بند کریں
صحت مضامینمضامینروبوٹ کے ذریعے سے دماغی سرجری ممکن

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
روبوٹ کے ذریعے سے دماغی سرجری ممکن
دماغ کی سرجری کرتے وقت اس میں سوراخ کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے ۔ روبوٹ (مشینی آدمی ) کے ذریعے سے کھوپڑی میں ایک ننھا سوراخ کیاجاتا ہے ۔پھر سرجن دماغ کا آپریشن کرتا ہے ۔ اگر یہی سوراخ سرجن اپنے ہاتھ سے کرے اور اس سے ذرا سی بھی غلطی ہوجائے تو دماغ کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے ۔
دماغ کی سرجری کرتے وقت اس میں سوراخ کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے ۔ روبوٹ (مشینی آدمی ) کے ذریعے سے کھوپڑی میں ایک ننھا سوراخ کیاجاتا ہے ۔پھر سرجن دماغ کا آپریشن کرتا ہے ۔ اگر یہی سوراخ سرجن اپنے ہاتھ سے کرے اور اس سے ذرا سی بھی غلطی ہوجائے تو دماغ کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے ۔
یہ روبوٹ بافتی تشخیص (BIOPSY) کے دوران بھی کام آتا ہے ، جس میں جسم کی کوئی بافت لے کر مرض کا پتا لگایاجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ جسم کی اندر کی کیفیات کا مشاہدہ بھی کرلیتا ہے اور دماغ کے نازک حصوں سے خون کے نمونے بھی حاصل کرلیتا ہے ۔ یہ دماغ سے رسولی بھی ختم کرسکتا ہے اور مرگی رعشے اور پٹھوں کی سختی کابھی علاج کرسکتا ہے ۔ اب ایسے روبوٹس بھی بنالیے گئے ہیں، جوسرجری میں معالجین کی مددکرتے ہیں۔
حال ہی میں سائنس دانوں نے ” روبوکاسٹ “ (ROBOCAST) نامی ایک سسٹم متعارف کرایا ہے ، جس میں دوخاص قسم کے روبوٹس بنائے گئے ہیں، جو مختلف قسم کے کام انجام دیتے ہیں، جن میں سے ایک چھوٹااور دوسرا بڑا ہے ۔یہ دونوں روبوٹس معالج کی مددکرتے ہیں۔ بڑا روبوٹ اپنی اُس پوزیشن کو سنبھال لیتا ہے ، جومریض کی کھوپڑی کے نزدیک ہوتی ہے ، جہاں اسے سوراخ کرنا ہوتا ہے ۔ چھوٹے روبوٹ کو معالج کی مددکرنی ہوتی ہے ۔ ایک خودمختار آلہ بھی لگاہوتا ہے ، جو چھوٹے روبوٹ کی رہنمائی کرتا ہے کہ کھوپڑی پر کیسے کام کیاجائے گا اور ہنگامی صورت حال میں اسے کیاکرنا ہوگا۔ اس سے ایک اور آلہ بھی منسلک ہوتا ہے ، جس کا نام” ایکٹیو“ (ACTIVE) ہے ۔ یہ مریض کو جگائے رکھتا ہے ، جب کہ دونوں روبوٹس سرجری کے وقت معالج کی بھرپور مدد کرتے ہیں اور اس طرح دماغ کاآپریشن کامیابی سے کرلیا جاتا ہے ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے