علی چوہدری کی”ڈیجیٹل سلطنت“

قومی ایوارڈوں کے حق دار یہ چند ”دوکاندار“ذہنیت کے مالک نام نہاد دانشور نہیں جنہیں سال میں ایک دن قومی زبان یا نظریہ پاکستان کا درد اٹھتا ہے اس شعبہ میں اعلی ترین سول اعزازکا حق دار یقینا علی چوہدری ہے جس نے نہ اردو زبان کو دنیا بھر میں پہنچایا

Mian Muhammad Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ اگست

Ali Chaudhry Ki Digital Saltanat
حکومت نے قومی زبان کی ترویج اور نظریہ پاکستان کے نام پر وفاق اور صوبوں میں سفید ہاتھی پال رکھے ہیں جو اربوں روپے وصول کرکے سال میں ایک آدھ رسالہ نکال کر‘قومی زبان کا دن مناکر اور چند رپورٹس مرتب کرکے اپنا ”فرض“پورا کرتے ہیں جبکہ چھوٹے بھائیوں سے بڑھ کر عزیزہمارا دوست اکیس سالوں سے ایک بھی منٹ کے وقفے کے بغیرسال کے 365دن قومی زبان کی ترویج وترقی اور نظریہ پاکستان کے فروغ کے لیے اپنی توانائیاں اور وسائل صرف کررہا ہے۔

قومی ایوارڈوں کے حق دار یہ چند ”دوکاندار“ذہنیت کے مالک نام نہاد دانشور نہیں جنہیں سال میں ایک دن قومی زبان یا نظریہ پاکستان کا درد اٹھتا ہے اس شعبہ میں اعلی ترین سول اعزازکا حق دار یقینا علی چوہدری ہے جس نے نہ اردو زبان کو دنیا بھر میں پہنچایا بلکہ دیار غیرمیں پلنے بڑھنے والی نوجوان نسل کو نظریہ پاکستان سے بھی آگاہ کیا ‘جس نے پاکستان کی آوازکو آسٹریلیا سے لے کر کینیڈا تک ‘ایشیاء ‘مشرق وسطحی‘روس‘وسط ایشیائی ریاستیں ہوں یا افریقہ ‘ یورپ اور لاطینی امریکا تک کوئی بھی اردوجاننے اور سمجھنے والا ایسا نہیں ملے گا جو ”اردوپوائنٹ“کے نام سے واقف نہ ہو. حکومتیں آج تک قوی زبان کی ترویج اور نظریہ پاکستان کے فروغ کے ایوارڈ ان لوگوں کو دیتی آئی ہیں جن کے گھروں میں بھی اردو نہیں بولی جاتی جن کے اپنے بچے تو مغربی رنگ میں رنگے ہیں اور وہ نظریہ پاکستان پر تقریریں کرکے اپنا الو یہاں سیدھا رکھتے ہیں جبکہ قومی زبان کے اتنے بڑے خدمتگار کو آج تک اس کی خدمات کا صلہ نہیں دیا گیا وہ صلہ چاہتا بھی نہیں یہ ہمارے اندر کا درد ہے جو آج الفاظ بن کر قومی زبان کا نوحہ پڑھ رہا ہے میری تمام پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ایک خط ضرور حکمرانوں کو لکھں شاید کسی مردہ ضمیرمیں زندگی کی رمق باقی ہو۔

(جاری ہے)

اردوپوائنٹ اس کا عشق ہے اس کا جنون ہے برسوں پہلے جب اس نے امریکا کی پرتعیش زندگی کو ٹھکرایا تھا تو دوست حیران تھے میرے عزیزدوست کے بالوں میں بھی سفیدی جھلکنے لگی ہے غالبا2000کا سن تھا جب میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی کچھ کرگزرنے کے جذبے سے بھرپور ایک توانا نوجوان ‘ اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر ایک کمپیوٹرسے نظریہ پاکستان اور قومی زبان کو دنیا میں پھلانے کے جذبے سے سرشار یہ وہ زمانہ تھا جب نہ ہائی سپیڈ انٹرنیٹ دستیاب تھا اور نہ ہی برق رفتار کمپیوٹرمگر عزم توانا ہوں تو محدودوسائل میں بھی کامیابی قدم چوم لیتی ہے۔

