لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جولائی2026ء)
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے
پاکستان ہاکی کی بحالی اور
دنیا کی صفِ اول کی
ہاکی اقوام میں ملک کا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی جامع حکمتِ عملی کے تحت، عالمی سطح پر مانی جانے والی ہائی پرفارمنس کوچنگ ٹیم کے انتخاب کا اعلان کیا ہے
۔پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بین الاقوامی ماہرین کے انتخاب کو حتمی شکل دے دی ہے، جو کنٹریکٹ کی باقاعدہ کاغذی کارروائی مکمل ہوتے ہی جلد ہی
پاکستان کے قومی
ہاکی کوچنگ نیٹ ورک کا حصہ بن جائیں گے۔
ترجمان کے مطابق ہرمن کروئس اوور آل نیشنل
ہاکی کوچنگ ایڈوائزر اور ہیڈ کوچ ،ڈیوڈ ڈوائر فٹنس اور ہائی پرفارمنس کوچ، عدنان ذاکر جونیئر ٹیلنٹ آئیڈنٹی فکیشن کوچ ،باب جوہان ویلڈہوف گول کیپنگ کوچ ،مسٹر کرس بوون کو سپورٹس سائیکالوجسٹ منتخب کیا گیا۔
(جاری ہے)
ہرمن کروئس جو دہائیوں کا ایلیٹ کوچنگ اور ٹیکنیکل لیڈرشپ کا تجربہ رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ ڈچ
(ہالینڈ کے)
ہاکی کوچ ہیں، اوور آل نیشنل
ہاکی کوچنگ ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
وہ
پاکستان کی جدید کوچنگ کو فروغ دینے، تکنیکی معیار کی نگرانی کرنے، سینئر نیشنل مینجمنٹ کو مشاورت فراہم کرنے اور
پاکستان ہاکی کے لیے طویل مدتی کارکردگی کا راستہ متعین کرنے میں رہنمائی کریں گے۔فٹنس اور ہائی پرفارمنس کوچ ڈیوڈ ڈوائر اسپورٹس سائنس، کھلاڑیوں کی کنڈیشننگ، انجری سے بچائو، طاقت و فٹنس اور ایلیٹ پرفارمنس مینجمنٹ میں وسیع مہارت رکھتے ہیں، وہ جسمانی تیاری کے جدید نظام متعارف کروائیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستانی کھلاڑی فٹنس کے بین الاقوامی معیار پر پورا اتریں۔
جونیئر ٹیلنٹ آئیڈنٹی فکیشن کوچ عدنان ذاکر نوجوانوں میں چھپے ہوئے ٹیلنٹ کی شناخت اور کھلاڑیوں کی تربیت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، وہ ملک بھر سے مستقبل کے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو تلاش کرنے، نکھارنے اور ان کی تربیت کے لیے ایک منظم قومی ٹیلنٹ آئیڈنٹی فکیشن پروگرام قائم کریں گے۔گول کیپنگ کوچ باب جوہان ویلڈہوف بین الاقوامی کوچنگ کا وسیع تجربہ رکھنے والے ایک انتہائی معتبر گول کیپنگ ماہر ہیں، وہ
پاکستان کے گول کیپرز کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام تیار کریں گے، گول کیپنگ کی تکنیکوں کو جدید بنائیں گے اور مقامی گول کیپنگ کوچز کی رہنمائی بھی کریں گے۔
اسی طرح اسپورٹس سائیکالوجسٹ کرس بوون ذہنی کارکردگی کے جدید نظام متعارف کروائیں گے جس کا مرکز بین الاقوامی مقابلوں کے لیے اعتماد سازی، قیادت، دبائو کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ، پریشر مینجمنٹ، ٹیم کلچر، حوصلہ افزائی اور نفسیاتی تیاری ہوگا۔یہ انٹرنیشنل کوچنگ ٹیم
پاکستان کی تمام قومی
ہاکی ٹیموں بشمول سینئر، جونیئر، انڈر-18 اور یوتھ ٹیموں کے ساتھ ساتھ نیشنل ویمنز
ہاکی پروگرام کے لیے بھی کام کرے گی۔
ان کا مینڈیٹ صرف قومی ٹیموں کو بین الاقوامی مقابلوں کے لیے تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ
ہاکی کی ترقی کا ایک پائیدار اور عالمی معیار کا نظام بنانا ہے۔ان تعیناتیوں کا ایک اہم مقصد
پاکستان کے اپنے کوچنگ انفراسٹرکچر کو ترقی دینا ہے۔ یہ بین الاقوامی ماہرین پاکستانی کوچز کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور ٹیکنیکل ورکشاپس، پریکٹیکل ٹریننگ سیشنز، کوچنگ ایجوکیشن اور مسلسل معلومات کی منتقلی کے ذریعے ایک جدیدو خود کفیل قومی کوچنگ نظام قائم کریں گے۔
پاکستان
ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ
پاکستان ہاکی کی مستقبل میں بحالی ایک مضبوط تکنیکی بنیاد رکھنے پر منحصر ہے، ان عالمی سطح پر معتبر کوچز کی مہارت کے ذریعے، پی ایچ ایف کا مقصد کھلاڑیوں کی تربیت کو تبدیل کرنا، کوچنگ کے معیار کو مضبوط کرنا، نوجوان ٹیلنٹ کی شناخت کرنا، جسمانی تیاری کو بہتر بنانا اور تمام قومی ٹیموں میں عالمی معیار کا ہائی پرفارمنس سسٹم متعارف کروانا ہے۔
یہ تمام انٹرنیشنل کوچنگ پروگرام پی ایچ ایف کی ڈویلپمنٹ کمیٹی کی سٹریٹجک نگرانی میں کام کرے گا، جس کی قیادت مایہ ناز اولمپئنز حسن سردار اور اصلاح الدین صدیقی کر رہے ہیں، جو فیڈریشن کی طویل مدتی تکنیکی ترقی کی حکمتِ عملی پر عمل
درآمد کی نگرانی کریں گے۔اس حوالے سے پی ایچ ایف صدر محی الدین احمد وانی نے کہا کہ یہ تعیناتیاں
پاکستان ہاکی کے ایک نئے دور کا آغاز ہیں، ہم
کھیل کے ہر پہلو،کھلاڑیوں کی تربیت اور اسپورٹس سائنس سے لے کر کوچنگ ایجوکیشن اور ہائی پرفارمنس سسٹمز تک کو دوبارہ بنانے کے لیے بین الاقوامی مہارت کو اکٹھا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہماری قومی ٹیموں کی تیاری کے ساتھ ساتھ، یہ ماہرین ہمارے مقامی کوچز کی رہنمائی کریں گے اور ایک پائیدار کوچنگ انفراسٹرکچر قائم کریں گے جس سے
پاکستان ہاکی کو نسلوں تک فائدہ پہنچے گا۔