سرخ فیتہ

اتوار ستمبر

Khalid Mehmood Faisal

خالد محمود فیصل

اہل جنوبی پنجاب کے لئے ان دنوں بڑی خبر الگ سیکرٹریٹ کا قیام، سرکاری افسران کے تبادلے اور نئی تقرریاں ہیں،اگرچہ بہاولپور والے بھی شاد ہیں کہ بڑی سرکار کا قیام ا نکے شہر میں ہوگا تو خوش اہل ملتان بھی ہیں ۔رحیم یار خاں کے باسی بھی پر امید ہیں کہ اب انھیں اپنی اپنی عرضی کے لئے لاہور کا رخت سفر نہیں باندھنا پڑے گا،معاملات” وسیب “ہی میں حل ہو جائیں گے،تخت لاہور سے بھی خلاصی ہوگی،الگ صوبہ کا خواب تو ہر بر سر اقتدار سیاسی جماعت نے جنوبی پنجاب کے شہریوں کو دکھایا تھا،لیکن اب انھیں جنوبی پنجاب کے لئے الگ مرکزی سرکاری دفتر پر راضی کر لیا گیا ہے،گویا موت دکھا کر بخار پر راضی کرنے کا فن تو اہل سیاست ہی سے کوئی سیکھے، ا س خطہ کو انتظامی اور لسانی تفرقہ کی بھینٹ چڑھایا کرانکی سادگی کا فائدہ اب تلک اٹھایا جارہا ہے،،ایک رائے یہ بھی ہے کہ فی زمانہ جب ہم گلوبل ویلج میں رہ رہے ہیں،ہر صوبہ کی انتظامیہ ای ۔

(جاری ہے)

گوورننس کے ذریعہ ہر شہری سے رابطہ استوار کر سکتی ہے،اس کے مسائل کو اسکی دیلیز پر حل کیا جا سکتا ہے،لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس وقت بھی سرکاری دفاتر میں عوام کی خواری ماضی کی طرح ہے،اگرچہ کچھ شعبہ جات نے عوام کو اس کا فائدہ پہنچانے کی پوری کاوش کی ہے مگر اکثر مقامات پر سرخ فیتہ اب بھی بڑی رکاوٹ ہے، ضلعی دفاتر سرکاری ملازمین کوفراہم کردہ مالی مراعات کے حصول کو بڑی آزمائش بنا دیتے ہیں،جن میں سے چند ایک کا تذکرہ قارئین کی نذر کیا جاتا ہے۔


گذشتہ دنوں محکمہ تعلیم ملتان سکولز کیڈرکے دفتر کسی کام کی غرض سے جانے کا اتفاق ہوا تو62 سالہ معلمہ کی بے بسی دیکھ کر سامراجی مزاج کی یاد تازہ ہو گئی موصوفہ فرما رہی تھی کہ بھاری بھر کرایہ لگا کر اورلمبی مسافت کر کے ملتان آئی ہوں،مگر اس کے بقایا جات کا کیس صرف ضلعی زنانہ دفتر سے چیف ایگزیکٹو دفتر تک ہی سفر کر سکا ہے،ابھی تو بہت سی منازل باقی ہیں، سرکار کے متعین آفیسر بتا رہے تھے کہ اب نئی پالیسی آگئی ہے، لیو ان کیش منٹ کے تمام کیسز جو اس دفتر سے ضلعی دفتر خزانہ جاتے تھے اب وہ وآپس ڈی ای ا وایلمنٹری دفتر جائیں گے،وہاں سے خزانہ دفتر جائیں گے اس میں کتنا وقت درکار ہے ہمیں نہیں معلوم ،موصوفہ ڈائری نمبر لئے مایوس کھڑی سوچ رہی تھی کہ نجانے کتنی بار کرایہ خرچ کر پھر آنا پڑے گا،جہاں تک دفتر خزانہ کا تعلق ہے ان کا” طریقہ واردات“ بالکل مختلف ہے،جی پی فنڈ،لیو ان کیش منٹ،یا دیگربلز جو وہاں جمع ہوتے اس پر اگر کوئی اعتراض ہوتا ہے تو متعلقہ اہلکار انھیں ایک مقام پر پھینک دیتے ہیں،وہاں پڑے پلندہ سے ڈھونڈنا اب آپکا فرض ہے آپکا جرم یہ ہے کہ آپ نے سرکاری خزانہ سے اپنا حق لینے کی گستاخی کی ہے،یہ دفتر اتنی زحمت نہیں کرتا کہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ یا فرد ہی کو اعتراض کی بابت مطلع کر دے،فی زمانہ تو میسج سے بھی ممکن ہے،جب تلک کوئی پرچول نہیں کرتایہ بل بے یارومدگار پڑے رہتے ہیں۔


برسبیل تذکرہ ایک فرض شناس افسر نے بتایا کہ گذشتہ مالی سال کے آخری روز بھی انھوں نے سرکاری ریٹائرڈ ملازمین کے چیک پاس کئے تھے مگر شومئی قسمت خزانہ میں پیسے نہ ہونے کی بدولت وہ کیش نہ کرائے گئے،اس وقت کم وبیش تمام سرکاری دفاتر کے پاس ملازمین کا ڈیٹا موجود ہے،اس کی بناء پر سالانہ کی بنیاد پر ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کے لئے بجٹ تو مختص کیا جاسکتا ہے تاکہ مالی مراعات بر وقت ادا ہو جائیں دفتری عملہ کو کسی خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شائد اس مشق کو گوورننس کا حصہ مانا ہی نہیں جاتا۔
ہمارا اگلا پڑاؤ بینوولینٹ فنڈ دفتر تھا،وہاں بھی صورت حال مختلف نہ تھی،روایتی طور پر سرکاری ملازمین کے بچوں کے تعلیمی وظیفہ کی درخواستیں ماہ فروری میں طلب کی جاتی ہیں، نان گزیٹڈ ملازمین کے بچوں کو وظیفہ،شادی گرانٹ ،تدفین کی رقم ہر ڈپٹی کمشنر آفس سے ملتی ہے ، یہ رقم جو ملازمین کی تنخواہ سے کٹوتی ہوتی ہے،وہاں بھی ملازمین کے مقدر میں دفتر کے چکر لگانا ہوتا ہے،موجود اہلکار صرف یہ بتاتے ہیں کہ ابھی اس ضمن میں میٹینگ ہونا ہے،اگر یہ وقوع پذیر ہوجائے،تو اگلا مرحلہ بجٹ کی منظوری کا درپیش ہوتا ہے وہ بھی طے ہو جائے تو اجراء باقی رہ جاتا ہے۔

حالانکہ ملازمین کی تنخواہ کی کٹوتی شدہ رقم سے تمام مراعات کی ادائیگی ہوتی ہے،گزیٹیڈ افسران کے لئے ملازمین کے بچوں کے وظائف،شادی گرانٹ،تدفین کے اخراجات کی ادائیگی الفلاح بلڈنگ لاہور میں واقع دفتر سے کی جاتی ہے وہاں کا وطیرہ بھی الگ تھلگ نہیں ہے،اگر کسی ملازم یا ملازمہ کی درخواست پر اعتراض ہے تو ملازم کو مطلع کئے بغیر ہی وہاں داخل دفتر کر دیا جاتا ہے، ،البتہ چند معروف اہلکار ان درخواستوں سے فون نمبر لے کر اپنی معاشی تبدیلی کے لئے از خود رابطہ ہی نہیں کرتے ،حل بھی پیش کرتے ہیں۔

راجن پور رحیم یار خاں میں بیٹھے آفیسر، بالخصوص معلمات اس سہولت کو غنیمت جان کر متوقع سفری اخراجات کو ” نذرانہ“ کے طور پیش کر کے پر امید ہوجاتے ہیں،کہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری گلے شکوے،اعتراضات دور ہو جائیں گے۔
خدا نخواستہ کوئی سرکاری ملازم یا ملازمہ دوران سروس وفات پا جاتا ہے،تو موجودہ قانون کے مطابق ساٹھ سال کی عمر تک اس کے پس ماندگان کو باقاعدہ ماہانہ کی بنیاد پر تنخواہ ملتی رہتی ہے لیکن اس کے لئے متوفی کی پوسٹ کو نئی شکل دینا پڑتی ہے،اس ضمن میں بہت سی دستاویز تیار کرنا پڑتی ہیں،اگر متوفی کی صرف بیوہ ہوتو اس کو بڑی مشکلات در پیش ہوتی ہیں،اگر ذریعہ معاش یہی ہوتو زندگی اور بھی محال ہو جاتی ہے مگر مشاہدہ میں آیا ہے،اسکو بھی دفتری چکر سے آزادی نہیں ملتی،جب تلک فائل کو دفتری زبان میں ”پہئے “ نہیں لگتے،اس طرز کے کیس کی تکمیل کی مدت کا تعین ہونا اور اسکو اولیت دینا لازم ہے، اگرچہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے ملازمین کو بر وقت مراعات اد کرنے کی بابت موجود ہیں لیکن اس کے باوجود بھی کوئی بھی دفتر سرخ فیتہ اور سامراجی انداز سے تاحال آزاد نہیں ہے، وقت کے ضائع سے بچنے،بار بار اعتراضات سے جھنجٹ سے چھٹکارا پانے کے لئے ہی، آج بھی” مٹھی گرم “کرنے کو بہت ہی آسان طریقہ مانا جاتا ہے۔


ایک زمانہ تھا جب ہمارا دفتری نظام اس طرح کی خرافات سے کلی طور پر آزاد تھا تو سائل کی عرضی پر مکمل کاروائی سے بذریعہ سرکاری خط اسکو آگاہ کیا جاتا تھا اور گھر بیٹھے بٹھائے اسکی داد رسی کی جاتی تھی،مگر آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں ہر ملازم یا ملازمہ کو لمبی مسافت طے کر نے کے بعد صرف یہ سننے کے لئے آنا پڑتا ہے کہ صاحب میٹینگ میں ہیں، بجٹ پاس نہیں ہوا،ابھی پالیسی نہیں آئی،کاورائی کے لئے اوپر ڈاک روانہ کی جاچکی ہے،جواب کے منتظر ہیں، سرکاری ملازمین کے ساتھ ان کے ”پیٹی بھائی“ ہی ایسا سلوک کرتے ہیں،ہمارے ملک ہی میں مسلح افواج کا ایک منظم ادارہ ہے جس میں کسی بھی آفیسر یا اہلکار کو دوران سروس یا ریٹائرڈ منٹ کے بعد بھی اپنی مراعات کے لئے دفتری خفت اٹھانا نہیں پڑتی، اگر جنوبی پنجاب کا سیکرٹیریٹ ان جدید خطوط پر کام کرے تاکہ خطہ کے عوام تخت لاہور کی ”غلامی “کے عہد کو بھول جائیں ،جب تک وزیر اعلی پنجاب دفتری نظام میں جدت نہیں لاتے یہ رسوائی سرکاری ملازمین اور عوام کا مقدر ہی رہے گی۔

تاحال قیام سیکرٹریٹ کے مثبت اثرات ملتان کی ضلعی انتظامیہ پر مرتب نہیں ہوئے،سرخ فیتہ کا ڈنکا آج بھی دفاتر میں بج رہا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Surkh Feeta Column By Khalid Mehmood Faisal, the column was published on 06 September 2020. Khalid Mehmood Faisal has written 105 columns on Urdu Point. Read all columns written by Khalid Mehmood Faisal on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.