اس نے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں ایک نئی صنف کا اضافہ کیا ”ڈیجیٹل میڈیا“بلاشبہ علی چوہدری کو پاکستان میں ”ڈیجیٹل میڈیا“ کا بانی کہا جاسکتا ہے وہ زمانہ جب ہرکوئی ”ڈیجیٹل میڈیا“کے وجود اور اہمیت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا مگر وہ اپنی دھن کا پکا نکلا اور وقت نے ثابت کیا کہ اس کا فیصلہ بروقت اور درست سمت میں تھا آج جب دنیا بھر میں بھارت اور دیگر پاکستان دشمن عناصر اردو ویب سائٹس کے ذریعے نواجوان نسل کے ذہنوں میں لسانیت ‘فرقہ واریت‘نسل پرستی اور صوبائی تعصب کا زہر انڈیلنے کے لیے ہر حربہ آزما رہے ہیں تو حکومتی مدد ‘تعاون یا سرپرستی کے بغیرعلی چوہدری کی ”اردوپوائنٹ“ ڈیجیٹل دنیا کے محاذ پر وطن عزیزکی نظریاتی اساس کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں قومی زبان کے فروغ کے لیے پاکستان دشمن عناصر کے دانت کھٹے کرتی نظرآتی ہے۔

پاکستان میں بدقسمتی سے ذرائع ابلاغ کی کسی بھی نئی صنف کو اپنا آپ منوانے اور اہمیت کا احساس دلانے کے لیے دہائیاں بیت جاتی ہیں حکومت پاکستان اربوں روپے کے فنڈزسے اردو سائنس بورڈ اور اردو یونیورسٹی جیسے اداروں کے ذریعے وہ کام نہیں کرسکی جو اپنی مدد آپ کے تحت ”اردو پوائنٹ“نے کیا بالخصوص بیرون ممالک مقیم پاکستانی خاندانوں کی نئی نسلوں کو قومی زبان سے جوڑے رکھنے کے لیے علی چوہدری نے جو خدمات انجام دیں بلاشبہ اس کے لیے وہ اعلی سول ایوارڈ کا حقدار ہے۔

بدقسمتی سے حکومتیں تو اپنی جگہ صحافتی تنظیموں اور پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کے ”بڑوں“کو بھی ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت اور افادیت کا بروقت احساس نہیں ہوا مگر 20سال کے نوجوان کمپیوٹرسائنس کا طالب علم اس کی اہمیت اور افادیت سے بخوبی آگاہ تھا اس کی یہ کہہ کر حوصلہ شکنی کی گئی کہ ویب سائٹس کیا ہے‘اس کو کون دیکھے گا‘پاکستان میں لوگوں کو کمپیوٹرکا کیا پتہ وغیرہ وغیرہ آج انہی ناقدعین میں سے کئی اپنی ویب سائٹس بنا کر انہیں چلانے کے لیے زورآزمائی کررہے ہیں۔

یہ علی چوہدری کا کریڈٹ ہے کہ انہوں نے ”اردو پوائنٹ“کی صورت میں ایک گلوبل اردو کمیونٹی کی بنیاد رکھی میرے بیرون ممالک مقیم کئی پاکستانی دوستوں کا کہنا ہے کہ دیار غیرمیں ان کے بچے ”اردوپوائنٹ“کی وجہ سے قومی زبان اور پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں چاہے وہ خبروں کی صورت میں ہویا مضامین‘کتابیں ‘یا شاعری ہر لحاظ سے ”اردو پوائنٹ“کوایک مکمل فیملی ویب سائٹ کا اعزاز حاصل ہے صحافت کے خار زاروں میں 23سال سے دھکے کھاتے عمر کے اس حصے میں جاپہنچے ہیں جب دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ستانے لگتی ہے‘کئی سال تک اردو پوائنٹ کے لیے مضامین‘افسانے اور کہنانیاں لکھتا رہا اور ان کے فیڈبیک سے مجھے اردو پوائنٹ کی ”وسیع اثرات“کا اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت سے لیکر مشرق وسطی تک‘مشرق ہویا مغرب ‘افریقہ کے صحرا ہوں یا ہمالیہ کی بلندیاں جہاں جہاں اردو سمجھنے ‘پڑھنے اور بولنے والا موجود ہے وہاں تک علی چوہدری کی ”ڈیجیٹل سلطنت“قائم ہے۔

