شانگلہ،ٹمبر مافیا پھر سے سرگرم عمل ،ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت قیمتی درختوں کی کٹائی جاری

محکمہ جنگلات نے ٹھیکیداروں کو ٹرانسپورٹ پاس جاری کردی،عوامی حلقوں کا شدید ردعمل

جمعرات 1 جولائی 2021 22:09

الپوری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 جولائی2021ء) شانگلہ میں ٹمبر مافیا پھر سے سرگرم عمل ،ووڈ لاٹ پالیسی کے تحت قیمتی درختوں کی کٹائی جاری۔محکمہ جنگلات نے ٹھیکیداروں کو ٹرانسپورٹ پاس جاری کردی ۔عوامی حلقوں کا شدید ردعمل،شانگلہ میں بڑھتی ہوئی درجہ حرارت اور ماحولیاتی تبدیلی کے آثرات کے باوجود ووڈلاٹ منصوبے کے آڑ میں درختوں کی کٹائی سے سیلاب سمیت کئی خطرات نمودارہوسکتے ہیں۔

صوبائی حکومت ووڈلاٹ پالیسی کے تحت جاری کٹائی پر نوٹس لے ۔جنگلات میں درختوں کی خرید و فروخت مالکان اور ٹمبرمافیا کا دندہ شروع ہوچکا ہے ،معاہدے کے تحت جنگل کی کٹائی کیلئے راہ ہموارکررہے ہیں۔2012میں ووڈلاٹ پالیسی بنائی گئی جو 2013سے نافذالعمل ہے اور اس وقت سے ٹمبر مافیا میں شروع سے سرگرم عمل باآثر شخصیات فائدہ اٹھا کر جنگلات کاٹ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

پالیسی کے تحت حکومت کو ڈیوٹی اور ایف ڈی ایف کی مد میںصرف38روپے فی مکعب فٹ محکمہ کو ادا کرنا ہوتا ہے جو جنگلات کیلئے تباہ کن ہے ۔پالیسی کے تحت ملکیتی رقبوںپر استادہ درختوں کی کٹائی کیلئے محکمہ جنگلات کی ڈی مارکیشن محکمہ مال ملکیتی رقبہ جات میں درختوں کی نشان دہی کرکے متعلقہ ڈی ایف او مارکنگ کرکے ورک آرڈردے دیتا ہے۔جنگلا ت کی کٹائی پر پابندی ہے مگر ووڈلاٹ پر نہیں کیا جنگل میں درخت ہوتا ہے اور ملکیتی رقبے پر یہ درخت درخت نہیں ماہرین جنگلات سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہے کہ یہ منتق سمجھ سے بالاتر ہے ۔

بالائی علاقوں میں لوگوں کو جلانے کی لکڑی میسر نہیں اور اس پر بھی سخت پابندی عائد ہے جھاں حکومت نے گزشتہ آٹھ سالوں سے جنگلات کی کٹائی پر سخت پابندی ،نئے قوانین ،بیلین ٹری سونامی پلانٹیشن سمیت کہیں اربوں کے بجٹ سے جنگلات کے تحفظ پر کام کررہی ہیں ، ٹمبر مافیا کو کافی حد تک قابو کیا تھا اور وہاں دوسری طرف اس اقدام سے حکومت کی آٹھ سالہ اقدامات خطرے میں نظرآرہے ہیں۔

ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے شانگلہ سمیت دیگر علاقوں سے پالیسی کے تحت جنگلات کی کٹائی پرشدید تنقید جاری ہے ۔سوشل میڈیا پر قیمتی درختوں کی کٹائی کے تصاویر وائرل کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی بڑھتی ہوئی درجہ حرارت اور سائل ایروجن،سیلاب کے ممکنہ خطرات کو جنگلات کی کٹائی سے منسلک کرتے ہوئے اس پالیسی کو جنگل کیلئے تباہ کن قرار دیتے ہوئے جھاں تشویش کا اظہار کیا وہاں حکومت کے اربوں روپے اور آٹھ سالہ جدوجہد پر بھی بحث جاری ہیں۔انھوں نے وزیراعلیٰ محمود خان ، گورنر انسپیکشن ٹیم ،صوبائی وزیر جنگلات ،سیکرٹری جنگلات سمیت اعلیٰ حکام سے ووڈ لاٹ پالیسی کی فل فور خاتمے سمیت کی گئی کٹائی کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہی

شانگلہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments