ساحل ریجنل آفیس سکھر کی طرف سے میڈیا بریفنگ میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کے اعداد و شمار پیش کیے گئے

جمعرات اپریل 00:40

سکھر۔18اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) ساحل ریجنل آفیس سکھر کی طرف سے سکھرپریس کلب میں میڈیا کو ساحل کے پراونشل کو آرڈینیٹر برکت انصاری اور وکیل ارشاد علی گھانگھرونے ملک میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کے اعداد و شمار پیش کیے، ساحل کی ٹیم نے سال 2017 میں بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے سال 2017 میں پاکستان میں 3445 بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات پیش ہوئے یہ وہ رپورٹیڈ کیس ہیں جو پاکستان میں 91 لوکل اور نیشنل روزنامہ اخباروں میں شائع ہوئے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں تقریباًً 9 بچے روزانہ جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔

یہ سال 2016 کی نسبت 17% کمی ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

مجموعی طورپر3445 بچے جن میں 1368لڑکے اور 2077 لڑکیاں جنسی حوس اور زیادتی کا نشانہ بنائے گئے۔ لڑکیوں کے رپورٹنگ کے کیس لڑکوں کی نسبت زیادہ ہیں۔ جنسی زیادتی کے ان کیسوں میں 1039 لڑکو ںاور لڑکیوں زبردستی اغوا کیا گیا۔ 366 لڑکوں467 لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، 180 لڑکوں اور 158 لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی تشدد کے واقعات ہوئے۔

29 لڑکے اور 36 لڑکیوں کو جنسی زیادتی کے دوران قتل کیا گیا۔ سندھ میں933 کیس رپورٹ ہوئے۔ ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں پولیس کے پاس2505 کیس رجسٹرڈ ہوئے 32 کیس رجسٹر نہیں ہوئے۔ باقی 797 کیس کا اسٹیٹس معلوم نہیں ہو سکا۔سال 2017 میں33کیسوں میں لوگوں کو سزا ملی جس میں 7کیس ساحل نے لڑے۔۔سندھ میں سب سے زیادہ کیس خیرپور میں ,164 سکھر 57 لاڑکانہ ,66 ، کراچی میں 31 رپورٹ ہوئے۔