لاہور، پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات کیلئے نیا بلدیاتی ایکٹ 2019 ء منظور کروانا مشکل ہو گیا

منگل اپریل 21:17

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اپریل2019ء) پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات کے لئے نیا بلدیاتی ایکٹ 2019 ء منظور کروانا مشکل ہو گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات کو نیا بلدیاتی ایکٹ پنجاب اسمبلی کے رواں اجلاس میں منظور کروانے کا ٹاسک سونپتے ہوئے قائمہ کمیٹی کا اجلاس جلد سے جلد بلانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات کے ارکان کی تعداد 11 ہے کمیٹی کے چیئرمین کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے جبکہ کمیٹی کے 11 ارکان میں سے 4 ارکان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور 3 ارکان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ کمیٹی کے اپوزیشن ارکان جن کی تعداد 7 ہے نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے قائمہ کمیٹی کو بلدیاتی ایکٹ 2019 ء پنجاب اسمبلی کے ایوان سے منظور کروانے کے لئے ایوان میں کورم مکمل رکھنے ہدایات بھی جاری کر دی ہیں جبکہ دوسری طرف یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بلدیاتی ایکٹ 2019 ء کی منظوری کی صورت میں پنجاب کے تمام بلدیاتی ادارے ازخود ختم ہو جائیں گے۔ جس کے بعد ان اداروں میں ایڈمنسٹریٹر تعینات کئے جائیں گے۔

بلدیہ لاہور کے ذریعے کے مطابق لاہور چونکہ میٹروپولیٹن شہر ہے جس کا ایڈمنسٹریٹر کمشنر لاہور کو تعینات کیا جائے گا۔ ایکٹ کی منظوری کی صورت میں لاہور کی 285 یونین کونسلوں کے 3500 بلدیات نمائندگان گھروں لوٹ جائیں گے جبکہ پنجاب بھر میں بلدیاتی ارکان کی تعداد 58 ہزار ہے دوسری جانب لارڈ میئر بلدیہ عظمیٰ لاہور نے نئے بلدیاتی ایکٹ 2019 ء کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments