پاکستان اپنی بھرپور کوششوں اور ڈونرز و شراکت داروں کی معاونت سے ملیریا پر قابو پانے کیلئے پرعزم ہے، ہم نے اس مرض پر قابو پانے اور خاتمے کیلئے مقامی وسائل کو بروئے کار لانا شروع کر دیا ، صوبائی حکومتوں کی جانب سے ملیریا پر قابو پانے کیلئے مختص فنڈز میں گزشتہ چند سالوں میں دوگنا سے زائد اضافہ کیا گیا،

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا 25ویں دولت مشترکہ سربراہ اجلاس کے موقع پر منعقدہ ملیریا کانفرنس سے خطاب

جمعرات اپریل 00:40

لندن ۔18 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی بھرپور کوششوں اور ڈونرز و شراکت داروں کی معاونت سے ملیریا پر قابو پانے کیلئے پرعزم ہے، ہم نے اس مرض پر قابو پانے اور خاتمے کیلئے مقامی وسائل کو بروئے کار لانا شروع کر دیا ہے، صوبائی حکومتوں کی جانب سے ملیریا پر قابو پانے کیلئے مختص فنڈز میں گزشتہ چند سالوں میں دوگنا سے زائد اضافہ کیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے 25ویں کامن ویلتھ ہیڈز آف گورنمنٹ میٹنگ 2018ء کے موقع پر منعقدہ ملیریا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے اس سمٹ کو ایک بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیلنجز کے باوجود پاکستان میں ملیریا پر قابو پانے کیلئے کوششیں کیں جو ڈبلیو ایچ او کی گلوبل ٹیکنیکل سٹریٹجی 2016ء تا 2030ء سے ہم آہنگ ہیں۔

(جاری ہے)

2013ء سے 2017ء کے دوران پاکستان میں ملیریا کے کیسز میں 80 فیصد سے زائد کمی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 2013ء کے بعد سے پاکستان کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں حشرات العرض سے بچائو فراہم کرنے والی 12 ملین مچھردانیاں تقسیم کی جا چکی ہیں،یونیورسل ہیلتھ کوریج کیلئے ملیریا کی تشخیص اور علاج کی خدمات دیہی اور دور دراز علاقوں تک پہنچائی جا رہی ہیں تاکہ عام آبادیوں اور پسماندہ طبقات کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملیریا کی تشخیص کی کوریج میں توسیع زیادہ تر ریپڈ ڈائیگناسٹک ٹیسٹ کٹس کی فراہمی کے ذریعے کی گئی ہے، اس کے علاوہ ملیریا سے متعلق مفت علاج کے لئے نجی شعبہ کو بھی ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملیریا انفارمیشن سسٹم کو فعال آن لائن ڈی ایچ آئی ایس۔2 کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ قابل اعتماد معلومات حاصل ہو سکیں۔

علاوہ ازیں تشخیص اور بچائو کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے موجودہ انفراسٹرکچر کو بڑھانے کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈبلیو ایچ او کے ایسٹرن مڈیٹیرین خطہ کے ممالک میں ملیریا سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سرحدی علاقوں میں ملیریا پر قابو پانے کی کوششوں میں تعاون اور موثر رابطہ کاری کیلئے ایران اور افغانستان کے ساتھ کراس بارڈر ملیریا نیٹ ورک قائم کیا ہے۔

علاوہ ازیں ہم نے ایشیاء بحرالکاحل کے ممالک کے ساتھ ایشیاء پیسفک لیڈرز ملیریا الائنس کے ذریعے مل کر کام شروع کیا ہے جو خطے سے ملیریا کے خاتمے کے حوالے سے ہمارے عزم کا عکاس ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ملیریا کے مکمل خاتمے کیلئے وسائل میں اضافے اور بہتر تعاون و انتظام کے ذریعے اپنی کوششیں مزید بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈبلیو ایچ او اور ملینڈا اینڈ گیٹس فائونڈیشن کے درمیان تعاون کو سراہتے ہوئے اس حوالے سے اپنی استعداد کار کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔

اس موقع پر پرنس آف ویلز نے کلیدی خطاب کیا جبکہ بل گیٹس نے بھی اظہار خیال کیا۔ سمٹ سے دولت مشترکہ کے مختلف رکن ممالک بشمول گیمبیا، گھانا، کینیا، موزمبیق، نمیبیا، یوگنڈا، نیوگنی، تنزانیہ اور زمببا کے رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