کوئٹہ، معمولی بارش کے بعد ٹریفک جام، راہ گیروں کو چلنے میں مشکلات سمیت بدامنی ،سٹریٹ کرائمز کے با عث شہری پریشان ہیں ،جماعت اسلامی

وزیرا علی سے برساتی نالوں کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن کا نوٹس لیے کر تحقیقات کرائیں، بیان

بدھ اپریل 22:56

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں شہر میں معمولی بارش کی وجہ سے ٹریفک جام وراہ چلنے میں مشکلات ،بدامنی ،سٹریٹ کرائمز پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیرا علیٰ کی کارکردگی کی تعریف کیساتھ ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں برساتی نالوں پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے نام پر کرپشن کی بھی تحقیقات کریں موجودہ وزیر اعلیٰ سے عوام کی بہت سے توقعات ہیں امیدہے وزیراعلیٰ شہر میں برساتی نالوں کے نام پر کروڑوں روپے ضائع ہونے کا نوٹس لیں گے ۔

کوئٹہ کے لاکھوں شہریوں کو تکلیف ومشکلات سے دوچار کرکے کروڑوں روپے برساتی نالے پر خرچ کیے گیے شہر کے تمام سڑکوں وگلیوں کو برساتی نالوں کی وجہ سے تنگ وآدھ کردیے مگر ان برساتی نالوں کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بڑی گاڑیاں ہمیشہ ان میں پھنس جاتے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کی جان کو بھی خطرات لاحق ہوئے ہیں کئی املاک کیساتھ شہریوں کی جان ومال کو بھی نقصان کا خدشتہ ہیں ۔

(جاری ہے)

بدقسمتی سے کروڑوں روپے خرچ کرکے برساتی نالے جس مقصد کیلئے بنائے گیے اس سے عام گندہ پانی تک گزررہے اس وجہ سے معمولی بارش کے دوران شہر کی سڑکیں سیلاب کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں بارش میں شہر سنسان ہوجاتا ہے ۔ نکاسی آب پر کروڑوں روپے کرپشن کی نظر ہوئے ہیں یہ رقم کہاں خرچ ہوئی کیسے خرچ ہوئی کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ جماعت اسلامی وزیر اعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ مدت ختم ہونے سے پہلے نکاسی آب منصوبے کی تحقیقات کرکے ملوث مجرموں کو قوم کے سامنے بے نقاب کریں تاکے قومی خزانے کی حفاظت کیساتھ عوام کے مسائل حل ہونے کی راہ ہموار ہوجائیں ۔

جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے عوام زندگی کے بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں شہر میں صفائی کانظام درہم برہم ہے بجلی وگیس لوڈ شیڈنگ ،بے روزگاری سمیت تعلیم وصحت کے مسائل بھی شہریوں کیلئے وبال بنے ہوئے ہیں منتخب نمائندے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دے رہے ۔شہر کے دوبڑے سرکاری ہسپتالوں میں بہت زیادہ رش ہیں جس کی وجہ سے سول وبی ایم سی ہسپتال میں عوام کو معیاری علاج وادویات نہیں مل رہے ۔

حکومت سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکو ڈیوٹی کا پابند کریں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائیں ۔شہر کے تعلیمی اداروں کو وسائل فراہم کرتے ہوئے اساتزئے کرام کو ڈیوٹی کا پابند کریں تعلیمی اداروں میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ واساتزہ پریشان ہیں بلوچستان میں ایک بار پھر بدامنی ٹارگٹ کلنگ کا شروع ہونا بھی لمحہ فکریہ ہے صوبائی دارالحکومت بھی بدامنی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہیں حکومت سیکورٹی فورسز امن کی بحالی کویقینی بنائیں ۔