بول کو بولنے دو۔۔۔۔!

منگل 2 جون 2015

Imran Ahmed Rajput

عمران احمد راجپوت

حیرت انگیز بات ہے جون کی شدید گرمی میں پاکستان کی سیاست دسمبر کی ٹھنڈ کی طرح بالکل ٹھنڈی پڑی ہے۔ میڈیا ہاؤسیز کا دھندا چوپٹ ہوا پڑا ہے۔ بریکنگ نیوز پر اب ذوالفقار مرزا جیسے ایکسٹرا کا رول نبھاتے دکھائی دے رہے ہیں یا ایان علی ہُڈ ماڈلنگ کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ جب میڈیا ہاؤسیز کا اِن سے بھی کام نہیں چلا تو بے چاری ایگزیکٹ ہی کو بَلی کا بکرا بنا ڈالا جس کی آڑ میں بول کو بولنے سے روکا جارہا ہے آخر تم نے جرات کیسے کی پاکستان میں صحافیوں کواُن کی اوقات سے بھڑکر تنخواہوں کی آفر کرنے کی، آخر تم نے جرات کیسے کی سامراج سے پوچھے بنا اتنا بڑا میڈیا ہاؤس کھولنے کی ،آخر تم نے کہاں سے اتنی ہمت پیدا کی کہ تم طاغوت کے آگے بولنے کی جرات کرسکو۔

اتنی ہمت اتنی جرات تو بس اُسی میڈیا ہاؤس کو ہے جو کرپٹ سیاستدانوں کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانے کا ہنر جانتے ہوں جو آئین کی پامالی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جو اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانا یا خریدنا جانتے ہوں جسکا ریاست سمیت ہر ادارہ کچھ نا بگاڑ سکتا ہو۔

(جاری ہے)

تم کون ہوتے ہو کسی کو جگانے والے ،عوام کے منہ میں بول ڈالنے والے۔ ایگزیکٹ سے تو بعد میں پوچھیں گے پہلے تمھیں سائٹ کرنا ضروری ہے لہذا بحکم وزیرِاطلاعات بول کو بولنے سے پہلے ہی بند کردیا جائے قبل اِس کے کہ اِس کے بولنے سے سب کی بولتیاں بند ہوجائیں۔


قارئین جس طرح ملک پر کرپٹ مافیا کا قبضہ ہے جوہمیشہ کے لئے ملک پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ کوئی نئی سیاسی طاقت آکر اُن کو چیلنج کرے اِسی طرح کی سوچ اب مختلف میڈیا ہاؤسیز میں بھی پائی جانے لگی ہے جس طرح سیاست کے میدان میں دو پارٹیاں آپس میں دست وگریباں ہوتی نظر آتی ہیں یہی صورتحال اب پاکستانی میڈیاہاؤسیز میں بھی نظرآنے لگی ہے جو آپس میں ریٹنگ بڑھانے اور پیسہ کمانے کے چکر میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کے ترجمان بھی ششدر رہے جاتے ہیں۔

اور اب توبات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ کسی دوسرے کا وجود تک برداشت نہیں رہا اب کوئی کھول کر دکھائے نیا چینل کوئی کہہ کر دکھائے پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس کوئی دے کر دکھائے ہم سے زیادہ سیلری پیکج اُس کے وجود کو ہی جعلی ناں قرار دے دیا جائے تو کہنا۔ قارئین اِس طرح کی سوچ آئینہ دکھانے والوں کی بننے لگیں جب میڈیا ہاؤسیز پارٹیاں بننے لگے اور سیاسی پارٹیاں میڈیا ہاؤسیز کی رہنمائی کرنے لگیں تو سوچیں ملک کس نہج پر آچکا ہے ۔

کس سے منصفی چاہیں گے کس پر تکیہ رکھیں گے کون غریب کی ترجمانی کریگا کون قوم کی رہنمائی کریگا ۔حکمرانوں کا قبلہ درست کرنے نکلے تھے ارے تم تواپنے ہی خدا بھلا بیٹھے۔
بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
اقبال
عوام ہوشیار ہوجائیں وہ یہ جان لیں کہ اُن کا اب اللہ ہی حامی و ناصر ہے بریکنگ نیوز کے کارخانے اب اِن کی کوئی رہنمائی نہیں کرنے والے وہ تو خود اب اپنے ہم زولفوں کی بریکنگ نیوز بناتے پھر رہے ہیں۔


سول سوسائٹی اہلِ فکر طبقہ اور اصولِ صحافت کے ذمہ داروں کو میڈیا ہاؤسیز کی اِس روش کا سختی سے نوٹس لینا چاہیئے ۔ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ بند کر کے اپنا کام پیشہ وارانہ اصولوں کے تحت جاری رکھنے کی ضرورت ہے میڈیا کا کام ہے غیرجانبدار ہوکر عوام کو حقائق تک رسائی فراہم کرنا تاکہ عوام میں کھرے کھوٹے کی سمجھ بوجھ پیدا ہوسکے اور وہ شعورِ آگہی کے ذریعے اپنے بہتر مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کے قابل بن سکیں۔

میڈیا ہاؤسیز کی آپس کی چپقلش نہ صرف اُن کے لئے خود نقصان کا باعث ہیں بلکہ کہ ملک وقوم کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کا باعث بھی۔ ایگزیکٹ مجرم ہے یا نہیں یہ فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے میڈیا کا عدلیہ سے دو قدم آگے بڑھنا غلط طریقہ صحافت ہے ۔چاہے بول ہو یا کوئی دوسرا میڈیا گروپ سب کو اپنی صفائی پیش کرنے کا حق ہے اِ س لئے خدارا بول کو بولنے دیا جائے ۔

یاد رکھیں جو میڈیا گروپ عوام کی صحیح ترجمانی کریگا عوام کے حقوق کی بات کریگا ملکی مفاد کو ترجیح دیگا ملک کی تعمیرو ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریگا حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اتریگاوہی پاکستان کا سب سے بڑا اور عوام کا ہر دلعزیز میڈیا گروپ کہلائے گا ۔لہذا تمام میڈیا گروپس کو چاہئیے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں اور خالص عوام کی ترجمانی کریں یہ آپ کا فرض بھی ہے اور نصب العین بھی جو کہ آپ بھلائے بیٹھے ہیں۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :