بلوچستان کے سرگرم کارکن نے را کے کہنے پر سابق وزیراعظم نوازشریف کو شرمندہ کرنے کا اعتراف کر لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ اپریل 13:21

بلوچستان کے سرگرم کارکن نے را کے کہنے پر سابق وزیراعظم نوازشریف کو ..
امریکہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18 اپریل 2018ء) : امریکہ میں مقیم ایک بلوچستان کے سرگرم کارکن نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ پر ان کی تقریر کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کہنے پر ہی احتجاج کیاتھا تاکہ نواز شریف کو شرمندہ کیا جا سکے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر احمر مستخان نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے روتے ہوئے اپنے اس فعل کا اعتراف کیا، یہی نہیں بلکہ انہوں نے بتایا بھی کہ را نے کس طرح انہیں نواز شریف کو شرمندہ کرنے کا کہا تھا اور اس کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را نے مجھ سے کیا گیا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا باوجود اس کے کہ میں نے خود کو ہندوستان ، بھارت کا بیٹا کہا اور خود وندے ماترم کا نعرہ بھی لگایا۔

احمر نے بتایا کہ را کا ایک بندہ نگیش بھوشن بھارتی خفیہ ایجنسی را میں بلوچستان کے ڈیسک پر کام کرتا تھا۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ 22 اکتوبر 2015ء کو United States Institute for Peace (USIP) سے نواز شریف کے خطاب کے دوران احمر نامی یہ شخص بلوچستان کے حق میں بینر اُٹھا کر کھڑا ہو گیا تھا جس کے کچھ دیر بعد ہی سکیورٹی نے اسے پکڑ کر ہال سے باہر نکال دیا۔ اس کے بعد بھارتی میڈیا چینلز نے احمر سے بات کرتے ہوئے ان کا موقف جاننے کی کوشش بھی کی۔

احمر نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی تقریر کے دوران یہ حرکت کرنے کے لیےاسے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے ہی ہدایات دی تھیں، اور بدلے میں اسے مراعات اور امداد فراہم کرنے کا کہا گیا تھا لیکن را نے اپنا کیا ہوا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔ نواز شریف کے اسی دورے کے دوران احمر نے امریکی نیشنل اسمبلی کے باہر ''فری بلوچستان مہم'' کے نام سے احتجاج بھی کیا تھا۔