اردوپوائنٹ پر کئی مشکل وقت آئے کبھی پاکستان دشمن عناصر نے ہیکرزکے ذریعے حملے کیئے توکبھی دہشت گردوں کی طرف سے دھمکیاں مگر علی چوہدری کے کبھی قدم ڈگمگائے نہ اس نے دھمکیوں کی پرواہ کی یہ اس کا عزم اور جہدمسلسل کا ثمرہے کہ آج اس کا ”برین چائلڈ“21ویں سن میں جالگا ہے آج وہ ایک توانا جوان کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے امریکا میں قیام کے دوران میں اصل امریکا کو کھوجھنے اکثر دوردراز کے چھوٹے علاقوں میں نکل جاتا تھا ان علاقوں کے ہسپتالوں میں‘گیس اسٹیشنزاور چھوٹے کاروباروں میں آپ کے بہت سارے بھارتی خاندان ملتے ہیں اور کہیں کہیں پاکستانی بھی مل اتے ہیں”اندرون“امریکا کے ان علاقوں میں بھی مجھے اردو پڑھنے اور سمجھنے والا کوئی ایسا فرد نہیں ملا جو اردوپوائنٹ سے واقف نہ ہو۔

آج 21سال کے بعد جب کمپیوٹراور سمارٹ فونزہرکسی کی دسترس میں ہیں ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت اور افادیت میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ پرنٹ میڈیا تقریبا ختم ہونے کے قریب ہے(دنیا کے متعدد بڑے بڑے جرائد اپنے پرنٹ ایڈیشن بند کرکے آن لائن ایڈیشنز تک محدود ہوچکے ہیں)پاکستان میں بھی کوئی جریدہ یا نیوزچینل ایسا نہیں جس کی ویب سائٹ موجود نہیں تاہم وہ قارئین کی تمام ضروریات کو پورا نہیں کرتیں یہ انفرادیت صرف اردو پوائنٹ میں ہے کہ وہ قارئین کی تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے۔

حکومتیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو تو اشتہاروں اور گرانٹس کی صورت میں سپورٹ کرتی ہیں مگر ڈیجیٹل میڈیا جو انفارمیشن کو دنیا کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک انتہائی برق رفتاری سے پہنچاتا ہے وہ اپنے وجود کو تسلیم کروانے کے لیے مسلسل جدوجہد کررہا ہے۔صحافتی تنظیمیں بھی ٹی وی شوزمیں کام کرنے والے کامیڈینزتک کو صحافی تسلیم کرلیتی ہے مگر ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کو صحافی تسلیم کرنے کو تیار نہیں حالانکہ ہمسایہ ملک بھارت سمیت دنیا بھر میں ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کو صحافی تسلیم کیا جاتا ہے اوراگر یہ کہا جائے کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران جتنی زیادہ تحقیقاتی سٹوریاں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آئیں اور دنیا کے اہم ترین فیصلوں پر اثراندازہوئیں کسی اور میڈیم پر اس کی مثال نہیں ملتی موجودہ حالات میں جب اردوپوائنٹ جیسی ویب سائٹ جو کہ حقیقی معنوں میں ایک بڑی قومی خدمت انجام دے رہی ہے اس کا اعتراف حکومتی سطح پر کیا جانا چاہیے۔

تحریک انصاف جوکہ پاکستان کی نئی حکمران جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اس کی انتخابی جنگ میں ڈیجیٹل میڈیم کا بڑا اہم حصہ ہے افسوس کے پچھلے ایک سال میں ڈیجیٹل میڈیا کو سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کے دور حکومت میں ہوا ہے بھارت جیسے ملک میں جہاں ہندومذہبی جنوبی حکومت قائم ہے وہاں ڈیجیٹل میڈیا کو اتنے اشتہار مل جاتے ہیں کہ وہ باآسانی اپنے وجود کو قائم رکھ سکیں ۔

