طور پر یو کے، امریکہ ، سعودی عرب، متحدہ عرب عمارات ، سپین اور ناروے جہاں پاکستانیوں کی بھاری تعداد آباد ہے کو اوور سیز پاکستانیز کمیشن کے ذریعے آئی جی کمپلینٹ سیل 8787کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔آئی جی پنجاب نے وفد کو بتایا کہ ان اوورسیز کے کائونٹرز کو دوسرے مرحلے میں خدمت مراکز کے ساتھ بھی مربوط کر دیا جائے گا تا کہ لوگوں کا قیمتی وقت اور پیسہ بچایا جا سکے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments