پشاور کے تاجروں نے دہشتگردی کے باجودکاروباری سرگرمیاں جاری رکھ کر جہاد کیا ، مشتاق احمد خان

حکومت نے تاجروں کو امن اور سہولیات دیں اور انرجی بحران کو حل کیا تو ہمیں آئی ایم ایف اور ورلڈبینک سے مدد نہیں لینی پڑے گی، امیر جماعت اسلامی و صدر ملی یکجہتی کونسل خیبر پختونخوا

پیر اپریل 20:53

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) امیر جماعت اسلامی و صدر ملی یکجہتی کونسل خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پشاور کے تاجروں نے دہشتگردی کے باجودکاروباری سرگرمیاں جاری رکھ کر جہاد کیا ہے۔ حکومت نے تاجروں کو امن اور سہولیات دیں اور انرجی بحران کو حل کیا تو ہمیں آئی ایم ایف اور ورلڈبینک سے مدد نہیں لینی پڑے گی۔

تاجروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور ہر فورم پر ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ عدلیہ نے سیاست کے گند کو صاف کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ کرپٹ ٹولے اور مافیا کے خلاف فیصلے عوام کے دلوں کی آواز ہیں۔ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور مافیا کے خلاف عدلیہ کے دفاع میں آخری حد تک جائیں گے۔ جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر چند گھنٹوں کے وقفے سے دو بار حملہ پنجاب حکومت کی ناکامی ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی میں مختلف وفود سے ملاقات اور بعد ازاں نیو رامپورہ بازار کی نومنتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب حلف برداری سے نومنتخب صدر محمد عرفان پراچہ ، افضل خان، حاجی رمبیل خان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جے آئی یوتھ پشاور کے صدر صدیق الرحمن پراچہ بھی موجود تھے۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے نیو رامپورہ بازار کی نومنتخب کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب سے خطاب میں سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ پشاور کے تاجروں نے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے باوجود اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ کر پاکستان اور معیشت کو بچایا ہے۔ پشاور کے تاجروں کو وی وی آئی پی سٹیٹس دینا چاہئے۔ حکومت نے تاجروں کو نظر انداز کیا ہے، انہیں کسی قسم کی سہولیات نہیں دی جارہیں ، ٹیکسوں کی بھرمار ہے جس سے براہ راست تاجر برادری متاثر ہورہی ہے۔

حکومت تاجروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں بند کرے اور انہیں ٹیکس میں چھوٹ سمیت دیگر سہولیات دے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات میں فی لیٹر 45روپے کمارہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں، پٹرول سستا ہوتا ہے تو اشرافیہ کو فائدہ ہوتا ہے، مہنگا ہوتا ہے تو غریب کا نقصان ہوتا ہے، میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو کی پالیسی قبول نہیں ، حکومت پٹرولیم مصنوعات سستی کرے اور عوام کو ریلیف دے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اصل خطرہ کرپٹ سیاستدانوں سے ہے، کرپٹ سیاستدان امریکہ اور بھارت سے بڑا خطرہ ہیں جو ڈیموکریسی کو ڈاکو کریسی اور جمہوریت کو عبادت سمجھنے کے بجائے تجارت سمجھتے ہیں۔ تھوک کے حساب سے فروخت ہونے والے نہ لیڈر ہوسکتے ہیں نہ ہی سیاستدان ۔ بکنے والے انقلابی نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کوئی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنا ہے تو اقتدار جماعت اسلامی کے حوالے کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام بحرانوں کاواحد حل جماعت اسلامی کی تنظیم اور جماعت اسلامی کی قیادت ہے۔ کرپٹ مافیا نے ستر سال سے عوام اور ریاست کا خون چوسا ہے۔ عوام ووٹ کی طاقت سے ان کا احتساب کریں۔

متعلقہ عنوان :