سندھ ہائیکورٹ کا کراچی میں بچوں کے اغواء اور گمشدگی سے متعلق درخواست پر بچوں کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم

جمعرات اپریل 13:43

سندھ ہائیکورٹ کا کراچی میں بچوں کے اغواء اور گمشدگی سے متعلق درخواست ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں بچوں کے اغواء اور گمشدگی سے متعلق درخواست پر بچوں کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت1oمئی تک ملتوی کردی ۔جمعرات کوسندھ ہائی کورٹ میں دو رکنی بینچ کے روبرو کراچی میں بچوں کے اغوا اور گمشدگی سے متعلق روشنی ہیلپ لائن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔

شہر سے مزید 2 بچوں کے اغوا کی تصدیق ہوگئی۔ 6 سالہ مرسلین اور 5 سالہ کاشف کے والدین عدالت پہنچ گئے۔ والدین نے عدالت کو بتایا کہ 6 سالہ بچی مرسلین کو قائد آباد سے اغوا کیا گیا۔ 5 سالہ کاشف کو ناظم آباد سے اغوا کیا گیا۔ پولیس حکام نے بتایا گمشدہ بچوں کی بازیابی کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔ وکیل روشنی ہیلپ لائن نوید احمد ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کراچی سے ہر سال 2 سے 3 ہزار بچے اغوا ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

تھانوں میں بچوں کے اغوا کے مقدمات درج کرنے کا کوئی طریقہ کار متعین نہیں ہے۔ ہر تھانے میں بچوں کے اغوا و گمشدہ ہونے سے متعلق الگ ڈیسک بنائی جائے۔ جب تک موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے بچوں کے اغوا کے واقعات نہیں رکیں گے۔ عدالت نے پولیس حکام کو بچوں کی فوری بازیابی کے احکامات دے دیئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ بچوں کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

عدالت نے سماعت 10 مئی تک ملتوی کردی۔ دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا 19بچے شہر کے مختلف علاقوں سے اغوا کیے گئے۔ بچوں کی عمریں ڈھائی سے 14 سال ہیں۔ گمشدہ بچوں میں کبری، مسلم جان، رابعہ، گل شیر، ابراہیم جاوید، بوچا، عدنان محمد، منزہ، نور فاطمہ، صائمہ، عبدالواحد، محمد حنیف، ثانیہ، سہیل خان بھی گمشدہ بچوں میں شامل ہیں