بند کریں
صحت مضامینمضامینفضائی آلودگی کے صحت پر مضر اثرات
فضائی آلودگی کے صحت پر مضر اثرات
عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کا شکار ہونے کے بعد ہمیں بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو جاتاہے، مثلاََ تنفس میں دقّت، دل کی بیماریاں اور پھیپڑوں کا سرطان وغیرہ۔فضائی آلودگی کی بنا پر ہماری صحت متاثر ہوتی ہے۔ چھینکوں اور کھانسیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ صورت حال آگے چل کر دل کو بھی متاثر کرنے لگتی ہے۔ہمیں نا چار دوائیں کھانی پڑتی اور معالجین کے کلینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ پھر جب اسپتال میں داخلہ لینے کے بعد صحت یابی حاصل نہیں ہونے پاتی تو مریض وقت سے پہلے موت کا شکار ہو جاتاہے۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ فضائی آلودگی سے ہم بہت سے بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، لیکن اس سے نظامِ تنفس بہت جلد متاثر ہوتا ہے اور اس کے بعد دل کی باری آجاتی ہے۔ فضائی آلودگی فرد واحد پر کتنی اثر انداز ہوتی ہے، انحصار اس پر ہے کہ وہ آلودگی میں کس حد تک رہتا ہے،اس کی جسمانی حالت کیسی ہے اور موروثی طو ر پر آلودگی سے متاثر نہیں ہوتے رہے ہیں۔
فضائی آلودگی میں عام طور پر اوزون ، نائٹروجن ڈائی اوکسائڈ اور سلفر ڈائی اوکسائڈ ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اس وقت اندرونی اور بیرونی آلودگی سے مرنے والے افراد کی تعداد 33 لاکھ ہو چکی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں پانچ برس سے کم عمر کے بچے زیادہ غیر محفوظ ہیں اور اموات کا شکار ہو رہے ہیں۔
دل پر اثرات :
فضائی آلودگی سے فالج کا خطرہ ہوتا ہے، خاص طور پر یہ خطرہ ترقی پذیر ممالک کے رہنے والوں کو زیادہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی سے خواتین خون کی کمی کا شکار ہو رہی ہیں، البتہ انھیں ایسا فالج نہیں ہوتا، جس میں جریانِ خون کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ فضائی آلودگی سے دل کی شریانیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
سرطان کے ممکنہ اثرات :
ڈنمارک میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افرد جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں نائٹروجن ڈائی اوکسائڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، وہ پھیپڑوں کے سرطان ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں، جن میں دماغ کا سرطان اور رحم کے نچلے حصے کا سرطان (CERVICAL CANER) شامل ہے۔
بچوں پر اثرات :
وہ ممالک جہاں فضائی آلودگی زیادہ پھیل رہی ہے ، وہاں بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انھیں دمہ، نمونیا اور سانس کی بیماریاں لاحق ہو رہی ہیں۔ بچوں کی صحت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاری ہیں۔
انڈیا کے شہر نئی دہلی میں دھواں اُگلتی بسوں کے مضر اثرات پر قابو پانے کے لئے ڈیزل کی جگہ اب دبی ہوئی (COMPRESSED) قدرتی گیسیں استعمال ہو رہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق یہ بیماریاں ایسے ممالک میں زیادہ ہیں، جو ترقی پذیر ہیں اور جہاں غربت و افلاس زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر مصر ، سوڈان، منگولیا اور انڈونیشیا۔امریکا میں فضا کو صاف رکھنے کا قانون ۱۹۷۰ء میں نافذ ہوا تھا، مگر ۲۰۰۲ء میں چودہ کروڑ ساٹھ لاکھ امریکی جو آلودہ ماحول میں رہ رہے تھے، بیماریوں کا شکار ہونے لگے۔ یہ افراد اوزون، نائٹروجن ڈائی اوکسائڈ ، کاربن ڈائی وکسائڈ اور سیسے کا شکار تھے، جو گاڑیوں کے دھویں میں شامل ہوتا ہے۔
بچے عام طور پر کھلی فضا میں زیادہ رہتے ہیں، اس لیے فضائی آلودگی ان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے