سوئی گیس لوڈشیڈنگ ،چولہے ٹھنڈے پڑگئے

ہفتہ دسمبر

 Nasir Alam

ناصرعالم

 سوات کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ موسم گرمامیں محکمہ واپڈاوالے ان پر بجلیاں گراکر ان کا جینامشکل کردیتے ہیں اورموسم سرما میں محکمہ سوئی گیس والے لوڈشیڈنگ کے ذریعے ان کے چولہوں کو گھنٹوں گھنٹوں بجھائے رکھتے ہیں،ایسا لگتاہے کہ دونوں محکموں نے عوام کوذہنی کرب اور کشمکش میں مبتلا رکھنے کیلئے ایکا کررکھا ہے ۔
 سوات میں جب گرمی کا موسم آتا ہے تو واپڈا والے دیگر کام کاج چھوڑ کر عوام پر مسلسل بجلیاں گرانے کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں جس کے سبب عوام کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے ،ہسپتالوں میں مریض،سکولوں میں طلبہ وطالبات،بازاروں میں دُکاندار اور کاروباری مراکز میں دیگر لوگ لوڈشیڈنگ کے سبب بری طرح متاثر ہورہے ہیں ،بجلی لوڈشیڈنگ کی شکل میں جاری اس ظلم کیخلاف عوام وقتاََ فوقتاََ احتجاج بھی کرتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی واپڈاوالے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بلاخوف وخطر جاری رکھتے ہیں اورجب گرمی کا موسم ختم ہوجاتا ہے تو لوڈشیڈگ میں قدرے کمی آجاتی ہے جس سے لوگوں کو سکھ کی سانس نصیب ہوجاتی مگر مقام افسوس ہے کہ ان کا یہ سکھ بہت کم وقت کیلئے ہوتا ہے کیونکہ گرمی ختم ہونے کے بعدجیسے ہی سردی کا موسم آتاہے تو عوام کومشکلات سے دوچار کرنے کی ذمہ داری محکمہ گیس والے نبھانا شروع کردیتے ہیں،یہ محکمہ لوڈشیڈنگ کیلئے ایسی اوقات مقرر کرتاہے جو خالصتاََ سوئی گیس کے استعمال کیلئے ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ،دارالخلافہ سیدوشریف اور ضلع کے دیگر مقامات پر صبح چھ بجے سوئی گیس غائب ہوجاتی ہے جو دوپہر اوربعض اوقات سہ پہر تک غائب رہتی ہے اورجب اس کی سپلائی بحال ہوجاتی ہے تو ا س کا پریشر اس قدر کم ہوتاہے جس سے پندرہ منٹ کا کھانا ایک گھنٹے میں تیارہوتاہے تاہم سرشام گیس کی سپلائی ایک بار پھر معطل کی جاتی ہے ،سوئی گیس کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صبح بچے ناشتہ کئے بغیر سکول اور دیگر لوگ بھی کچھ کھائے پیئے بغیر کام پر جانے پر مجبورہوگئے ہیں جبکہ گھریلوصارفین بھی شدید پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔

۔۔
بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف لوگ سراپا احتجاج نظر آتے ہیں مگر حکومت اور متعلقہ محکموں کو ان کے حال پر ترس نہیں آتا جب عوام کی جانب سے ردعمل میں شدت آتی ہے تو حکومت انہیں خالی خولی نعروں اور دعوؤں پر ٹرخا کر کچھ وقت کیلئے خاموش کرادیتی ہے اور یہ سلسلہ سال دوسال سے نہیں بلکہ پچھلے کئی سالوں سے بغیر کسی وقفے کے جاری ہے جس میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہورہاہے مگر اس کے باوجود بھی کسی بھی حکومت نے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کی شکل میں جاری ظلم کا سلسلہ ختم کرانے کیلئے ابھی تک کسی قسم کا نہ تو عملی اقدامات اٹھائے ہیں اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی حکمت عملی وضع کی ہے یہی وجہ ہے کہ گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ میں ہر آنے والے سال میں پہلے سال کے نسبت مزید شدت آجاتی ہے ۔

سوات کے مقامی لوگوں کا کہناہے کہ بجلی اورمحکمہ گیس کے سامنے حکومت بے بس ہے کیونکہ آج تک ہر حکومت نے ان دونوں محکموں کا الوسیدھا کرنے کے لاتعداددعوئے کئے مگر کوئی بھی حکومت ان محکموں کو قابوکرسکی اور نہ ہی سفید ہاتھیوں اورسرکش گھوڑوں کا روپ دھارنے والے ان محکموں کو لگام ڈالنے میں کامیاب ہوئی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو بھی حکومت ہووہ خالی خولی نعرے لگا لگا کر آخر میں محکمہ گیس اور واپڈا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے ،بجلی اور سوئی گیس کی گھنٹوں گھنٹوں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے عوا م کو کن کن مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کسی اہل نظر سے ڈھکی چھپی نہیں اورظاہری بات ہے کہ حکومت اوردیگر ذمہ دار حکام کو بھی اس کا بخوبی اندازاہوگا مگر اس کے باوجود بھی وہ عوام کوان مشکلات سے نکالنے کیلئے کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھاتے جو نہ صرف قابل افسوس بلکہ ایک قابل مذمت امر بھی ہے،جب سے موسم سرما شروع ہوا اس وقت سے سوات میں گیس کی لوڈشیڈنگ میں شدت آگئی ہے اوردیگر سالوں کے نسبت اس سال گیس لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی کافی حد تک بڑ ھادیا گیا جس کے باعث صارفین میں غم وغصے اور بے چینی کی لہر پھیلی ہوئی ہے اور وہ کسی بھی مذکورہ دونوں محکموں کیخلاف سڑکوں کا رخ کرسکتے ہیں۔

 لہٰذہ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ سوات میں جاری بجلی اور سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کرنے کیلئے فوری ،ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھا کر عوام کی پریشانی اور بے چینی کو دور کرنے میں اپنا کرداراداکریں۔ 
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

سوات کے مزید کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Sui Gas Load Shedding, Cholhe Thanday Par Gaye Column By Nasir Alam, the column was published on 21 December 2019. Nasir Alam has written 45 columns on Urdu Point. Read all columns written by Nasir Alam on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.