پبلک ہیلتھ کے پروگراموں کو ترقی دینے کیلئے نجی شعبہ کے تعاون کا خیر مقدم کریں گے

انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میڈیکل ایجوکیشن، ٹریننگ اینڈ ریسرچ میں نجی ادارے '' ڈی سائن '' سے تعاون کرے گا‘ڈین آئی پی ایچ

جمعرات 21 اکتوبر 2021 16:00

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اکتوبر2021ء) ڈین انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے کہا ہے کہ صحت عامہ کو بہتر بنانے کیلئے انسٹیٹیوٹ، میڈیکل ایجوکیشن، ٹریننگ اینڈ ریسرچ کے پروگراموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور میڈیکل کے شعبہ میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ڈویلپمنٹ سے استفادہ کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون کا خیر مقدم کرے گا۔

انہوں نے سابق گورنر پنجاب اور چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لیفٹننٹ جنرل (ر) خالد مقبول کے ساتھ اسلام آباد کے ایک نجی ادارے '' ڈی سائن '' کے چیف ایگزیکٹو زبیر احمد شاد اور ڈائریکٹر فنانس خالد رضوان کی ملاقات کے بعد بریفنگ میں بتائی۔ ڈاکٹر زرفشاں کا کہنا تھا کہ ڈی سائن،آئی پی ایچ میں پوسٹ گریجوایشن کرنے والے ڈاکٹرز اور ڈپلومہ کورسز کرنے والے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی orientation کیلئے سیمینارز، سمپوزیم اور دیگر سرگرمیوں کے انعقاد کو ممکن بنائے گا نیز ڈی سائن کے سینئر ہیلتھ ایکسپرٹس انسٹیٹیوٹ کیلئے ٹریننگ اینڈ ریسرچ کے ما ڈولز تیار کرنے میں بھی تکنیکی تعاون فراہم کریں گے اور ادارہ انسٹیٹیوٹ کیلئے ریسرچ پروجیکٹس کے حصول کو بھی ممکن بنائے گا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول کا کہنا تھا کہ آئی پی ایچ صحت عامہ کو بہتر بنانے، بیماریوں کی روک تھام اور تحقیقی پروگراموں میں پہلے بھی عالمی ادارہ صحت، لمز، UVAS جیسے معروف اداروں کے ساتھ ملکر کام کر رہا ہے اور اب پرائیویٹ سیکٹر کے ادارے ڈی سائن کے اشتراک عمل سے فائدہ اٹھائیگا۔ ڈی سائن کے چیف ایگزیکٹو زبیر احمد شاد نے کہا کہ انکا ادارہ اسلام آباد کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی ہیلتھ سیکٹر کے اداروں کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اب ڈی سائن پرائیویٹ لمیٹڈ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی ترقی کیلئے اپنی خدمات فراہم کرے گا۔

اس موقع پر چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ آئی پی ایچ خالد مقبول اور چیف ایگزیکٹو ڈی سائن زبیر احمد نے ایک لیٹر آف انڈر سٹینڈنگ پر بھی دستخط کئے تاکہ ملاقات میں زیر غور آنے والے مشترکہ تعاون کے امکانات کو عملی طور پر آگے بڑھانے کیلئے وے فارورڈ متعین کیا جا سکے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments