جامعہ بے نظیربھٹو انتظامیہ کا طالبہ نوشین کاظمی کی موت پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

بعض عناصر ڈاکٹر نوشین کے معاملے کو یونیورسٹی کے خلاف اکسانے کی کوشش میں مصروف ہیں ،یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو خط

ہفتہ 27 نومبر 2021 16:37

لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 نومبر2021ء) جامعہ بے نظیربھٹو انتظامیہ نے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ کو خط میں طالبہ نوشین کی موت پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق میڈیکل کالج کی طالبہ نوشین کی مبینہ خودکشی کے معاملے پر رجسٹرارجامعہ بے نظیربھٹو نے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ کوخط لکھا۔خط میں جامعہ بے نظیربھٹوانتظامیہ نے طالبہ کی موت پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

رجسٹرار نے اپنے خط میں کہا ہے کہ بعض عناصر ڈاکٹر نوشین کے معاملے کو یونیورسٹی کے خلاف اکسانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کو حراساں کرنے میں بھی مصروف ہیں۔خط میں کہا گیا کہ جوڈیشل انکوائری سے معاملے کی شفافیت میں اضافہ ہوگا ڈاکٹر نوشین کے جسم کے بعض اجزا کی کیمیکل رپورٹ آج پہنچنے کا امکان ہے جس کے بعد حتمی پوسٹمارٹم رپورٹ جاری کردی جائے گی۔

(جاری ہے)

یاد رہے گزشتہ دنوں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل میں طالبہ نوشین کاظمی کی پراسرار موت ہوئی، جس کے بعد بے نظیر بھٹو یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات کے لئے پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ کمیٹی پانچ روز میں رپورٹ جمع کرائے گی۔ دوسری جانب نوشین کاظمی کے والد اور چچا نے واقعے میں انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دے دیا۔نوشین کاظمی کے والد نے کہا تھا کہ کہ بیٹی صوم و صلو کی پابند دین پر عمل کرنے والی تھی، خودکشی کا سوچ ہی نہیں سکتی، لیب رپورٹس آنے کے بعد مقدمہ درج کرائیں گے۔طالبہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بتایا گیا تھا کہ موت گلے میں پھندے کے باعث ہوئی، دونوں پھیپھڑوں میں خون کے نشانات ملے ہیں۔

لاڑکانہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments