خان پالے خان خوستی

ابتدا کرتے ہیں ایک عظیم ہستی کے نام سے جنہیں تاریخ پالے خان کے نام سے جانتی ہے۔پالے خان خوستی انگریز استمعار کے خلاف نہ صرف لڑے بلکہ فتح یاب بھی ہوئے

فضیل اشرف قیصرانی جمعرات اکتوبر

Khan Pale Khan Khosti
ارطغرل غازی ترک قوم کا ایک ہیرو ہو سکتا ہے۔بہادر لوگ سانجھے ہوتے ہیں سو تمام انسانیت کی ملکیت ٹہرتے ہیں۔مگر ایسی ادھار کی ملکیت اور اس پہ ستم یہ کہ وہ ملکیت جو اپنے اثاثہ جات ،اپنی ملکیت کو بھلا کر اپنای جاے اسکا کیا معانی اور کیا مطلب؟کیا ترکی والے بالاچ اور حمل کی داستان اپنے ٹی وی پر نشر کریں گے؟کیا احمد خان کھرل کو کوی برادر اسلامی ملک اپنے سکرین ٹائم پہ جگہ دے گا؟
ہم کیوں چائنہ کے ارطغرل بننے پر تلے ہیں ؟ہر بچہ بوڑھا جوان ایک ایسے آدمی کے سحر میں مبتلا نظر آتا ہے جس سے ہماری روایات،زبان حتی کہ شکل تک نہیں ملتی۔


وہ ترکوں کا ایک ہیرو ہو گا سو انکو مبارک۔ہمیں اپنے وطن اپنی مٹی کے ہیروز کو جاننے کا موقع دیں۔
سو ایک کمزور سی کوشش کر رہا ہوں اس حوالے سے اور تمام دوستوں سے ملتمس ہوں کہ اپنے ہیروز کے متعلق لکھیں تاکہ وہ خراج تحسین جوہم ایک اجنبی کو پیش کر رہے ہیں وہ اپنے پرکھوں کو پیش کریں۔

(جاری ہے)


ابتدا کرتے ہیں ایک عظیم ہستی کے نام سے جنہیں تاریخ پالے خان کے نام سے جانتی ہے۔

پالے خان خوستی انگریز استمعار کے خلاف نہ صرف لڑے بلکہ فتح یاب بھی ہوئے۔پالے خان 1888 میں موجودہ ضلع ژوب میں پیدا ہوے ۔انگریز نے جب فورٹ سنڈیمین میں قدم جماے اور اپنے قانون کو نافذ کرنا چاہا تو پالے خان نےاسکےنفاز کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔
کوہ سلیمان چونکہ ہمیشہ سے بہادروں کو پناہ دیتا آیا ہے سو وہی پہاڑ اور وہی پہاڑ کے رہنے والوں کی گوریلا کاروائیاں۔

بالاچ گورگیج جسے کوہ سلیمان میں گوریلا جنگ کا موجد مانا جاتا ہے سوعظیم پالے خان نے وہی طریقہ اپنایا اور انگریز استمعار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔اس دوران پالے خان نے نہ صرف اپنے قبیلے بلکہ کاکڑ اور شیرانی قبائیل کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا۔وہ انگریز جو “تقسیم کرو اور راج کرو”کی پالیسی کو اپنی حکومت کا راز جانتا تھاپالے خان نے اسکو اپنے قبائیلی اتحاد سے شدید نقصان پہنچایا۔

عظیم تر پالے خان خوستی کا انتقال 1951 میں بمقام ژوب ہوا اور یوں ایک آزاد انسان اپنے وطن کو آزاد کروانے کے بعد ایک آزاد انسان کی حیثیت سے ایک آزاد وطن میں فوت ہوا اور اسکی قبر ایک آزاد وطن میں بنی۔
پالے خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ سنٹرنے 13 اقساط پہ مبنی ایک سیریل بنای جو انتہای کامیاب رہی۔اس میں پالے خان کا کردار جمال شاہ نے نھبایا۔

