کراچی ، 2012 ء میں بھرتی ہونے والے تدریسی اور غیر تدریسی اساتذہ کاتنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج

جمعرات اپریل 20:34

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) 2012 ء میں بھرتی ہونے والے تدریسی اور غیر تدریسی اساتذہ نے جمعرات کوتنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ 2012 میں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ میں بحیثیت تدریسی اور غیر تدریسی اساتذہ بھرتی کیے جانے والے چند سو کارکنان آج تک تنخواہوں سے محروم ہیں ۔

(جاری ہے)

متعدد اپیلیں کرنے کے بعد بحالت مجبوری 350 سے زائد مظاہروں ، سیکڑوں مذاکرات ، گرفتاریوں اور پر تشدد کارروائیوں کے بعد یقین دہانی ، ثبوتوں کی فراہمی ، ارباب اختیار کے ازخود نوٹس کے باوجود ابھی کچھ نہ ہوا ۔ 2012 کے علاوہ تمام ایجوکیشن اور دیگر اداروں کے ملازمین کو بحال کیا گیا ۔ انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ جس طرح مختلف معاملات میں عدالت عظمی نے ازخود نوٹس لیے اس طرح ہمارے اس دیرینہ مسئلے کو بھی حل فرما کر انصاف کا بول بالا کریں اور سیکرٹری ایجوکیشن جو کہ سندھ گورنمنٹ کے وزیر اعلی کے احکامات کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔ ان کو پابند کیا جائے کہ ہماری تنخواہیں جاری کرتے ہوئے ہمیں فوری بحال کیا جائے ۔