1 ستمبر 1965 پاک فضائیہ کا اولین فضائی معر کہ

گو کہ بھارت نے چھ ستمبر 1965 کو باقاعدہ حملہ کیا لیکن سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ اس سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا ، یکم ستمبر 1965پاک آرمی کے بارھویں ڈویژن نے جنرل اختر ملک کی قیا دت میں آپریشن گرینڈ سلام شروع ہوا

دانش انور جمعہ اکتوبر

1 September 1965 Pak Fizayya Ka Awleen Fizai Marka
جنگ ستمبر کی تاریخ اور اس وران پیش آئے واقعات پاکستانی عوام کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، افواج پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ کی تاریخ میں اس جنگ کا ذکر کامیابیوں ، اس کے شہیدوں اور غازیوں کے ذکر سے بھر پور ہے، ایسا ہی ایک تاریخی دن یکم ستمبر 1965 کا بھی ہے ،گو کہ بھارت نے چھ ستمبر کو باقاعدہ حملہ کیا لیکن سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ اس سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا ، یکم ستمبر 1965پاک آرمی کے بارھویں ڈویژن نے جنرل اختر ملک کی قیا دت میں آپریشن گرینڈ سلام شروع ہوا، پاکستان کی بری افواج کی پیش قدمی تیزی سے جاری تھی ،چھمب کی فتح اب کوئی دیر کی بات لگتی تھی

لیکن ہمیشہ آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے والے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر وائس مارشل نور نے خود محاذ جنگ پر جا کر معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا، اپنی بری افواج کی خبر گیر ی کرنے کے لیے نور خان پاک آرمی کے ایک چھوٹے طیارے( سیسنا برڈ ڈاگ ایل۔

(جاری ہے)

19 ) میں سوار ہو کر محا ذ جنگ کا فضائی جائزہ لینے پہنچ گئے ، اب وہ پاک فوج کی بڑھتی سپا ہ کو آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے اچانک انکی نظر پاکستان آرمی کی ٹینکو ں پر پڑی جو ایک ترتیب میں دشمن پر حملے کے لیے آگے بڑ ھ رہے تھے ائیر وائس مارشل نو ر خان کو خیال آیا یہ ٹینک کسی بھی مخالف ایئر فورس کے لیے ایک پر کشش حدف ہو سکتے اور کوئی بھی دشمن ایئر فورس اس حدف کو زیاد ہ دیر تک نظر انداز نہیں کرے گی اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہو ئے انھوں نے فضائیہ کو حکم دیا محا ذ جنگ کے قریب تیار رہنے کا حکم دیا ۔


 دوسری جانب بھارتی افواج صرف چھ گھنٹے کی لڑائی کے بعد حو صلہ ہا رچکی تھیں ،شکست یقینی نظر آنے پر ان کا افسر فضائی مدد کے لیے وائر لیس پر چلا رہا تھا کہ جلدی سے وہسکی کی بو تل بھیجو ، یہ وہسکی کی بو تل ایک خفیہ پیغام تھی اور یہ خفیہ پیغام پاک فوج کے دستوں نے بھی سنا ،اور سنتے پیغام سنتے ہی پاک فضائیہ کو بھیج دیا گیا ، تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس پیغام سے دشمن کی کمک کس قسم کی امداد یا سامان حاصل کرنا چاہتی ہے ؟
اسی دوران پاک فضائیہ کو اپنے سربراہ ایئر مارشل نو ر خان کا پیغام موصول ہوا جس پر فوراً ہی دو ایف ۔

86 سیبر

محا ذ پر کی جانب روانہ ہو ئے ۔پاک فوج کے قدم تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے لیکن بھارتی فوج کی طلب کردہ وہسکی کی بوتل آچکی تھی جو حقیقت میں بھارتی فضائیہ کے چار لڑاکا اور دو بمبارطیارے تھے، ابھی دشمن کے چار لڑاکا ویمپائر طیارے حملے کے لئے اٹھے ہی تھے کہ پا ک فضائیہ کے شاہین آن کی آن دشمن پر جھپٹ پڑے ،یہ پاکستان اور بھارت کی فضائی تا ریخ کا پہلا با ضابطہ جنگی معرکہ تھا ، قوم کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے سکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی اور فلا ئٹ لیفٹیننٹ امتیاز بھٹی دشمن کی فضائی قوت پر قہر بن کر ٹو ٹے ،دشمن کے طیارے دو ، دو کی ترتیب میں محاظ جنگ پر منڈلا تے ہوئے پائے گئے تھے ،سرفرازرفیقی نے پہلے قریب ترین دو طیاروں کو اپنے نشانے پر لیا اور جب تک دونوں کو ٹھکانے نہ لگا دیا پیچھا نہ چھوڑا بقیہ دو کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری امتیاز بھٹی کی تھی جو انھوں نے خوب نبھائی ،

پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پلک جھپکتے میں دشمن کے چار ویمپائر لڑاکا طیاروں کا صفایا کردیا جب کہ کینبرا بمبار اپنے محا فضو ں کو گر تا دیکھ کر پاکستان آرمی پر جھپٹنا بھول کر فرار ہو گئے ۔

ایسی تندی ایسی تیزی کے پاک فوج کے سیکٹر آپریشنل اور بارھویں ڈیویژن کے کمانڈر جنرل اختر ملک بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اگر پاک فضائیہ کی مددجس طرح ہمیں یہاں ملی کہ ہمیں یقین ہو گیا اب ہم بے فکر ہو کر آگے بڑھیں ۔ بھارت کے ساتھ کسی بھی جنگ میں سب سے پہلی فضائی جھڑپ کا نتیجہ یہ تھا کہ 4-0 سے پاک فضائی نے کھاتہ کھول دیا تھا ،یہ ابتداء تھی اس فضائی بر تری کو جوتمام کی تمام جنگ ستمبر 1965 میں بر قرار رہی۔

بھارتی وایو سنہ پر اس کے اثرت بہت برے پڑے ،اس جھڑپ میں شکست کھانے کے بعد ویمپائر طیاروں کو فوری پر جنگی خدمات سے ہٹا دیا گیا ۔جس سے بھارتی فضائیہ کے جنگی مورال پر گہرا اثر پڑا۔
 سرفراز رفیقی بعد میں 6ستمبر 1965 کو بھارتی ہوائی اڈے ہلواڑا پر حملے کے دوران شہید ہو گئے ،انکو ہلال جرات سے نوازا گیا

سرفراز رفیقی کا شمار پاک فضائیہ کے بہترین پائلٹس میں ہو تا تھا، وہ بہترین پائلٹ ہی نہیں ایک دلیر شخص تھے ، جنگ میں 1965 میں ایک انتہائی اہم مشن پر انکو سیلسل چوہدری اور یونس حسن کے ہمراہ گئے ، ،افسوس کے اس معرکے میں سرفراز فریقی اور یونس حسنواپس نہ آسکے اور شہادت کا اعلیٰ مقام حاصل کیا، اس حملے کی روداد کچھ یوں ہے کہ رفیقی ہلواڑہ پر حملے کے دوران جب وہ کامیابی سے دشمن کے ایک ہنٹر (بر طارنوی ساختہ لڑاکا طیارے )کو تباہ کرنے کے بعددوسرے ہنٹر اپنے جہاز کو گن سائٹ پر لے چکے تب جہازکی تو پیں ناکارہ ہوگئیں ، رفیقی نے فوراً کمانڈ کے لیے سیسل چوہدری کو آگے آنے کی ہدایت کی ، یہ لمحہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھا ، جب رفیقی کو فواراً راہ فرار اختیار کرنی چاہیے تھی کیوں کہ اب وہ مزید اس طیارے کے ہمراہ جنگ لڑنے کے قابل نہیں تھے اور جنگ میں مزید فضا ء میں رہنا انکے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا یہی رائے سیسل چوہدری کی بھی تھی لیکن رفیقی کو گوارہ کب تھا کے اپنے رفیقوں کو دشمن کے رحم کرم پر چھوڑ آتے ، اور اپنے ساتھیوں کو قریب رہ کر راہنمائی کی کوشش کرتے رہے ، اسی دوران دشمن نے رفیقی کے طیارے کو ہٹ کردیا ،رفیقی کی شہا دت کے بعد یونس حسن بھی شہید ہو گئے مجبوراً سیسل چوہدری کو اپنے ساتھیوں کے بغیر ہی آنا پڑا،سیسل چوہدری نے 1971میں بھی کامیاب جنگی مشن انجام دیے،سرفراز رفیقی کیبارے میں بتا یا جاتا ہے کے انکا جسد خاکی ہلواڑہ کے گردونواح میں اسلامی طریقہ کار کے مطابق بھارت کے مقامی مسلمانوں سے ہی سپر د خاک کر وایا گیا۔

سرفراز احمد رفیقی کو انکی شہادت پر ہلال شجاعت سے نوازا گیا ۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

1 September 1965 Pak Fizayya Ka Awleen Fizai Marka is a local heros article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 October 2019 and is famous in local heros category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.