پاکستان میں ایک طرف ”ففتھ جنریشن وار“کی بات کی جاتی ہے تو دوسری جانب معاشی طور پر مین سٹریم ڈیجیٹل میڈیا کا گلا گھونٹا جارہا ہے جو اس ”ففتھ جنریشن وار“کا ہراول دستہ ہے۔تحریک انصاف کو چاہیے تھاکہ وہ اقتدار میں آتے ہی ویب سائٹس کے لیے ایک موثر پالیسی بناتی اور انہیں قومی وصوبائی حکومتوں کے سرکاری اشتہاروں میں سے ان کا جائزحق دیا جاتا مگر افسوس کہ ڈیجیٹل میڈیا کو سرکاری اشتہاروں میں اگر تھوڑا بہت حصہ ملتا بھی تھا وہ بند کرددیا گیا ہے‘اب یہ ” ففتھ جنریشن وار“ والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مین سٹریم ڈیجیٹل میڈیا کو اس کا حق دلوائے . یہ امرانتہائی افسوسناک ہے کہ پانچ سو تک کی اشاعت والے ڈمی اخباروں کو ماہانہ کروڑوں روپے کے سرکاری اشتہار جاری کیئے جاتے ہیں مگر ڈیجیٹل میڈیا کو اب تک صرف وعدوں پر ٹرخایا جارہا ہے حالانکہ اردوپوائنٹ دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں اردو پڑھنے والوں تک انفارمشن پہنچانے والی پاکستان کی واحد ویب سائٹس ہے جہاں ڈیجیٹل لائبریری ‘آن لائن لغت ‘ڈکشنری ‘خبریں اور دنیا جہان کے موضوعات کے سیکشن موجود ہیں اس کے علاوہ اردو ادب کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ذخیرہ”اردوپوائنٹ“پر موجود ہے. اردو ویب سائٹس کو سپورٹ کرنے کے لیے وفاقی وصوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور ریٹنگ کے لحاظ سے(اخبارات کی اے بی سی کی طرز پر)اشتہاروں کے کوٹے اور ریٹس کے لیے موثر اور قابل عمل پالیسیاں بنائیں۔

کورونا وائرس نے جس طرح دوسرے کاروباروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اسی طرح ”اردوپوائنٹ“جیسی مین اسٹریم ویب سائٹ پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں حکومت سے درخواست ہے کہ جس طرح اس نے مختلف صنعتوں اور کاروباروں کے لیے خصوصی پیکیج اعلان کیئے ہیں اسی طرح مین اسٹریم ویب سائٹس کے لیے بھی خصوصی پیکیج جاری کرئے یا کم ازکم اتنے سرکاری اشتہارات جاری کرئے کہ یہ ویب سائٹس معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار نہ ہوں کیونکہ ان کے ساتھ بھی ہزاروں کارکنوں کا روزگار وابستہ ہے‘قارئین بھی اشتہارات کی صورت میں زیادہ سے زیادہ ان ویب سائٹس کو سپورٹ کریں جو دہائیوں سے آپ کو مفت سروسزفراہم کررہی ہیں.اگر چہ آج بھی ون مین شو ویب سائٹس موجود ہیں مگر ان کی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اردوپوائنٹ جیسی ویب سائٹ جس نے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے بیوروقائم کرلیے ہیں جبکہ ہیڈ آفس میں کام کرنے والے ورکرزکی تعداد کسی صورت بھی بڑے اخباروں کے نیوزروموں سے کم نہیں ڈیجیٹل دنیا میں تبدیلیاں منٹوں میں وقوع پذیرہوتی ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے اسی حساب سے وسائل درکار ہوتے ہیں لہذا ان کی سرپرستی ضروری ہے۔

حکومتوں کے ساتھ ساتھ قارئین بھی سے اپیل ہے کہ اشتہاروں کی صورت میں اپنی محبوب ویب سائٹ کو سپورٹ کریں آج جب قوم وطن عزیزکا73واں یوم آزادی منارہی ہے تو اردوپوائنٹ فیملی یوم آزادی کے ساتھ ساتھ اردوپوائنٹ کی21ویں سالگرہ اس جذبے کے تحت منارہی ہے کہ ہم قومی زبان کی دنیا بھر ترویج کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Ali Chaudhry Ki Digital Saltanat is a local heros article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 August 2020 and is famous in local heros category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.