بولی ووڈ نے بھی اس عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے ایک فلم بنای۔
یہ فلم 1986 میں ریلیز ہوی اور اس میں پالے خان کا کردار جیکی شیروف نے نھبایا۔
پالے خان خوستی کی جہد انگریزی قانون کے بجاے اپنے رواج کے نفاز کے لیے تھی اور وہ اس میں کامیاب ٹہرے۔
پشتو فوک سے یہ ٹپہ ملاحظہ ہو!
رالئی پالے خان اورسرہ پشتانہ ورونہ دی۔
آگیا پالے خان  اپنے جری پشتون بھائیوں کی ساتھ
گردہ امن غواری پہ زڑگی ارمانونہ دی
سارے امن چاہتے ہیں یہی سب کے دل کا ارمان ہے
اور خاتون کی جانب سے ایک بہادر کے لیے اظہار عقیدت و محبت دیکھئیے
کہ پالے  خوستی راضی
کہ جب پالے خوستی آے گا
زا بہ تار وارکم دا پیکی
تو میں اسے اپنی لٹ بطور نذر پیش کروں گی
ہماری زرخیز مٹی میں کتنے ہی پالے خان دفن ہیں۔

آئیے ہم ان سے آشنا ہوں۔ترکوں کو ارطغرل اور ہمیں ہمارا پالے مبارک۔
پالے زندہ آباد
پالے کی گل زمیں زندہ آباد
خان پالے خان خوستی کے مورچے،گھر اور پناہ گاہ آج بھی مکمل  محفوظ ہے۔یہ وہ مقامیت ہے جن سے ہمارے کرم فرما ہمیشہ ناراض و بیزار چلے آے ہیں مگر مقامی لوگ ہمیشہ اپنی ایسی یادگاروں کی حفاظت کرتے چلے آے ہیں اور کرتے رہیں گے۔


ضرورت صرف مقامیت کے فروغ کی ہے۔
ٹپہ ملاحظہ ہو
دا سڑک نالی پہ سرے
دلتا خیرات کڑے پالے
ترجمہ:
پالے خان کے جنگی وار کے بعد کسی نے راستے کو خون سے سرخ دیکھا تو کہا
یہ جو راستہ لہولہان ہے
یہ پالے کی خیرات(اسکی جہد)کی یادگار ہے
پشتو میں ایک نعرہ اور مثال
“ہر سڑئیے!
پالے نہ وی۔”
یعنی ہر کوی پالے نہیں ہوتا،یا پالے بننے کےلیے خاص بننا پڑتا ہے۔


اب نہ تو ہمارے پی ٹی وی کے وسائل کا کوی مقابلہ بنتا ہے ترکی والوں کی پروڈکشن سے اور نہ اتنا وسیع میڈیم ملا کھبی ہمارے اس ادارے کو۔مگر آپ اس پانچ منٹ کے کلپ کو دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیے گا کہ کسی بھی حوالے سے کیا یہ پروڈکشن کم ہے “ڈرامہ”ارطغرل سے؟
وجوہات وہی کہ یہ ہماری اپنی کہانی ہے،نام ہمارے اپنے ہیں،جغرافیہ ہمارا اپنا ہے اور ہیرو یعنی پالے ہمارا اپنا ہے۔
درسرا کلپ پشتون دوستوں کے لیے ہے۔یہ گانا شاعر درویش کاکڑ کا لکھا ہوا ہے اور تلاش بسیار کے باوجود بھی اس کے گائیک کا پتہ نہیں چل سکا ہمیں۔اس میں خان پالے خان خوستی کی مدح بیان کی گئ ہے۔
ہمارے ہیرو زندہ آباد
دوسروں کے ہیرو ہمارے لیے تب زندہ آباد جب ہمارے ختم ہو جائیں گے-

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Khan Pale Khan Khosti is a local heros article, and listed in the articles section of the site. It was published on 15 October 2020 and is famous in local heros category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.